پروانچل

قرآن کریم یا اس کی کسی بھی آیت کا مٹانا ناممکن ہے:مفتی قاضی فضل رسول مصباحی

پرتاول/مہراج گنج: 18 مارچ، ہماری آواز(پریس ریلیز)
قران کریم اللہ کا کلام ہے جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا جو پوری نسل انسانت کے لیے رہنما اصول اور دستورِ حیات ہے فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مقام پر فائز یہ کتاب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتیازی اعجاز ہے فصحاء و بلغاء عرب نے ہر چند اس کلام بلاغت نظام کے مقابل پیش کرنے کی بھرپور سعی اور کوشش کی لیکن عاجز ہو کر اپنی کم مائے گی کا یہ کہ کراعتراف کر لیا کہ (ما ہذا کلام البشر )یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے ایسی پاکیزہ مقدس کتاب جو پوری انسانت کے لیے نمونہ حیات ہے اس کی کچھ آیتوں کو ریمو کرنے کی رٹ داخل کرنے کی کوشش وسیم رضوی جیسے بد باطن خبیث النفس کے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے مذکورہ باتیں ماہرِ اسلامیات مفتی قاضی فضل رسول مصباحی استاد دارالعلوم اہلسنت قادریہ سراج العلوم برگدہی نے ایک پریس ریلیز میں کہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ _لا یشبع منہ العلماء ولا یخلق من کثرۃِ الرد ولا ینقضی عجائبہ یعنی علما قرآن سے کبھی آسودہ نہیں ہونگے اور قرآن کتنا زیادہ بار بھی پڑھا جائے اس کے حروف کبھی ختم نہیں ہونگے
یاد رہے جب قرآن کے حروف ناقابلِ محو و ختم ہیں تو پھر اس کی آیتیں کیسے محو و ختم ہو سکتی ہیں اس لیے وسیم رضوی اپنے ذہن سے یہ بات نکال دےکہ (26 ) چھبیس آیتیں تو دور کی بات ہے ایک آیت یا ایک حرف یا ایک نقطہ بھی ریمو نہیں ہو سکتا
لہٰذا قرآن کریم یا اس کی کسی بھی آیت کا مٹانا ناممکن ہے اب اگر وسیم رضوی کی بد مست فکر میں ان آیات کی تشریح نہیں آ سکی تو کسی اہل علم کی بارگاہ سے ان کی صحیح تشریح سمجھ لینی چاہیےءاور اپنے ہفوات سے تائب ہوجانا چاہئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب وسیم رضوی کے خلاف حکومت ہند اور صدر جمہوریہ ہند سے مطالبہ کریں کہ ایسے بد نام زمانہ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہو نچایا جائے تاکہ ہندوستان کی شائستہ تہذیب و تمدن محفوظ اور امن و امان کا یہ گہوارہ خوشگوار رہے اللہ تعالیٰ تمام اہل وطن کو خوش و خرم رکھے آمین

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button