Uncategorized

حفاظت قرآن کریم

ازقلم: منظور احمد یارعلوی
صدرشعبہ افتاء:دارالعلوم اہلسنت برکاتیہ
گلشن نگر جوگیشوری، ممبئی

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ إِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ“( سورة الحجر: پ۱۴/۹) ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ یہ پہلی وہ آسمانی کتاب ہے، جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیااور اسے پانچ تاکیدات سے موکد فرمایاہے ، یقینا اس کی حفاظت کے لیے یہ وعدہ الٰہی ہے اور قرآن کا اعلان ہے: ”إِنَّّّ اللَّہَ لَاْ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ“(سورة آل عمران:پ۳/۹) اللہ کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔ بس اللہ نے اپنا یہ وعدہ سچ کر دکھایا۔ اور کتاب اللہ کی حفاظت کا حیرت انگیز انتظام کیا۔ اس طور پر کہ اس کے الفاظ بھی محفوظ، اس کے معانی بھی محفوظ، اس کا رسم الخط بھی محفوظ، اس کی عملی صورت بھی محفوظ، اس کی زبان بھی محفوظ، اس کا ماحول بھی محفوظ، جس عظیم ہستی پر اس کا نزول ہوا اس کی سیرت بھی محفوظ، اور اس کے اولین مخاطبین کی سیَرْ بھی یعنی زندگیاں بھی محفوظ۔غرضیکہ اللہ رب ا لعزت نے اس کی حفاظت کے لیے جتنے اسباب و وسائل اور طریقے ہوسکتے تھے، سب اختیار کئے، اور یوں یہ مقدس اور پاکیزہ کتاب ہر لحاظ اور ہر جانب سے مکمل محفوظ ہوگئی۔ الحمدللہ آج چودہ سو بیالیس سال گذرنے کے بعد بھی اس میں رتی برابر بھی تغیر و تبدل نہ ہوسکا، لاکھ کوششیں کی گئیں، مگر کوئی ایک کوشش بھی کامیاب اور کارگر ثابت نہ ہوسکی، اور نہ قیامت تک ہوسکتی ہے اس لئے کہ اس کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے خود اپنے ذمہ کرم پہ لے رکھا ہےوسیم رضوی جیسے نطفہ ناتحقیق،ناہنجار،نابکار،ملعون ،مردود،مقہور،معتوب، معذوب زمانہ ایسے ہی بھونکتے رہ جائینگےاور قرآن کریم اپنا نور بکھیرتارہے گاجس سے تاریک دل جگمگاتے رہیں گے

وسیم رضوی نے قرآن کریم کی ۲۶/ آیات کو قرآن سے ہٹانے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آیات دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے(معاذاللہ رب العلمین) وسیم رضوی کے مذکورہ بیان کی ہر مسلک و مشرب کے علماء کرام و دانشوران کی جانب سے مذمت ہو رہی ہے اور اسے صرف ایک پبلی سٹی اسٹنٹ اور سیاسی مفادات حاصل کرنے کا حربہ بتا رہے
قرآن تا قیامت باقی رہنے والی ایک معجزاتی کتاب ہے۔ اس کتاب پرآج بلاتفریق تمام مسالک خواہ وہ کسی بھی مکتب فکر کے ہوں سبھوں نے مذمت کی ہے. وسیم رضوی کے اس بیان کی خود شیعہ حضرات نے بھی اسلام دشمنی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے ان کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسیم رضوی کے مطالبہ کو سرے سے مسترد کیاجائے وسیم رضوی ملک کے امن و آمان اور فضا کو بگاڑنے کی کوشش کررہا ہے. حکومت کو اس پر روک لگا کر کارروائی کرنی چاہیے۔
وسیم رضوی کا بیان جھوٹ اور انتشار والا ہے۔

قرآن پاک کے حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے لے رکھی ہے۔قرآن حکیم کا ایک ایک لفظ صداقت وعدالت پرمبنی ہے. وسیم رضوی جیسے بدبخت لوگ معاشرے کے لئے ناسور اور ناساز ہیں. وسیم رضوی کے بیان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ اس قطرہ ناپاک کواس کی اوقات یاد دلاتے رہیں اور اس سے نفرت وبیزاری کاثبوت دیتے رہیں تاکہ وہ نہ تو سازش کرسکے اور نہ ہی سازش کا شکار بن سکےاس نے اس ناپاک حرکت سے اہل اسلام کاجہاں دل دکھایا ہے وہیں خلفاء ثلثہ پر الزام تراشی بھی کی ہے جن کی شانیں منصوص ہیں اور قرآن مقدس نے ہی انکی عظمت وبلندی کااعلان فرماتے ہوئے "وکلا وعداللہ الحسنی” کا عظیم مژدہ سنایا یے

ان شاء اللہ اس مردودولعین وشیطان رجیم وسیم رضوی کی یہ ناپاک سازش بھی نامکمل و نامراد ثابت ہوگی۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button