نظم

نظم: ماں

از قلم: غلام جیلانی حبیبی
گوپی گنج (بھدوہی)

گر تجھ میں باقی ہے غیرت
ماں باپ کی کر لے تو خدمت

ماوں کے قدموں کے نیچے
رکھا میرے رب نے جنت

جانے کیسا ہے ان کا دل
ماں پہ جو کرتے ہیں شدت

ماں باپ کو نہ جھڑکو اے لوگوں
دیتا ہے قرآن یہ درس عبرت

دوزخ میں جاۓ گا وہ ہی
ماں باپ پہ جو ہیں کرتے حکومت

قربان کر کے چین و راحت
بیٹے کو دیتے ہیں راحت

سہتے ہیں بیٹے کی خاطر
ماں باپ دنیا کی ہر مصیبت

پیارے وہ جاۓ گا جنت
ماں باپ کی جو کرتا ہے خدمت

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button