سیرت و شخصیات

سیماب اکبرآبادی: بحیثیتِ نعت گو

از قلم : محمد طفیل احمد مصباحی

فصیح المک داغ دہلوی کے جن قابلِ قدر تلامذہ کو غیرمعمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور جن کے شعری و نثری کارناموں نے اردو ادب کے کلاسیکی سرمائے میں بیش بہا اضافے کیے ، ان میں ایک معتبر اور نمایاں نام سیماب اکبر آبادی کا بھی ہے ۔ احسن مارہروی کے بقول ان کا شمار : ” داغ دہلوی کے نو رتن ” میں ہوتا ہے ۔ قدیم علمی و ادبی خاندان سےتعلق رکھنے والے سیماب کی ابتدائی تعلیم و تربیت دینی ماحول میں ہوئی ۔ زندگی کا معتد بہ حصہ اجمیر شریف میں گذرا ۔ ان کے والد مولانا محمدحسین مرحوم صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ وعظ و خطابت میں ان کا بڑا شہرہ تھا ۔ سیماب نے عربی ، فارسی اور انگریزی کی تعلیم اجمیر شریف میں حاصل کی ۔ ان کی ادارت میں رسالہ ” فانوسِ خیال ” یہیں سے شائع ہوتا تھا ۔ سیماب اکبر آبادی کی حیات و خدمات پر لکھنے والوں نے ان کی مذہبی زندگی اور ان کی مذہبی شاعری کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عالم ، مولوی ، مترجمِ قرآن ، سیرت نگار اور ” نعت گو شاعر ” کی حیثیت سے ان کا تعارف راقم کی ناقص معلومات کے مطابق بہت کم ہوا ہے ۔ ذیل کی سطروں میں اسی حوالے سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ سیماب کی نعتیہ شاعری پرگفتگو کرنے سے پہلے ان کی حیات اور شعری و ادبی خدمات پر ہلکی سی روشنی ڈالنا ضروری ہے ۔ لالہ سری رام ” خم خانۂ جاوید ” میں لکھتے ہیں:
ادیب الشعرا ، ابو الفخر جناب مولانا مولوی شیخ عاشق حسین صاحب صدیقی وارثی ، آگرہ آپ کا مولد اور آپ کے آباء و اجداد کا قدیمی مسکن ہے ۔ آپ کے والد مولانا محمدحسین مرحوم بڑے پایہ کے بزرگ اور صاحبِ تصنیف تھے ۔ سیماب 1881 ء میں پیدا ہوئے ۔ اجمیر شریف عربی ، فارسی ، انگریزی میں تعلیم حاصل کی ۔ پھر حضرت حاجی وارث علی شاہ صاحب ساکن دیویٰ کے مرید ہوئے ۔ پہلے منشی فسوں شاگردِ داغ سے مشورۂ سخن کرتے تھے ، پھر 1901 ء میں فصیح المک مرزا داغ دہلوی سے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان کی وفات کے بعد پھر کسی کے سامنے اپنا کلام بہ غرضِ اصلاح پیش نہیں کیا ۔ اب آگرہ کے استادانِ فن میں شمار ہے ۔ آپ اردو کے مشہور انشا پرداز ہیں ۔ اکثر رسائل آپ کے مضامین و کلام سے لبریز نظر آتے ہیں ۔ ہر قسم کی نظم لکھنے پر قادر ہیں ………. اس وقت تک مختلف مضامین کی 75 / کتابیں آپ کی تصنیف و تالیف سے شائع ہو چکی ہیں ،جو ہندوستان کے مختلف مطابع میں چھپی ہیں ۔ اجمیر شریف میں رسالہ ” فانوس خیال ” آپ کی ادارت میں شائع ہوتا تھا اور اب کئی سال سے ” آگرہ اخبار ” کے ایڈیٹر ہیں ۔ اطرافِ ملک میں آپ کے قریباً 80 / شاگرد ہیں اور سلسلۂ تلامذہ روز بروز بڑھتا جاتا ہے …….. مشہور شعرا پوشیدہ طور سے آپ سے اصلاح لیتے ہیں ۔ آپ نہایت منکسر المزاج ، سادہ وضع ، با اخلاق ہیں اور شہرت و قبولیت کے ہوتے ہوئے بھی جانشینیِ داغ دہلوی کے مدعی نہیں ۔ عمر کا زیادہ حصہ انگریزی دفاتر کی ملازمت میں صرف کیا ہے۔
(خم خانۂ جاوید ، جلد چہارم ، ص : 328 – 329 ، مطبوعہ : ہمدرد پریس ، دہلی)

تصنیف و تالیف:
سیماب اکبر آبادی بیک وقت نظم و نثر پر قدرت رکھتے تھے ۔ وہ جتنے بڑے شاعر تھے ، اتنے بڑے نثر نگار و انشا پرداز بھی تھے ۔ عرصۂ دراز تک شعبۂ صحافت سے وابستہ رہے ۔ ان کا اشہبِ فکر و قلم دونوں میدان میں صبا رفتار واقع ہوا ہے ۔ ” فانوسِ خیال ” اور ” آگرہ اخبار ” کے صفحات آج بھی ان کی قلمی فتوحات اور صحافتی خدمات کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔ سیماب کے سوانح نگار ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو کے قریب بتاتے ہیں ، جو حد درجہ حیرت انگیز ہے ۔ ضیا فتح آبادی نے اپنی کتاب ” ذکرِ سیماب ” میں ان کی کل چھوٹی بڑی منظوم و منثور 70 / کتابوں کی فہرست درج کی ہے ، جن میں سے بعض یہ ہیں:
( 1 ) وحیِ منظوم – قرآن شریف کا منظوم ترجمہ – ( 2 ) ریاض الاظہر – منظوم سوانحِ رسول ( 3 ) عزیز الخطب و جامع الخطب ( 3 ) ارشادِ احمد – مختلف احادیث کریمہ کا منظوم ترجمہ – ( 4 ) سدرۃ المنتہیٰ – دیوانِ غزلیات – ( 5 ) لوحِ محفوظ – مجموعۂ غزل – ( 6 ) کارِ امروز – نظموں کا مجموعہ – ( 7 ) الہامِ منظوم – مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ – ( 8 ) سازِ حجاز – نعتیہ و اسلامی نظموں کا مجموعہ – ( 9 ) سرودِ غم – سلام اور نوحے – ( 10 ) نفیرِ غم – مجموعۂ سلام و نوحہ – ( 11 ) تذکرۃ الرسول ( 12 ) بنت الرسول (13 ) بنت الرسول ( 13 ) سیرت الحسین ( 14 ) سوانح خواجہ غریب نواز ( 15 ) تذکرہ حیاتِ صابر ( 16 ) انوار العلاء – سوانح حضرت شاہ ابو العلاء – ( 17 ) حالاتِ حالی ( 18 ) چراغِ داغ دہلوی ( 19 ) کلیمِ عجم (20 ) دستور الاصلاح ( 21 ) سوانح زیب النساء بیگم ( 22 ) ساز و آہنگ ( 23 ) نیستان۔
(ذکرِ سیماب ، ص : 107 / 109 ، ناشر : رادھا کرشن سہگل ، سکریٹری بزمِ سیماب ، دہلی)

سیماب کی فکر و شخصیت کے مختلف رنگ و روپ ہیں ۔ ان کے چمنستانِ شعر وسخن میں رنگ برنگ پھول کھِلے ہیں ، جن کی عطر بیزیوں سے دبستانِ شعر و ادب آج بھی مشکبار ہے ۔ انہوں نے ملی ، قومی ، وطنی ، سیاسی ، عزائی ( منقبت و مرثیہ ) ، اصلاحی اورمقصدی شاعری کے ذریعے افادی ادب کی ترجمانی کی ہے اور اپنی قوم کو تعمیر و ترقی اور اصلاح و فلاح کا مثبت پیغام دیا ہے ۔ غزل گوئی سے شعر و سخن کے میدان میں قدم رکھا ، اس کے بعد نظم گوئی میں اپنی منفرد شناخت بنائی ۔ ان کے فکر و فن میں کافی تنوع پایا جاتا ہے ۔ سیماب حمد ، نعت ، منقبت ، سلام ، مرثیہ ، غزل ،نظم ، قطعہ اور رباعی غرض کہ جملہ شعری اصناف پر استادانہ مہارت رکھتے تھے ۔ اسی لیے تو کہتے ہیں :

میخانۂ سخن کا گدائے قدیم ہوں !!
ہر رنگ کی شراب پیالے میں ہے مرے

ایک عالم و فاضل اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سیماب کو مذہبی شاعری ( حمد و نعت و منقبت ) سے بڑی انسیت تھی ۔ ان کی مجموعی شاعری کا تقریباً چوتھائی حصہ مذہبی شاعری کا احاطہ کرتا ہے ۔ ان کی نعتیہ شاعری اور بالخصوص مذہبی شاعری ایک مستقل عنوان ہے ، جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ بہر کیف ! سیماب اکبر آبادی ایک مایۂ ناز نظم نگار اور قادر الکلام غزل گو شاعر کے علاوہ ایک اچھے نعت گو بھی تھے ۔ ان کی نعتیہ شاعری اپنے اندر بڑی کشش اور فکری و فنی جاذبیت رکھتی ہے ۔ سیماب کی مذہبی و نعتیہ شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر زرینہ ثانی کا یہ حقیقت آمیز تبصرہ ملاحظہ کریں :

سیماب کی شاعری کا ابتدائی دور اقبال کے دورِ سوم سے مشابہت رکھتا ہے ۔ ابتدا میں سیماب نے ایسی نظمیں کہیں جو جذباتِ اسلامی ، کیفیتِ ملی ، عشقِ خداوندی اور عقیدتِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جذبات سے لبریز ہیں ۔ اس دور میں وہ بادۂ تصوف سے سرشارنظر آتے ہیں ۔ ان کی روح پر ایک اُلوہی ( روحانی ) کیفیت طاری ہے ۔ ابتدائی دور کی ان نظموں میں اسلام کی برگزیدہ ہستیوں کی مدحت کے علاوہ ادبی نظمیں بھی نظر آتی ہیں ۔ شاعر خدا کی حمد و ثنا کرتے ہوئے اس کے عشق سے سرشار نظر آتا ہے ۔ ( ان کی مذہبی نظموں میں ) جوشِ عقیدت اور الفاظ کا ایک سیلِ رواں مل کر عجیب روحانی کیفیت طاری کر دیتا ہے ۔ اسی طرح مدحتِ پیغمبر ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وقت شاعر کی نظریں حدِ ادب سے نیچی رہتی ہیں اور زبانِ ترانہ ریز نذرِ عقیدت پیش کرتی ہے ، لیکن اس وقت بھی وفا و محبت کے نغمات سے وجدانی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔
( سیماب کی نظمیہ شاعری ، ص : 51 ؛ ناشر : سیماب اکاڈمی ، ممبئی )

” نیستان ” سیماب کی نظموں کا مجموعہ ہے ۔ اس کو انہوں نے چار خانوں میں بانٹا ہے اور پہلے حصے کو ” حجازیات ” کا عنوان دیاہے ، جو حمدِ باری تعالی ٰ، شہِ حجاز جناب محمدمصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ، بنتِ رسول سیدہ فاطمتہ الزہرا ، مؤذنِ اسلام حضرتِ بلال و حضور سیدنا غوث پاک رضی اللہ تعالی ٰ عنہم کی تعریف و توصیف پرمشتمل ہے ۔ ترانۂ وحدت کے عنوان سے یہ حمد بڑی پیاری ہے ، جس میں اللہ جل جلالہ کی ذات و صفات کا ذکر بڑے والہانہ انداز میں کیا گیا ہے ۔ ردیف کا حسن کانوں میں رس گھولتا ہے اور ذاتِ باری تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا نقشہ دلوں پر بیٹھ جاتا ہے :

یہ شمس و قمر ، یہ ارض و سما سبحان اللہ ، سبحان اللہ
ہر رنگ میں ہے تیرا جلوہ سبحان اللہ ، سبحان اللہ

عرشِ عالی ، فرشِ خاکی ، فردوسِ بریں ، پہنائے زمیں
یہ بھی ہے ترا ، وہ بھی ہے ترا سبحان اللہ ، سبحان اللہ

جلوے ترے گلشن گلشن ، سطوت تیری صحرا صحرا
رحمت تیری دریا دریا سبحان اللہ ، سبحان اللہ

تیری قدرت کا شاہد ہے ، تیری صنعت کا قائل ہے
قطرہ قطرہ ، ذرہ ذرہ سبحان اللہ ، سبحان اللہ

ہر پھول میں ، ہر خار میں تو ، ہر دشت میں تو ، گلزار میں تو
ہر شان نئی ، ہر رنگ نیا سبحان اللہ ، سبحان اللہ

” سازِ حجاز ” سیماب اکبر آبادی کا مشہور نعتیہ کلام ہے ۔ نعت کے علاوہ اس میں دیگر اسلامی نظمیں بھی ہیں ۔ اسی طرح ان کی نعت گوئی کے نمونے ” نیستان ” میں بکثرت ملتے ہیں ۔ نعت گوئی کے لیے محبتِ رسول ، عشق و وارفتگی ، سوز و گداز اور جذبِ صادق ضروری ہے ۔ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز یہ کلام ملاحظہ کریں :

پیام لائی ہے بادِ صبا مدینے سے
کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے

الہٰی کوئی تو مل جائے چارہ گر ایسا
ہمارے درد کی لائے دوا مدینے سے

حساب کیا کہ نکیرین ہو گئے بے خود
جب آئی قبر میں ٹھنڈی ہوا مدینے سے
ہمارے سامنے یہ نازشِ بَہار فضول
بہشت لے کے گئی ہے فضا مدینے سے

خدا کے گھر کا گدا ہوں ، فقیرِ کوئے نبی
لگاؤ ہے مجھے مکہ سے یا مدینے سے

نہ آئیں جا کے وہاں سے یہی تمنا ہے
مدینہ لا کے نہ لائے خدا مدینے سے

چلے بھی آؤ ضریحِ حسین پر سیماب
کچھ ایسی دور نہیں کربلا ، مدینے سے

( نیستان ، ص : 25 )

سیماب کے مجموعۂ کلام ” کارِ امروز ” میں شامل نظم ” رسولِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” واقعہ نگاری و سیرت نگاری کی اچھوتی مثال ہے ، جس میں فصاحت و بلاغت ، معنوی تہہ داری اور الفاظ و معانی کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے :

غلاموں کو دیا دل کھول کر پیغامِ آزادی
کیا احساسِ اعرابی میں رنگِ ارتقا پیدا

عرب سے تا عجم وحدت کا سکّہ کر دیا جاری
نیا بت خانے کے ماحول سے کعبہ کیا پیدا

سیاست کو کیا مذہب کے تابع اپنی قوت سے
مذاقِ سجدہ سر افرازیوں میں کر دیا پیدا

تمدن کو کیا آراستہ تہذیبِ کامل سے
تدبر سے کیا دنیا و دیں میں واسطہ پیدا

سلام اے صبحِ کعبہ ! السلام اے شامِ بت خانہ
تو چمکا بزمِ آزر میں بہ اندازِ خلیلانہ

حریمِ پاک تیرا اک بلند ایواں حقیقت کا
جہاں جبریل بھی ہے مختصر سا ایک پروانہ

کہیں تو زندگی پیرا بہ اعجازِ لبِ عیسیٰ
کہیں تو خطبہ فرما اوجِ طائف پر کلیمانہ

فروغِ آفرینش ، قوتوں پر تیری قائم ہے
کہیں تو شمعِ محفل ہے ،کہیں تو نورِ کاشانہ

کچھ اس انداز سے جلوہ نمائی تو نے فرمائی
بساطِ دہر پر ہے ذرہ ذرہ تیرا دیوانہ

( کارِ امروز ؛ ص : 33 ؛ ناشر : قصر الادب ، آگرہ )

گلشنِ طیبہ کی بَہاروں کا تذکرہ اور گنبدِ خضریٰ کےحسن و جمال کی منظر کشی نعت گوئی کے بنیادی موضوعات میں شامل ہے ۔ سیماب نے اس حوالے سے اپنے مخصوص لب و لہجے میں گنبدِ خضریٰ سے ایک عاشقِ دل گیر کی طرح خطاب کیا ہے اور اپنے عشق و وارفتگی کا ثبوت دیا ہے ۔ زبان و بیان کا حسن و دلکشی یہاں بھی اپنے شباب پر ہے اور شاعر کی فنی مہارت پر دال ہے :

اے بہارِ باغِ طیبہ ، گنبدِ سبزِ رسول
قبۂ فردوس یا گلدستہ ٔ طوبی ٰ ہے تو

جلوۂ فطرت سے ہے لبریز تیرا عرض و طول
کیا مدوّر مصرعِ برجستہ ٔ طوبی ٰ ہے تو

طورِ سینا کی طرح اے سبزۂ کانِ حجاز
جلوہ گاہِ احمدِمحمود بن جاتا ہے تو

معتکف کب تک رہیں گے تجھ میں سردارِ جہاں
پھیلتے جاتے ہیں آثارِ شبِ تارِ جہاں

جلوہ آرائی میں اب سرکار کی کیا دیر ہے
ہے تکلف اب بھی سورج کو جہاں اندھیر ہے

وجد میں آ ! توڑ دے اپنی حدودِ ظاہری
عرض کر ، سرکار کب تک یہ قیودِ ظاہری

اور چمکا دے شعاعِ آفتابِ آرزو
روئے روشن سے الٹیےبھی نقابِ آرزو

سیماب کی نعتیہ نظم ” خورشید ِ رسالت آغوشِ آمنہ میں ” حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ طیبہ کے بیان پر مشتمل ہے اور کمیت و کیفیت کے لحاظ سے خاصے کی چیز ہے ، جس میں نعت گوئی کے اصول و آداب کا بھرپور التزام ہے ۔عشق و عقیدت ، خلوص و صداقت ، واقعہ نگاری اور جذبِ دروں سے آراستہ یہ نظم تخلیقی نوعیت کی حامل ہے اور فکری و فنی سطح پر ناقدینِ سخن کو دعوتِ تحقیق و مطالعہ دیتی ہے :

چھانے کو سطحِ چرخ پر رحمتوں کی گھٹا چلی
جوشِ نمو فزوں ہوا ، پھول اڑے ، ہوا چلی
بھرنے کو اپنی جھولیاں رنگ بھری فضا چلی
صحنِ چمن میں ناز سے گاتی ہوئی ہوا چلی

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

مہرِ قِدم ہوا طلوع مشرقِ لا الہٰ سے
جلوہ نما ہوا فروغ برگ و بر و گیاہ سے
نورِ نہاں عیاں ہوا مطلعِ مہر و ماہ سے
نکلیِ عروسِ دلربا حسن کی بارگاہ سے

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

نورِ کمال ضوفگن چرخِ کمال سے ہوا
مہرِ کرم شعاع زن سطحِ جلال سے ہوا
پیکرِ عشق سایہ ریز بامِ مثال سے ہوا
جلوۂ حسن بے حجاب بزمِ جمال سے ہوا

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

سیماب اپنے وقت کے عظیم استاد شاعر تھے ، یہی وجہ ہے کہ ان کے فکر و فن میں استادانہ مہارت ، خیالات کی بلندی ، افکار کی پاکیزگی ، شعری پختگی ، اسلوب کی عمدگی ، مواد کا تنوع ، وضاحت و قطعیت اور لسانیات کے حوالے سےتخلیقی شان پائی جاتی ہے ۔ دیگر انواعِ سخن کی طرح ان کی نعت گوئی بھی ان ادبی محاسن سے آراستہ ہے ۔ وہ نعت کے صنفی تقاضوں سے واقف اور ان کی شرعی حدود و قیود سے بخوبی آگاہ تھے ۔ انہوں نے نعت کے مختلف موضوعات کو فنی مہارت اور شرعی احتیاط کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالا ہے اور بڑی کامیابی کے ساتھ اس پُر خار وادی کو عبور کیا ہے ۔ مذکورہ نظم کے یہ اشعار ملاحظہ کریں اور ان کے فکر و فن کی داد دیں :

شاخِ مرادِ آرزو شکرِ خدا ہری ہوئی
زینتِ ناز و حسن سے سطحِ زمیں پری ہوئی
وجہِ سکونِ دوجہاں نازشِ دلبری ہوئی
شاد ہے مادرِ حیات ، گود بھی ہے بھری ہوئی

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

زیبِ کنارِ آمنہ ہے شَرَفِ عُلی ٰ کا چاند
اور کہاں ہوا طلوع نور بھری ضیا کا چاند
اس کے مقابلے میں کیا آئے بھلا سما کا چاند
وہ مہِ آسمان ہے اور یہ ہے خدا کا چاند

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

قطرہ ہے بحرِ کائنات اس کے یمِ وجود کا
ذرہ ہے بزمِ دو جہاں آبروئے شہود کو
مژدۂ بخششِ گناہ فیض ہے اس کے جود کا
امتیانِ مصطفی ٰ ! وقت ہے یہ درود کا

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

چشمِ کلیم سے کہو دعوتِ حسن و نور ہے
مکہ کی ہر گلی گلی غیرتِ کوہِ طور ہے
دیکھ لیں اہلِ دل اگر دیکھنے کا شعور ہے
بہرِ زیارتِ نبی پاسِ ادب ضرور ہے

( صلِ علیٰ محمد ، صلِ علیٰ محمد )

اے مہِ آسمانِ فیض ! اک نگہِ کرم ادھر
دیکھ لے چشم ِ رحم سے خسروِ ذی حشم ادھر
جلوہ نما ہو ایک بار جلوہ گرِ حرم ادھر
طالبِ دید دیر سے چپکے کھڑے ہیں ہم ادھر

صل علیٰ محمد ، صل علیٰ محمد

( نیستان ، ص : 12 – 13 )

مذکور بالا اشعار کو کوئی ناقد محض نعتیہ یا مذہبی شاعری کا نام دے کرنظر انداز نہیں کر سکتا ۔ کیوں کہ یہاں موضوع کے تقدس کے ساتھ فنی ترفع اور فکری تموج اپنے نقطۂ انتہا پر فائز ہے ۔ سیماب اکبر آبادی نے جس صنف کو بھی اپنے شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے ، اس کو فکر و فن کا اعلیٰ نمونہ بنا کر چھوڑا ہے ۔ ڈاکٹر عنوان چشتی نے بجا لکھا ہے :

ڈاکٹر عنوان چشتی لکھتے ہیں :

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سیماب کے فکر و فن کی مختصر خصوصیات کیا ہیں ؟ تو میں کہوں گا : اظہار و اسلوب کی سطح پر توازن اور موضوع و مواد کی سطح پر تنوع ، جس سے ان کے ذہن کی وسعت اور تخلیقی بصیرت کا پتہ چلتا ہے ………. سیماب اکبر آبادی حلقۂ داغ کے اہم رکن اور اپنے دور کے زبردستِ مصلح ِ شعر تھے ۔ انہوں نے صدہاں شاگردوں کے کلام پر اصلاحیں دیں ۔ انہیں زبان و بیان کے سلسلے میں محتاط تو ہونا ہی تھا ، لیکن ان کے ہاں جمود اور روایت پرستی نظر نہیں آتی ۔ یہ ان کے متوازن شعری ذہن کا زبردست کارنامہ ہے ………. چوں کہ سیماب کا ذہن تخلیقی تھا ، اس لیے انہوں نے ذہن کے دروازے نئے ذخیرۂ الفاظ و اسالیب کے لیے کھلے رکھے اور نئے جواہر ریزوں کا خیر مقدم کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں کے ذخیرۂ الفاظ میں ایک طرف شعری زبان کے زندہ عناصر ملتے ہیں اور دوسری طرف نئے الفاظ کا سرمایہ بھی ، مگر ایک خاص شعورِ تخلیق کے ساتھ ۔ ان کے الفاظ و تراکیب کا بیشتر سرمایہ غرابت اور ثقالت سے پاک ، نیز زبان کے تخلیقی حسن کا حامل ہے ۔ سیماب کی شاعری میں نئے اور پرانے الفاظ کا تخلیقی حسن تو ہے ہی ، ان کے یہاں اسلوب کی سطح پر وضاحت اور رمزیت کا امتزاج ملتا ہے ۔

( مقدمہ سیماب کی نظمیہ شاعری ، ص : 9 – 11 – 12 ، ناشر : سیماب اکیڈمی ، ممبئی )

سیماب نے ذیل کی نظم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات ،حسن و جمال اورمعجزے کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں کیا گیا ہے ۔ معانی کی ندرت اور اسلوب کی جدت اس پرمستزاد ہے :

مشرقِ طائف کی فطرت میں جو آیا انقلاب
جلوہ گر سورج ہوا اک اور قبلِ آفتاب
بے عدیل و بے مثال و بے نظیر و لاجواب
مجتبیٰ ، بدر الدجی ٰ ، شمس الضحیٰ ، گردوں جناب
( آفتاب اس کے رخِ پر نور کا پروانہ تھا )

آمنہ کے گھر پہ چمکا مہرِ افلاکِ جلال
نورِ رحمت بن کے آیا نیّر ِ برجِ کمال
صبح سے پہلے ہوا آثار ِ شب کا انتقال
بن گئی خورشیدِ عالم وسعتِ حسن و جمال
( کون تھا جس کو نمودِ صبح کا دھوکا نہ تھا )

کون وہ شمس الضحی ٰ ، یعنی محمد مصطفی
باعثِ ارض و سما ، وہ خاتمِ کل انبیا
احمدِ مرسل ، رسول و فخرِ ” لولاک کما "
رازِ دو عالم ، کلیدِ ” کنت کنزا مخفیا "
( وہ کہ ان سے قبل دنیا میں کوئی ان سا نہ تھا )

رحمتِ عالم ، شہِ کونین ، سردارِ جہاں
راحتِ جانِ دو عالم ، زینتِ کون و مکاں
جب ہوئے پیدا تو آیا انقلاب اک ناگہاں
بید کی مانند کانپا ” قلعۂ نوشیرواں "
( سرنگوں ہیبت سے مکہ کا ہر ایک بت خانہ ہوا )

( ایضاً ؛ ص : 14 – 15 )

شہنشاہِ کائنات جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرت و حکومت ، سراپائے اقدس ، شانِ شفاعت ، تصرف و اختیار ، اعجازِ مسیحائی ، جود و عطا ، اخلاقِ حسنہ و دیگر اوصافِ فاضلہ کو اجاگر کرنے والے یہ اشعار اپنے مواد و اسلوب کے لحاظ سے قابلِ قدر ہیں :

تو خلق کا مولی ٰہے ، تو سرورِ عالم ہے
تو سرّ ِمعظم ہے ، تو خُلق مجسّم ہے
تو شافعِ محشر ہے ، تو شاہِ مکرّم ہے
اے وصف سے بالا تر جو کچھ بھی کہوں کم ہے

موسیٰ کا یدِ بیضا ، ہے دستِ کرم تیرا
یوسف کا رخِ زیبا ، ہے حسنِ قدم تیرا
بھرتا ہے دمِ عیسیٰ کس شوق سے دم تیرا
خُلت میں براہیمی مسلک ہے اتم تیرا

( اے وہ کہ تو سب کچھ ہے )

ہے دین ترا ناسخ ادیانِ گزشتہ کا
کچھ اور ترے دم سے نقشہ ہوا دنیا کا
مہمان تجھے کہتے ہیں سب عرشِ معلیٰ کا
اور عرش کو لکھتے ہیں سایہ قدِ بالا کا

( اے وہ کہ تو سب کچھ ہے )

سایہ کہیں سورج نے دیکھا نہ ترے قد کا
تو نورِ الہٰی ہے ، غنچہ گلِ سرمد کا
جو حسن ہے بیحد ہے ، جو وصف ہے ہے حد کا
جچتا ہے مگر تجھ پر ہر حرف محمد کا

( اے وہ کہ تو سب کچھ ہے )

استغاثہ و فریاد نعت کا ایک اہم عنصر ہے ۔ جس طرح ایک پریشان حال انسان دنیاوی حاکم کے پاس نہایت عاجزی کے ساتھ روتا ہے ، گڑگڑاتا ہے اور اس سے مدد کی اپیل کرتا ہے ، اسی طرح ایک سچا عاشقِ رسول اور نعت گو شاعرشہنشاہِ کونین علیہ افضل الصلاۃ والسلام کے با عظمت دربار میں نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ اپنی عرضی لگاتا ہے ، استغاثہ پیش کرتا ہے اور مسیحائے کائنات سے اپنی حاجات کی تکمیل کی درخواست کرتا ہے ۔ سیماب کی نعتیہ شاعری عشق و عقیدت اور جاں سوزی و گرویدگی کی ایک بہترین مثال ہے ۔ استغاثہ و فریاد پرمشتمل اشعار ان کے یہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً :

یا نبی ! اب تو ہو للہ عنایت کی نظر
بڑھ چلی حد سے زیادہ خلشِ زخمِ جگر
حال یہ ہے کہ ہوا دہر میں جینا دو بھر
قوتِ ضبط ہے امکانِ سکوں سے باہر
کشمکش رنگ انوکھا کوئی لائے نہ کہیں
دلِ بیتاب تڑپ کر نہ نکل آئے کہیں

تجھے اللہ نے بخشی ہے حیاتِ ابدی
عالم قدس میں باقی ہے یوں ہی روح تری
وقت امداد کا ہے خُد بِیدی ، خُذ بیدی
مرحبا !! سیدِ مکی مدنی العربی
شانِ اسلام زمانے پہ عیاں کر ، آ جا
کفنی پہنے ہوئے قبر سے باہر آ جا

اے عربی مطلبی الغیاث !
اب ہے پڑی تشنہ لبی الغیاث
کہتے ہیں سب شیخ و صبی الغیاث
امتِ بیکس کے نبی الغیاث

سیماب کی نعت گوئی کا ایک معتبر حوالہ اور ان کا فکری و فنی سرمایہ وہ ” نعتیہ مسدس ” بھی ہے ، جو دو سے زائد اشعار پر مشتمل ہے ۔ فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی ، صفائی و برجستگی ، تشبیہات و استعارات ، صنائع و بدائع ، شوکتِ الفاظ ، دلکش تراکیب ، عمدہ اسالیب اور زورِ معانی میں یہ نعتیہ مسدس کسی بھی جہت سے ” مسدس حالی ” سے کم نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ راقم الحروف اس عنوان ( سیماب کا نعتیہ مسدس ) پر ایک مضمون عنقریب قارئین کی خدمت میں پیش کرے گا ۔ نمونے کے طور پر مسدس کے یہ دو شعر نذرِ قارئین کرتے ہوئے ہم اپنے مضمون پر ” تمت بالخیر ” کی مہر لگاتے ہیں :

مظہرِ ذاتِ خدا ، مصدرِ اسرارِ خدا
منبعِ نورِ خدا ، مشرقِ انوارِ خدا
مخزنِ صدق و صفا ، معدنِ آثارِ خدا
مرکزِ جود و سخا ، باعثِ اظہارِ خدا
ناز کرتی ہے خدائی میں نبوت تم پر
تم ہو ایسے کہ ہوئی ختم رسالت تم پر

راستہ منزلِ وحدت کا دکھایا تم نے
راہِ گم کردہ کو رستے پہ لگایا تم نے
کفر کا نام زمانے سے مٹایا تم نے
خوابِ غفلت سے خدائی کو جگایا تم نے
تم ہو اسلام کا کاشانہ بنانے والے
عیش خانوں کو خدا خانہ بنانے والے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button