سُنا تھا ہم نے لوگوں سے
مُحبّت چیز ایسی ہے
چھُپائے چھُپ نہیں سکتی
دبائے دب نہیں سکتی
یہ چہرے سے جھلکتی ہے
یہ لہجے میں مہکتی ہے
یہ آنکھوں میں چمکتی ہے
یہ راتوں کو جگاتی ہے
یہ آنکھوں کو رُلاتی ہے
مگر یہ سب اگر سچ ہے!
تو ہمیں اﷲ سے
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
نہ چہروں سے جھلکتی ہے!
نہ لہجوں میں مہکتی ہے!
نہ آنکھوں کو رُلاتی ہے!
نہ راتوں کو جگاتی ہے!
بتاؤ! یہ ہمیں اﷲ سے
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
بھلا کیسی مُحبّت ہے؟
متعلقہ مضامین
حمد: مولا تیری میں حمد و ثنا ہی کیا کروں
خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاک مولا تیری میں حمد و ثنا ہی کیا کروںغافل کبھی نہ ہوسکوں، میں یہ سدا کروں معبود کوئی اور نہیں ہے تیرے سوامولا میں تیری حمد بھی سب سے سوا کروں تیرے ہی نام سے میری یارب ہو ابتدابس تیرے نام پر میں ہر اک انتہا کروں پھل پھول […]
حمد باری تعالیٰ: بندے ہیں جب خدا کے تو حمد خدا کریں
محمد رمضان امجدیمدرسہ اہل سنت فیض الرسول پکڑی خرد ضلع مہراجگنج اس کی عنایتوں کا ادا شکریہ کریںجب تک حیات باقی ہے ذکر خدا کریں ذکر خدا سے قلب و دہن پر ضیا کریںبندے ہیں جب خدا کے تو حمد خدا کریں غیروں کے در پہ جائیں بھی تو جائیں کس لیےکچھ بھی طلب کریں […]
حمد و مناجات: ترے دم سے نور سحر میرے مولا
نتیجۂ فکر: صادق طاہر قاسمی ندوی کبیر نگریمقیم حال، ریاض سعودی عرب تمہارے ہیں شام و سحر میرے مولایہ دریا یہ مد و جزر میرے مولا تو ہی مالک الملک کون ومکاں ہےترے تابع شمس و قمر میرے مولا میں مدحت کے قابل نہیں ہوں مگر ہاںان اشکوں کو کردے گہر میرے مولا مسخر ہیں […]



