متفرقات

قوم مسلم کی مذہب بے ذاری کا علاج: فلاح ملت ٹرسٹ، اوجھاگنج، بستی، یو۔پی۔ انڈیا

مذہب بے ذاری قوم مسلم کے لیے زہر ہلاہل سے کم نہیں, مگر اس کے باوجود دن بدن مذہب بے ذاری قوم مسلم میں بڑھتی جارہی ہے, اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ابھی جلد ہی ایک مسلم نے رام مندر کی فوٹو ہاتھ میں لے کر ایک غیر مسلم کے ساتھ فوٹو کھنچوایا, غیر مسلم نے اس کو نشر کرکے اس میں لکھا کہ فلاں مسلم سے رام مندر کے لیے مالی تعاون لیتے ہوئے, معلوم ہونے پر اس مسلم سے رابطہ کیا گیا, پہلے اس نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی کہ میرے ساتھ زبردستی کی گئی, مگر جب گرفت تھوڑی مضبوط ہوئی اور کہا گیا کہ تم اس غیر مسلم سے بات کرکے کہو کہ جب میں اس پر راضی نہیں تھا تو تم نے نشر کیوں کیا؟ اس پر اس مسلم نے کہا کہ اس میں غلط کیا ہے؟! اس پر ان سے کہا گیا کہ یہ بتاؤ, اگر آپ کو کوئی گالی دے تو آپ کیا کریں گے, تو انہوں نے کہا کہ میں اس کا جواب دونگا, ان سے کہا گیا کہ آپ گالی کا جواب کیوں دیں گے؟ اس سوال پر پہلے تو وہ خاموش رہے پھر کہا کہ گالی دیا ہے تو جواب دونگا, فورا ان سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کی عجیب تھیوری ہے, ذاتی معاملہ ہو تو آپ فورا جواب دینے کے لیے تیار مگر اسلام و مسلمان پر حرف آئے تو آپ سنجیدگی سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں!! پھر کسی طرح راضی ہوئے کہ میں اس سے بات کرکے کہتا ہوں کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.

بعض مسلم کی جانب سے اس طرح کی بات کیوں ہوتی ہے؟ اس کا اصل سبب کیا ہے؟ اگر آپ دل پر ہاتھ رکھ کر سوال کریں گے تو آپ کو سیدھا جواب ملے گا کہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ یا تو تعلیم سے بالکل کورے ہیں یا پھر اگر تعلیم ہے تو صرف غیر مسلم کالیج کی تعلیم ہے اور اس پر چاہے جیسی دنیا طلبی مستزاد, اس لیے وقت رہتے اس کا علاج بہت ضروری ہے, ورنہ یہ مذہب بے ذاری ناسور بن کر قوم مسلم کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کافی ہے.

اس کا سب سے بہتر علاج یہی ہے کہ ہر جگہ دینی و عصری تعلیم کے سنگم کے ساتھ پرائمری اسکولس و کالیجز اور یونیورسٹیز, اسلامی ماحول میں چلائے جائیں تاکہ ماڈرن ایجوکیشن کے ساتھ دینی تعلیم مضبوط رہے, جو ایک مسلم کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے لیے کافی ہو اور ماڈرن ایجوکیشن میں بھی اپنا ایک مقام رہے, یہ ہم اور آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر یہی وقت کی پکار ہے, علما کو نائبین رسول کہا جاتا ہے, تو یہ صرف مدارس اسلامیہ کے بچوں کی اصلاح کے لیے نہیں پیدا ہوئے بلکہ یہ مدارس اسلامیہ و غیر مدارس اسلامیہ کے بچوں بلکہ پوری دنیا کی رہنمائی کے لیے پیدا ہوئے ہیں, اس لیے عموما انہیں صرف اسٹیج کو آباد کرنے کے بجائے عملی میدان میں اتر کر حالات کے اعتبار سے کام کرنا از حد ضروری ہے اور جیسے مدارس ہمارے ہاتھ میں ہیں, اسی طرح منظم پرائمری اسکولز, کالیجز اور یونیوسٹیز بھی اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنے اسلامی ماحول میں اپنے بچوں و بچیوں کو صحیح تعلیم و تربیت دے کر ان کے ایمان و عمل کو محفوظ رکھ سکیں.

اس سلسلے میں فلاح ملت ٹرسٹ کے بانی جانشین فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری زید مجدہ, مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ, اوجھاگنج, بستی, یوپی اور ٹرسٹ کے اراکین مسلسل بھاگ دوڑ کر رہے ہیں, تاکہ تعلیم و تعلم سے متعلق پوری قوم مسلم کی صحیح اور بہترین رہنمائی کرکے, ان کے تعلیم و تربیت کا اپنے ماحول میں اچھا انتظام کیا جاسکے, جو ان کے ایمان و عمل کی حفاظت کا ضامن ہو اور ساتھ ہی دنیا میں بھی وہ کسی سے پیچھے نظر نہ آئیں اور اسلام و مسلمان پر کوئی حرف آئے تو ان کی حرارت ایمانی ضرور بے دار ہوجائے اور تقاضے کے مطابق صحیح جواب دے سکیں.

اسی دوڑ بھاگ کی دو چند کڑی ۲ مارچ کو تلیا, ببھنان, گونڈہ, ٥ مارچ کو فریندہ جاگیر, بستی اور ١١ مارچ ۲۰۲١ء کو دھرم پور, بستی کا سفر ہے, تلیا میں قاری زبیر احمد نظامی, تلیا, مولانا رحمت اللہ, نرسنگ پور, مولانا محمد رضا علیمی, ببھنان, مولانا شفیق اللہ, تلیا اور محمد احمد, فریندہ جاگیر وغیرہ, فریندہ جاگیر میں مولانا زاہد علی, گونڈہ, مولانا نور محمد, کوٹیا اور نسیم بھائی, فریندہ جاگیر و غیرہ اور دھرم پور میں مولانا سید اعجاز الحسن صاحب, مولانا عبد الوکیل محبوبی صاحب اور حافظ و قاری غلام دستگیر صاحب وغیرہ شامل رہے. تعلیم و تعلم سے متعلق تلیا کا رسپونس بہت اچھا رہا نیز یہاں پر فلاح ملت کے ممبران میں اضافہ بھی ہوا اور باقی دو جگہوں پر بھی امید ہے کہ ان شاء اللہ بے داری ضرور آئے گی, کیوں کہ:
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے ہم سب کو مل جل کر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے, فلاح ملت کے دینی و عصری مقاصد حسنہ کے لیے بندوں, خصوصا اہل ثروت کے دلوں کے دروازے کھول دے, دامے درمے اور سخنے اس کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے کی توفیق عطا کرے, آمین ثم آمین

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے