یوپی

شیخ اسیدالحق قادری محدث بدایونی زمین کے اوپر ہمارے مرکز توجہ رہے اب نگاہ غوث اعظم کے حصار میں ہیں

مدرسہ فیضان غوث اعظم اوسہیت میں چھٹے سالانہ عرس شھید بغداد میں علما کا اظہار خیال

اوسہیت:ہماری آواز(نامہ نگار) شیخ سید الحق قادری محدث بدایونی اپنی خاندانی روایتوں کے پاسدار، اپنے بزرگوں کی خصوصیات، کمالات اور امتیازات کے امین تھے ان کی ذات میں جو صلاحیتیں استعدادیں پائی جاتی تھی وہ انہیں ورثے میں ملی تھیں۔ کہ خاندان میں جو بچہ پیداہوتا ہے ، وہ اپنے آباء و اجداد کا سربستہ راز ہوتا ہے۔ ان کی خوبیوں اور جاہ و جلال کا امین ہوتا ہے،بظاہر بچے کی ذات و فطرت سادہ ہوتی ہے مگر جو دانشور ہوتا ہے جس کے پاس دیدہ بینا ہوا کرتا ہے وہ اس سادہ سی ذات میں بھی چمن کی رعنائیوں اور گلشن کی بہاروں کو دیکھ لیتا ہے۔ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی امیرالعلما مولانا صوفی رفاقت علی ثقلینی نعیمی صدر تحریک پیغام سنیت نے مدرسہ فیضان غوث اعظم اوسہیت میں چھٹے سالانہ عرس شھید بغداد میں کیا۔بعد نماز فجر اولا قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا جس میں مدرسہ فیضان غوث اعظم اوسہیت کے طلبہ ودیگر افراد نے شرکت کی۔ بعدہ محفل عرس کا آغاز استاذ الحفاظ حافظ مظفر سالمی نے کیا۔ حافظ دلشاد ثقلینی ،مولانا اصغر علی رضوی ،حافظ بلال نوری،حافظ عامررضااوسہیت، مولانایونس برکاتی،مولاناھاشم ثقلینی نے نعتو مناقب کے حسین گلدستے پیش کیے۔
مفتی فھیم احمد ثقلینی ازھری نے اپنے مشاھدات کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہید بغداد عالم ربانی مقبول بارگاہ غوث اعظم علامہ شیخ اسید الحق قادری محدث بدایونی نے اپنے آپ کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے کردار وعمل کو اپنی فکری صلاحیت کا آئینہ دار بنا دیا،جہاں تک حوصلے کی بات ہے اس بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے حوصلے بلند تھے کبھی پست نہ ہوئے، ان کے عزائم میں بڑی پختگی پائی جاتی تھی کام کتنا ہی مشکل اور کٹھن کیوں نہ ہو انہوں نے اسے بھی بڑی خوبصورتی اور سلیقہ مندی سے انجام دیا۔ تپتی ہوئی ریت، جلتی ہوئی زمین، دھنستا ہوا دلدل ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا
صدر اجلاس مولانا اکبر علی قادری صدر تنظیم ائمہ مساجد اوسہیت و بانئ ومھتمم مدرسہ فیضان غوث اعظم نے کہا کہ حضرت شھید بغداد زمین کے اوپر رہےتو ہمارے مرکز توجہ بنے رہے اب نگاہ غوثیت کبری کے حصار میں ہیں،شیخ اسیدالحق محدث بدایونی ایک وسیع النظر ، منصف مزاج عالم وفاضل تھے ،جو جغرافیائی سطح پر عقیدت و محبت کی تقسیم کے قائل نہ تھے، اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن اس کم عمری میں بھی علوم جدید و قدیم پر انھیں ماہرانہ دسترس حاصل تھی وہ آداب زندگی سے خوب واقف تھے ہر شخص سے بڑے خلوص اخلاق تواضع سے پیش آتے تھے برصغیر پاک و ہند میں علم و ادب کی ایک معتبر شخصیت کا نام اسید الحق ہے،مصر میں رضویات پر پہلی تین کتابوں کی اشاعت آپ کے عطا کردہ بطور قرض پانچ سو ڈالر سے ہوئی تھی،۔
اختتام محفل پر مدرسہ فیضان غوث اعظم کے شعبہ حفظ کے ایک طلاب علم کا ختم شریف مولانا صوفی رفاقت علی ثقلینی نعیمی صاحب نے کرایا بعدہ فاتحہ اور صلاة سلام کا اہتمام کیاگیا ۔ اور مہمان خصوصی نے دعائے خیر اور ایصال ثواب پیش کیا ۔
اس موقع پر تحریک پیغام سنیت کے سکریٹری حافظ ضمیر احمد ثقلینی ککرالہ،مولانا شمیم حسین سالمی جمی نگلہ،حافظ اسلام ثقلینی بھنڈی،حافظ شفیع سالمی رمضانپور، مولاناھاشم ثقلینی سالارپور، حافظ آزاد نوری گورامئی،حافظ افضال نعمانی ثقلینی کھیڑاجلال پور والے،حافظ دانش ثقلینی ، حافظ زبیر رمضانپوری،حافظ سھراب خان ثقلینی محمدگنج، مولوی ولی الدین قادری،
سیدحسن علی سابق چیئر مین اوسہیت،خلیفہ حشمت علی قادری،سیدریاست علی،حافظ زبیر اوسہیت،مولاناشاداب قادری اور مولانا رحمت ثقلینی جامعی بڑودہ نے بطور خاص شرکت کی۔
یہ اطلاع تحریک کے میڈیا انچارج اور عرس شھید بغداد کے منتظم اور ناظم اجلاس مولانا منصور عالم قادری نے دی۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button