راکھ ہو جائے گا سورج کو بجھانے والا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رشد و ہدایت کیلئے انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ شروع کیا اور کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار علیہم السلام مبعوث کئے گئے، سب سے آخر میں ۔۔ جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا اور یہیں پر نبوت کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا، جتنے نبی آئے ان میں سے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ صحیفے دئیے گئے ان صحیفوں میں خدائی احکامات موجود تھے، نبیوں کا کام تھا ان کی تشریح کرنا اور لوگوں کے سامنے بیان کرنا، بعض وہ ہیں جن کو کتابیں دی گئیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات حضرت داؤد علیہ السلام کو زبور اور حضرت عیسی علیہ السلام کو انجیل اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید دیا گیا،
قرآن مجید آسمانی کتابوں میں سب سے آخری کتاب ہے اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے لی، قرآن مجید میں صاف طور پر اعلان کردیا گیا کہ ۔۔۔ ہم نے ہی اس کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔۔ سابقہ آسمانی کتابوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا نتیجتاً ان کے پیرو کاروں نے اس میں تحریفیں شروع کردیں صفحات کے صفحات بدل دئیے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اپنے من مطابق داخل کرلئے اور اسی کو حجت بنا کر اس پر عمل پیرا ہو گئے، قرآن مجید کا جب نزول شروع ہوا اس وقت سے ہی کفار قریش اس کو مٹانے اور بدلنے پر تل گئے استھزاء بھی خوب کیا لیکن ان کے سارے حربے نیل بے مرام ثابت ہوئے، اس وقت کے بڑے بڑے اہل قلم اور زبان دانی کا دعویٰ کرنے والوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ کسی بشر کا کلام ہے یہ خدا کا کلام نہیں ہوسکتا اس کے دعوی پر قرآن مجید نے کھلم کھلا چیلینج کردیا کہ اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں مانتے تو اس جیسی کوئی ایک سورت لے آؤ بلاآخر شکست خوردہ ہوئے اور اس کتاب ازلی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے، کئی اہل قلم ایسے تھے کہ جنہوں نے اپنی کتابت قرآن کے دوران جب آیت کریمہ سنی تو بے ہوش ہو گئے اور اپنے کرتوت سے سچے تائب ہوگئے،
قرآن مجید وہ واحد کتاب ہے کہ جس میں ہر ایک موڑ پر انسانی زندگی کی رہنمائی موجود ہے ، زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں قرآن مجید نے رہنمائی نہ کی ہو ، اسی قرآن نے بے حیثیت قوموں کو باحیثیت بنا دیا لیکن جس نے بھی ٹھکرایا ذلت و پستی اس کا مقدر بن گئی،
اس میں شک نہیں کہ مذہب اسلام سراپا امن و آشتی کا گہوارہ ہے ، اخوت، بھائی جارہ ، آپسی پیار و محبت، اس کا اولیں سبق ہے، آپسی کی نفرتیں ، بغض و عناد سے کوسوں دور رہنے کی تلقین کرتا ہے، آپسی لڑائی جھگڑا اسی طریقے سے خون خرابے کی پرزور مذمت کرتا ہے یہ سب کچھ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے، پورے قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت نہیں کہ جس میں ذرہ برابر بھی نفرت بغض و عناد سرکشی و ہٹ دھرمی کی بات کہی گئی ہو حتی کہ اشارہ بھی نہیں کیا گیا، اب اگر اندھے کو نظر نہ آئے تو اس میں قرآن مجید کا کیا قصور ہے ؟؟؟

ایمان کے باب میں جہاں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ضروری ہے وہیں قرآن مجید پر بھی ایمان لانا ضروری ہے اس پر ذرہ برابر بھی شک ایمان کیلئے خطرہ ہے، لہٰذا جس نے بھی اس پر شک کیا یا اس کی تحریف کے قائل ہوئے یاکسی طرح سے بھی اس کو نشانہ بنایا کوئی فتوی اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرسکتا، ہر مسلمان اس سلسلہ میں چوکنا رہے اور اپنے دین و ایمان پر خوف کھاتا رہے،
اس وقت سوشل میڈیا پر ایک بددیں شخص کے بارے میں باتیں چل رہی ہیں کہ انہوں نے قرآن مجید کی بعض آیات پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ آیتیں اللہ تعالیٰ کی نہیں ہیں بلکہ خلفاء راشدین نے اس میں داخل کردی ہیں اور یہ وہ آیات ہیں جو کہ دہشت گردی کا بڑھوا دیتی ہیں لہذا انہوں نے کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان آیتوں کو نکال دیا جائے ،
مجھے اس شخص کے بارے میں کچھ نہیں کہنا کیوںکہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ ابتداء آفرینش سے یہی اس قسم لوگ پیدا ہوں گے اور ہورہے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے ، لیکن قرآن کریم کی چھبیس آیت کیا ایک نقطہ پر بس نہیں چلیگا کیوںکہ اس کا محافظ خود اللہ ہے ، اور یہ بات مشاہدہ کی ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں اس تغیر پذیر عالم میں ہر شی بدل رہی ہے افکار و خیالات بدل رہے ہیں حکومتیں بدل رہی ہیں، بڑے بڑے دھارمک پستکیں بدل رہی ہیں مگر خدا کا یہ لافانی کلام صبح قیامت تک نہیں بدلے گا ،
وسیم رضوی جیسے کتنے آئے اور کتنے چلے گئے اور کتنے آئیں گے مگر جس نے بھی سورج کو بجھانے کی کوشش کی وہ راکھ ہوگیا اور کسی کوڑے دان میں پھیک دیا گیا ،
میری تحریر لکھنے کا مقصد ان لوگوں کے دلوں تک دستک دینا ہے جو کسی چرم زبان کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور حق کے سلسلہ میں بھی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں لہذا دل میں یہ بات بٹھالیں کہ قرآن سرتا پا ہدایت و رحمت ہے اس کو اتارنے والا امین جس کے ذریعے اتارا گیا وہ بھی امین جس ذات پر اتارا گیا وہ بھی امین پھر اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ذالک الکتاب لا ریب فیہ،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پر راسخ ایمان والا بنائے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

دینی آزمائش

تحریر: محمد توحید رضا علیمیخطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان، بنگلورمہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔