حمد

حمد و مناجات: ترے دم سے نور سحر میرے مولا

نتیجۂ فکر: صادق طاہر قاسمی ندوی کبیر نگری
مقیم حال، ریاض سعودی عرب


تمہارے ہیں شام و سحر میرے مولا
یہ دریا یہ مد و جزر میرے مولا

تو ہی مالک الملک کون ومکاں ہے
ترے تابع شمس و قمر میرے مولا

میں مدحت کے قابل نہیں ہوں مگر ہاں
ان اشکوں کو کردے گہر میرے مولا

مسخر ہیں تیرے اشارے پہ کامل
یہ دشت و جبل، بحر و بر میرے مولا

مشیت پہ راضی، خشیت سے لرزاں
عطا کر وہ قلب ونظر میرے مولا

نفع بخش ہوں تیری خلقت کی خاطر
مرے سارے علم و ہنر میرے مولا

ترے نام سے میں مروں اور جیوں
یہی ہے دعا ہر پہر میرے مولا

یہ دنیا کے ظالم ستم ڈھا رہے ہیں
دکھا دے تو اپنا قہر میرے مولا

خطا کار ہوں میں، سزاوار ہوں میں
تو رحمت سے کر در گزر میرے مولا

ہواءیں، فضاءیں،بھری کہکشاءیں
ہیں تیرے ہی زیر اثر میرے مولا

کسی اور شیٔ کا میں طالب نہیں ہوں
تو راضی ہے مجھ سے اگر میرے مولا

تو اول تو آخر، ازل تا ابد ہے
تو ہر شئ میں ہے با اثر میرے مولا

فضاؤں میں ہر سو ہیں جلوے تمہارے
ترے دم سے نور سحر میرے مولا

پشیماں ہوں،نادم ہوں، محشر میں کردے
گناہوں سے صرف نظر میرے مولا

یہی دل کی حسرت، یہی آرزو ہے
کہ جنت میں ہو میرا گھر میرے مولا

سمیع،بصیر، علیم، حکیم
تو ہر شئ سے ہے باخبر میرے مولا

شہادت کا رتبہ ملے زندگی میں
مرا ہے یہ عزم سفر میرے مولا

بنا لے مجھے اپنا محبوب یا رب
صداقت کا پیغامبر میرے مولا

اٹھایا ہوں دست طلب تیرے آگے
نہ کرنا مجھے در بدر میرے مولا

یہ شبنم کے قطرے، یہ موج روانی
ثنا خواں ہیں برگ و شجر میرے مولا

نہ دنیا، نہ دولت، نہ کشور کشائی
کرم کی تو فرما نظر میرے مولا

خوشی سے، مسرت سے،اور سادگی سے
مری زندگی ہو بسر میرے مولا

بنا حکم تیرے نہ پتہ ہلے یہ
نہ دریا کی کوئی لہر میرے مولا

نہیں کوئی در، تیرے در کے سوا ہے
میں تیرا ہوں دریوزہ گر میرے مولا

مری زندگی بھی حیات خضر ہو
عطا کر وہ طول عمر میرے مولا

ترے دیں پہ چلنے سے روکے نہ کوئی
زمانے کا کوئی نہ ڈر میرے مولا

یہ ارض وسماء ذکر کرتے ہیں سارے
یہ انجم یہ شجر و حجر میرے مولا

عشاء اور مغرب تمہاری ہی خاطر
فجر بھی ظہر اور عصر میرے مولا

ترے دست قدرت میں سارا جہاں ہے
تجھی سے ہے نفع وضرر میرے مولا

مرا عشق سارا تمہارے لیے ہے
محبت کا سارا سفر میرے مولا

ترے دیں پہ قاءم رہوں میں ہمیشہ
یہی ہے دعاء سحر میرے مولا

جو عرش معلی تلک جا کے پہونچے
دعاؤں میں دے وہ اثر میرے مولا

تو ظاہر،تو باطن، تو حاظر،تو ناظر
ہے ذروں پہ تیری نظر میرے مولا

ہیں قرآں کی آیات محکم وبین
ہر اک لفظ، زیر و زبر میرے مولا

ترے دیں کی خاطر مرا ہر عمل ہو
یہ فن اور فکر و نظر میرے مولا

معطر ہواءیں، منور فضاءمیں
ترے دم سے ہیں کس قدر میرے مولا

گناہوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہوں
تو بخشش کی فرما نظر میرے مولا

وہی میری منزل ہو،مدفن ہو میرا
نبی کا مقدس شہر میرے مولا

رحم کا،کرم کا ہے طالب یہ صادق
یہی ہے دعا، مختصر میرے مولا

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button