شعبان المعظم

شبِ برأت: برکات و حسنات کی ایک حسین رات

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل پھاٹا

جو مانگنے کا طریقہ ہے اس طرح مانگو
در کریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا

سال کے دنوں اور راتوں میں پندرہویں شعبان کی مقدس رات ۔ شبِ برات ۔ اور پندرہواں دن بڑی برکتوں کا ہے ۔ امت محمدیہ پر اللّٰہ عزوجل کا کرم خاص ہےکہ اس نے شبِ براءت جیسی نورانی رات سے سرفراز فرمایا ۔ یہ مقدس رات ہرسال آتی اور چلی جاتی ہے لیکن کتنے غافل اور کاہل ایسے ہیں جو اس کی قدر نہیں کرتے اور سوکر پوری رات گزار دیتے ہیں ۔ ہاں بڑے خوش قسمت اور نیک بخت ہیں وہ اللّٰہ تعالیٰ کے اطاعت شعار بندے جو اس رحمت بھری اور نورونکہت میں ڈوبی ہوئی شب کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے اور اس میں اپنے مولائے کریم کو یاد کرتے ہیں ۔ اس کی مقدس اور رحمت بھری بارگاہ سے برکت ونور کی خیرات مانگتے اور اپنے گناہوں پر پشیماں وشرمندہ ہوکر توبہ واستغفار کرتے ہوئے اسے گزارتے ہیں ۔ مساکین وغربا پر صدقات وخیرات بھی کرتے ہیں ۔ اقربا واحباب کو تحائف سے بھی نوازتے ہیں ۔ اور ساتھ ہی شہر خموشاں میں آرام کرنے والے مرحومین ومتعلقین کو بھی نہیں بھولتے ان کے لئے بھی فاتحہ وایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہیں ۔ یقیناً زندوں کےساتھ اس دنیائے فانی سے کوچ کرنے والے ہمارے بھائی بھی ہمارے احسان وکرم اور امداد ونصرت کے مستحق ہیں ۔ لہٰذا مبارک راتوں اور مقدس ایام میں ضرور انھیں بھی یاد کرنا چاہئے ۔ حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ اگر تم میں کوئی اپنے بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے تو پہنچائے ۔ (مسلم شریف جلد ۲ صفحہ ۲۲۳ )
اور صدقہ وتلاوت قرآن نیز ذکرِ خیر کا ثواب اگر کسی مرحوم کو پہنچایا جائے تو یقیناً ان کو پہنچتا ہے ۔ اور ان کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔ اس پر احادیثِ کثیرہ شاہد ہیں ۔ امت مسلمہ میں کوئی بھی اس کا منکر نہیں اور جو منکر ہے وہ یقیناً گمراہ اور مسلمانوں کا بدخواہ ہے ۔
حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ اس مبارک شب میں بنی کلب کی بکریوں کے بال سے زیادہ گنہگاروں کی اللّٰہ تعالیٰ بخشش فرماتا ہے ۔
واضح رہے کہ بنی کلب عرب کا ایک قبیلہ تھا جہاں بکریاں زیادہ پائی جاتی تھیں ۔ لیکن متعدد روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغفرت و رحمت کی اس مقدس رات میں چند ایسے بھی بدبخت ہیں ۔ جو بغیر توبہ معاف نہیں کئے جاتے اور وہ رحمتِ خداوندی سے محروم ہی رہتے ہیں ۔ وہ یہ ہیں ۔
مشرک ۔ یعنی خدا کے ساتھ اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے والا ۔
ماں باپ کا نافرمان ۔
کاہن ۔ اٹکل سے غیب کی باتيں بتانے والا ۔
نجومی ۔ ستاروں سے غیب کی خبریں بتانے اور اس پر یقین کرنے والا ۔
جادوگر
بدمذہب ۔
قاتل
رشتہ کاٹنے والا ۔ اپنا یا دوسرے کا ۔
کینہ پرور ۔
سود کھانے کا عادی ۔
گویا ( فحش اور فضول گانے والا )
کپڑا ۔ تہبند ۔ پاجامہ ۔ کرتا ۔ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر تکبّر کرنے والا ۔
ناجائز محصول (ٹکس ) وصول کرنے والا ۔
جلاد ۔
ان بڑے بڑے گناہوں کے مرتکبین کو چاہیے کہ اس برکت والی رات آنے سے پہلےہی یا خاص اس برکت والی رات میں ان گناہوں سے رب العالمین کی بارگاہ میں سچی توبہ کریں ۔ اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم بھی کریں تو پھر اس نورانی رات میں خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے ہونے والی رحمتوں کی بارش میں ضرور نہاکر گناہوں سے پاک وصاف اور رحمتِ خداوندی سے مالا مال ہوجائیں گے ۔ بلکہ ان مزکورہ گناہوں کے علاوہ بھی جو گناہ کیے ہوں ان سے بھی توبہ واستغفار میں جلدی کرنی چاہیے ۔ جو بے نمازی ہیں وہ توبہ کریں کہ اب آئندہ نمازیں ترک نہیں کریں گے ۔ اور جو نمازیں قضا ہوچکی ہیں ان کو جلد از جلد ادا کرنے کا بھی عہد کریں بلکہ اس بابرکت شب میں نوافل کے بجائے اپنی قضا نمازیں پڑھیں ۔ کہ جب تک قضا نمازیں ادا نہ ہوں نوافل قبول نہیں ہوتے ۔ بے روزہ دار توبہ کریں کہ اب آئندہ روزے نہیں چھوڑیں گے اور جو چھوٹ چکے ہیں ان کو جلد ادا کرنے کا عہد کریں ۔
اپنے مالوں کی زکوٰۃ نہ دینے والے توبہ کریں کہ اب پورا پورا حساب کرکے زکوٰۃ نکالیں گے ۔ جو خدا کا بھی حق ہے اور بندوں کا بھی ۔
اور آج تک جو زکوٰۃ ذمے باقی ہے اس کو بھی جلد تر ادا کرنے کا عہد کریں ۔ بلکہ جس قدر ہوسکے جلد از جلد ادا کرنے میں لگ جائیں ۔
اور جو حقوق العباد ( بندوں کے حقوق ) اپنے اوپر باقی ہیں صاحبِ حق سے مل کر معافی طلب کرلیں کہ بندوں کا حق اللّٰہ تعالیٰ معاف نہیں فرماتا جب تک وہ بندہ خود معاف نہ کردے جس کا کسی پر حق ہے ۔
بندوں کے چند حقوق یہ ہیں ۔ مثلاً کسی کا مال یا جائداد ہڑپ کرلیا ۔
قرض لیا اور واپس نہیں کیا ۔
کسی کو گالی دی ۔ کسی کی آبروریزی کی ۔ کسی کی غیبت کی ۔ کسی کی چغلی کی ۔ کسی کو ناحق مارا ۔ کسی کا مذاق اڑایا ۔ استاذ اور ماں باپ کی نافرمانی کی ۔ پڑوسیوں کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو ان کو ضرور معاف کرالیں ۔ اور جو چیزیں مثلاً مال ۔ جائداد واپس کرنے کے لائق ہیں تو ان کو واپس کردیں ۔یا صاحبِ حق سے دست برداری کرالیں تاکہ آخرت کے مواخذے سے بچ جائیں ۔ اور شبِ برات کی برکتوں ورحمتوں سے بھی مالا مال ہوں ۔
شبِ برات کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ اس میں دعائیں مقبول ہوتی ہیں ۔ لہٰذا جملہ دینی ودنیاوی مقاصد پر مشتمل دعائیں اس مبارک شب میں مانگنی چاہئے ۔ اسی لئے علمائے کرام نے اوقاتِ اجابت یعنی مقبولیت دعا کے اوقات میں شبِ برات کو بھی شمار فرمایا ہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز حاشیہ ۔ احسن الوعا لآداب الدعا ۔ میں تحریر فرماتے ہیں ۔
رجب کی چاند رات ۔ شبِ برات ۔ شبِ عید الفطر ۔ شب عید الاضحیٰ ۔
یعنی یہ راتیں بھی مقبولیت دعا کے لئے خاص ہیں ۔ پھر ابنِ عساکر کی یہ حدیث نقل فرمائی ۔ عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ عن الن بی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خم س لیال لاترد فیھن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلة النصف من شعبان ولیلة الجمعۃ ولیلة الفطر ولیلة النحر ۔
حضرتِ ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ۔ پانچ راتیں ہیں کہ ان میں دعارد نہیں کی جاتی ۔ رجب کی پہلی رات ۔ شعبان کی پندرہویں رات ( شبِ برات ) جمعہ کی رات ۔ عیدالفطر کی رات ۔ اور نحر یعنی بقرعید کی رات ( دسویں ذی الحجہ کی رات )
یہ حدیث جامع صغیر امام جلال الدین سیوطی میں بھی ابنِ عساکر کے حوالے سے منقول ہے ۔
لہٰذا امت مسلمہ کو چاہیئے کہ اس مبارک شب میں کثرت سے دعائیں مانگیں ۔ خدائے کریم کی بارگاہ میں اپنی اپنی حاجتیں پیش کریں ۔ اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں اور سب سے اہم یہ کہ ایمان پر خاتمے کی دعا مانگیں ۔
ربّ قدیر ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور شبِ برات کی رحمتوں برکتوں سے ہم سب کو مالا مال فرمائے ۔ اور ہمارے والدین کریمین کی بےحساب مغفرت فرماکر جنت المعلی میں بہترین مقام عطا فرمائے ۔
آمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ۔

سگ بارگاہ اشرف ۔ جمال احمد صدیقی اشرفی القادری بانی دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے