مذہبی مضامین

رجب کے کونڈے

صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ، حضرتِ علّامہ مولانا، مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ماہِ رجب میں بعض جگہ حضرتِ (سَیِّدُنا) امام جعفر صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ایصالِ ثواب کے لیے پُوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز، مگر اس میں بھی اُسی جگہ کھانے کی بعضوں نے پابندی کر رکھی ہے، یہ بےجا پابندی ہے۔
اس کونڈے کے متعلق ایک کتاب بھی ہے جس کا نام ’’داستانِ عجیب‘‘ ہے، اس موقع پر بعض لوگ اس کو پڑھواتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں، (اس لئے) وہ نہ پڑھی جائے، محض فاتحہ دلا کر ایصالِ ثواب کریں۔
(بہارِ شریعت ج ۳ ص ۶۴۳)
اِسی طرح ’’دس بیبیوں کی کہانی‘‘، ’’لکڑہارے کی کہانی‘‘ اور ’’جنابِ سیِّدہ کی کہانی‘‘ سب من گھڑت قِصّے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں، اِس کے بجائے ایک بار سُوْرَۂ یٰسٓ پڑھ لیا کریں کہ دس قراٰنِ کریم ختم کرنے کا ثواب ملے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کونڈے ہی میں کھیر کھانا، کھلانا ضَروری نہیں، دوسرے برتن میں بھی کھا اور کھلا سکتے ہیں۔

ایصالِ ثواب (یعنی ثواب پہنچانا) قراٰنِ کریم و احادیثِ مبارَکہ سے ثابت ہے، ایصالِ ثواب دُعا کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے اور کھانا وغیرہ پکا کر اُس پر فاتحہ دلا کر بھی۔ کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت ہے، اِس کو ناجائز کہنا شریعت پر اِفترا (یعنی تہمت باندھنا) ہے۔ ناجائز کہنے والے پارہ 7 سُوْرَۃُ الْمَائِدہ کی آیت نمبر 87 میں بیان کردہ حکمِ الٰہی سے عبرت پکڑیں۔
چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ- اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (۸۷)
ترجَمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو۔ بے شک حد سے بڑھنے والےاللہ کو ناپسند ہیں۔

’’رَجَب کے کونڈے‘‘ کِس تاریخ کو کریں؟

پورے ماہِ رَجب میں بلکہ سارے سال میں جب چاہیں ایصالِ ثواب کیلئے کونڈوں کی نیاز کر سکتے ہیں، البتّہ مناسب یہ ہے کہ 15 رَجَبُ المُرَجَّب کو ’’رَجب کے کونڈے‘‘ کئے جائیں۔ کیوں کہ یہ آپ کا یومِ عُرس ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی فقیہِ ملّت جلد 2 صَفْحَہ 265 پر ہے: ’’حضرتِ (سَیِّدُنا) امام جعفرِ صادِق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نیاز 15 رجب کو کریں کہ حضرت کا وصال 15 ہی کو ہوا ہے۔‘‘ نیز مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب شرحِ شجرۂ قادریہ‘‘ صَفْحَہ 59 پر ہے: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو 68 برس کی عمر میں ([1]) 15 رَجَبُ المُرَجَّب ([2]) ۱۴۸؁ھ کو کسی شَقِیُّ الْقَلْب (یعنی سنگ دل۔ ظالم) نے زہر دیا، جو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کا سبب بنا۔
[1] سیر اَعلام النبلاء للذھبی ج۶ص۴۴۷۔
[2] شواہدالنبوۃص۲۴۵

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مزارِ اقدس، جنَّتُ الْبقیع (مدینۃُ المنوّرہ) میں والد محترم، حضرت سیِّدُنا امام محمد باقِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پہلو میں ہے۔ اللّٰہ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کھانا کھلانے کے ذریعے ایصالِ ثواب کرنا سنّتِ صحابہ ہے اور رجب کے کونڈے میں بھی غذا یعنی کھانے ہی کی چیز ہوتی ہے جو کہ ایصالِ ثواب کیلئے کھلائی جاتی ہے۔ چُنانچِہ

صحابہ سات دن تک ایصالِ ثواب کرتے۔

حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سات روز تک وفات پاجانے والوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے۔ (اَلْحاوِی لِلْفَتاوِی لِلسُّیُوطی ج۲ ص۲۲۳ )

صحابی نے ماں کی طرف سے باغ صدقہ کر دیا۔

بخاری شریف میں ہے: حضرتِ سیِّدُنا سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی امّی جان کا انتقال ہوا تو انہوں نے بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں حاضر ہوکر عرض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! میری امّی جان کا میری غیر موجودگی میں انتقال ہو گیا ہے، اگر میں ان کی طرف سے کچھ صَدَقہ کروں تو کیا انہیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں، عرض کی: تو میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا باغ ان کی طرف سے صَدَقہ ہے۔ (بُخاری ج۲ ص۲۴۱ حدیث ۲۷۶۲)
معلوم ہوا کھانا کھلانے کے علاوہ باغ یعنی مال خرچ کرنے کے ذَرِیعے بھی ایصالِ ثواب جائز ہے اور کونڈے شریف کی نیاز بھی مالی ایصالِ ثواب میں شامل ہے۔ میرے آقا، اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: امواتِ مسلمین (یعنی مرحومین) کے نام پر کھانا پکا کر ایصالِ ثواب کے لئے تَصَدُّق (یعنی خیرات) کرنا، بلا شبہ جائز و مُسْتَحسَن (یعنی پسندیدہ) ہے اور اس پر فاتحہ (کے ذریعے) سے ایصالِ ثواب (کرنا) دوسرا مُسْتَحسَن (یعنی پسندیدہ) ہے اور دوچیزوں کا جمع کرنا زِیادتِ خیر (یعنی بھلائی میں اِضافہ) ہے۔
(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص۵۹۵ )
ہر شخص کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام) کرے اُس کا ثواب اوّلین وآخِرین، اَحیاء و اَموات (یعنی سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر تاقیامت ہونے والے) تمام مؤمنین و مؤمِنات کے لیے ہدِیَّہ بھیجے۔ (یعنی ایصالِ ثواب کرے)، سب کو ثواب پہنچے گا اور اُسے (یعنی جس نے ایصالِ ثواب کیا) اُن سب کے برابر اجرملے گا۔
(ایضاً ص۶۱۷)
ایصالِ ثواب اچّھی نیّت سے کیا جائے اس میں نُمود و نمائش (یعنی دِکھاوا) مقصود نہ ہو، نہ اس کی اُجرت اور مُعاوَضہ لیا گیا ہو، ورنہ نہ ثواب ہے، نہ ایصالِ ثواب۔ یعنی جب ثواب ہی نہ ملا تو پہنچے گا کیسے!
(ماخوذ از بہار شریعت ج۱ ص۱۲۰۱ ج۳ ص۶۴۳)

دن مقرَّر کرنا

وسوسہ: تیجہ، چالیسواں، گیارہویں، بارہویں اور رجب کے کونڈے وغیرہ کے نام سے ایصالِ ثواب کے دن کیوں مخصوص کرلئے گئے ہیں؟

جواب وسوسہ:
ایصالِ ثواب کے لئے شریعت میں کوئی مدّت اور وَقت متعین (یعنی مقرّر) نہیں، البتّہ دن وغیرہ مقرر کرنے میں شَرْعاً حَرج بھی نہیں، وقت مُقرَّر کرنا دو طرح ہے (۱) شَرعی: شریعت نے کسی کام کے لیے وقت مقرَّر فرمایا ہو۔ مَثَلًا قربانی، حج وغیرہ (۲) عُرفی: شریعت کی جانب سے وَقت مقرّر نہ ہو لیکن لوگ اپنی اور دوسروں کی سَہولت اور یاد دہانی یا کسی خاص مَصلَحَت کے لیے کوئی وقت خاص کر لیں۔ جیسے آج کل مساجِد میں نمازوں کی جماعت کے لیے اوقات مخصوص کرنا وغیرہ، حالانکہ پہلے جماعت کے لئے وقت طے نہیں ہوتا تھا۔ جب نمازی اکٹّھے ہوجاتے، جماعت کھڑی کردی جاتی۔ بعض کاموں کے لیے تو خود سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وَقت مقرَّر فرمایا، نیز صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور بُزُرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے بھی ایسا کرنا ثابت ہے۔ مَثَلاً {۱} حضور پُرنور سیِّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہرسال شہدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قبروں پر تشریف لے جانے کا وقت مقرَّر فرمالیا تھا۔ ([1])

{۲}سنیچر (یعنی ہفتے) کے دن سرکارِ مدینہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مسجد قبا میں تشریف لانا۔ ([2])
بحوالہ: [1] مصنّف عبدالرزاق ج۳ ص ۳۸۱حدیث ۶۷۴۵
[2] مُسلِم ص۷۲۴ حدیث ۱۳۹۹

{۳} اورسیِّدُنا صدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دینی مُشاوَرت کے لیے وقتِ صبح و شام کی تعیین۔ ([1])

{۴} حضرتِ عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وعظ و تذکیر کے لیے پنجشنبہ (یعنی جمعرات) کا دن مقرر کیا۔ ([2])

{۵} اور عُلما نے سبق شروع کرنے کے لیے بدھ کا دن رکھا۔ ([3])
(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۹ ص ۵۸۵ ۔ ۵۸۶)

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button