سماج و معاشرہ

انسانی فطرت میں پنہاں اجتماعیت

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

انسان کی فطرت میں اجتماعیت پنہاں ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو پیدا کرکے اس کی ضروریات کو ایک دوسرے سے وابستہ کر دیا ہے یہ چاہے بھی تو دوسروں سے بے نیاز اور الگ تھلگ رہ کر زندگی بسر نہیں کر سکتا مثلاً غذا ہی کو لے لیجئے کہ جس کی اسے صبح و شام ضرورت پڑتی ہے تنہا اس کے حصول کے لئے کتنے لوگوں کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہے آناج آئے گا پھر چکی میں پیسے گا پھر ایک شخص اسے گوندے گا اور پکائے گا تب کہیں جا کر یہ دسترخوان کی زینت بنے گا مگر اس سے پہلے آلات زراعت بھی تو تیار ہوں گے اس لیے کسانوں کے ساتھ ساتھ بڑھئی اور لوہار کا بھی اضافہ ہو گا گویا ایک لقمہ حلق میں اتارنے کے لیے ہمیں اتنے لوگوں کو کام میں لانا پڑے گا ۔
ایک دوسری مثال سے سمجھئے ہمیں اس اجتماعیت کی ضرورت دفاع اور بچاؤ کے نقطہ نظر سے بھی پڑھتی ہے حیوانات صحیح معنوں میں انفرادی زندگی بسر کر سکتے ہیں کیونکہ ان کو خطرات سے بچاؤ کے لئے تلوار ، ڈھال اور ہتھیار وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اللہ تعالی نے انہیں ایسی کھال بخشی ہے اور سینگ پنجے ناخن اس طرح کے عطا کیے ہے کہ وہ ان سے بخوبی آلات دفاع کا کام لے سکتے ہیں ۔
لیکن انسان کے پاس خوفناک درندوں سے بچنے کے لئے فطری طور پر کوئی ہتھیار نہیں ہے اس لیے انسان کو اجتماعیت کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ آپس میں مل جل کر ہتھیار بنائیں اور پھر اجتماعیت کے ساتھ حوادثات کا مقابلہ کریں تو اس دفاعی ضروریات نے بھی انسان کو مجبور کیا کہ یہ مل جل کر رہے اس لحاظ سے اجتماعیت انسانی زندگی کے لئے ضروری ٹھہری ورنہ اس کی تخلیق کا منشا پورا نہیں ہو پاتا ۔
اب سمجھیے کہ جس طرح انسان میں اجتماعیت ایک فطری چیز ہے اسی طرح ہر انسان کے اندر فطرت حیوانی بھی ہے اور ہر ہر شخص میں چونکہ طبیعت حیوانی کے داعئے اور تقاضے موجود ہیں اس لئے لیے معاملہ عدل و انصاف کی بنیادوں پر طے نہیں ہو پائے گا کیونکہ اس صورت میں ہر آدمی یہی چاہے گا کہ دوسرے پر ظلم کریں اور اس کو اس کے جائز حقوق سے محروم کر کے نفع اور مفاد کی پوری مقدار اپنے ہی دامن میں ڈال لے اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ملک میں فساد واقع ہوگا جس کو روکنے کے لیے ایک نظام قانون کی ضرورت پڑیگی جو مختلف گروہوں کو ظلم و تعدی سے باز رکھ سکے اور انصاف کو قائم رکھ سکے لہٰذا معلوم ہوا کہ نظام قانون کو ماننے کا جذبہ بھی انسان میں فطری ہے لیکن یہ جذبہ بتقاضائے جبلت نہیں ہے بتقاضائے سیاست اور فکر کے ہے ۔
تو اب نظام کیسا ہو: جو نظم و نسق کو برقرار رکھ سکے لہذا نظم و نسق کی بقاء کی خاطر تین طرح کے نظام قانون وجود میں آتے ہیں ۔
(1) ایک بادشاہت کا لیکن بادشاہ چونکہ عصبیت کے بل بوتے پر حکومت کرتا ہے اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا ابھر آئے جو بادشاہ کی عصبیت سے زیادہ عصبیت رکھتا ہو اور وہ ایسی حیثیت اختیار کرلے کہ بادشاہ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے تو اس صورت میں دونوں میں بغاوت ہو گی اور نظم و نسق میں فتنہ و فساد برپا ہو جائے گا ۔
(2) دوسرا نظام جو سیاسی اور دنیاوی قوانین کی بنا پر تشکیل پذیر ہوتا ہے اورجس کو سب مانتے ہو جیسے ایرانیوں کا نظام ہے یا ان دوسری قوموں کا نظام جو دین کو نہیں مانتے یعنی اس کو سیکولر کہہ سکتے ہیں اب سیکولر قانون کون بناتے ہیں ظاہر ہے کہ کچھ دانشور حضرات مل جل کر بناتے ہیں یہ بھی (suitable) نہیں کیونکہ ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں اور ان کے مختلف عقائد اور رسومات اور مذہبی سرگرمیاں ہوتی ہیں لہذا ہر کسی کی خواہشات کا احترام کرنا تقریباً ناممکن ہے اب دو صورتیں پیدا ہوتی ، یا تو لوگوں میں مذہب بیزاری پیدا ہو جاتی ہے اور وہ مفاد پرست بن جاتے ہیں اور ان کے اندر انسانیت ہمدردی اور بھائی چارگی جیسی کوئی چیز موجود نہیں رہتی یا پھر یہ کہے کہ جب قانون بنانے والوں کا احترام دلوں میں رہتا ہے تو اطاعت اور فرماں برداری کی گاڑی سہولت سے چلتی رہتی ہے لیکن جوں ہی ان کے قوانین کا احترام اٹھ جاتا ہے تو نظم و نسق کا سارا خانہ چوپٹ ہو جاتا ہے ۔

یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر
کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں

دوسری بات دین و مذہب سے سیاسی قوت میں بھی اضافہ ہوتا ہے کیونکہ دین تمام خواہشات اور آرزوؤں کو حق کی جانب موڑ دیتا ہے اس سے اک طرح کی بصیرت پیدا ہوتی ہے جس کا کسی سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ وہ حکومتیں جو دین کی نعمت سے محروم ہوتی ہے اگرچہ تعداد میں کہیں زیادہ ہو لیکن ان کی برابری نہیں کر سکتی جو دین پر قائم ہوں اور جب ان سے لڑتی ہے تو لامحالہ شکست کھاتی ہے اور ذلیل ہوتی ہے کیونکہ ان کے اندر کوئی متحدہ غرض ہی نہیں ہوتی جو ان کے اندر جوش اورشجاعت کے جذبات پھیلائے یہ موت سے ڈرتی ہیں اور جنگ و پیکار سے عہدہ برآں ہونے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہیں کر پاتی۔تاریخ میں اس کی سینکڑوں مثالیں آپ کو مل جائے گی مثلاً مسلمانوں کو جو بے پناہ فتوحات حاصل ہوئی وہ اسی سبب سے ہوئی کے مسلمان دین سے بہرہ مند تھے اور مخالفین میں دینی نقطہ نظر مفقود تھا جنگ قادسیہ اور جنگ یرموک کی معرکہ آرائیوں کو دیکھیے کہ مسلمانوں کی فوجیں تیس ہزار سے کچھ ہی اوپر تھی مگر ان کے مقابلے میں واقدی کی روایت کے مطابق اہل فارس کی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی اور رومی سپاہی چار چار لاکھ کی تعداد میں میدان جنگ میں اترتے تھے لیکن اس کثرتِ تعداد کے باوجود ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
(3) اب رہا سیاست دینی کا معاملہ جو شریعت کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے یہ زیادہ نافع ہے کیونکہ اس میں صلاح دنیا کے ساتھ ساتھ صلاح آخرت کا بھی اہتمام ہے اسی نظام کو انبیاء علیہم السلام چلاتے ہیں اور ان کے بعد ان کے خلفاء ان کی قائم مقامی کرتے ہیں یہ بادشاہت کی طرح عصبیت پر بھی مبنی نہیں ہوتا، اور سیکولر نظام کی طرح اس میں دینی بیزاری بھی نہیں ہوتی ، اور اس میں حکومت اور اقتدار صلاحیت اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا ہے اور اس میں حکومت انسانوں کے بنائے ہوئے قانون پر نہیں چلتی بلکہ خدا کے بنائے ہوئے پر چلتی ہے اور اس میں مالدار اور غریب سب کو برابر کا حق ملتا ہے آپ ابتدائے آفرینش سے لے کر اب تک پوری تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں انسانیت کے لیے جو سب سے زیادہ مفید اور کارآمد رہا وہ یہی قانون ہے ۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button