مذہبی مضامین

دعوت دین وقت کی اہم ضرورت

تحریر: کمال احمد علیمی نظامی
جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

اخلاص، سنجیدگی، خوش اخلاقی، اتباع شریعت اور عشق رسالت یہ وہ عناصر ہیں جن سے دلوں کی تسخیر ہوتی ہے،ارواح کی تطہیر ہوتی ہے،زبانوں میں تاثیر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ جس سے دین کا کام لینا چاہتا ہے اسے ان اوصاف کا حامل بنا دیتا ہے، سب سے مقدم علم ہے، پھر عمل، پھر دیگر عناصر.
ایک داعی دین کو دعوت کے اصول وضوابط کا عالم ہونا ضروری ہے،اس کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت پڑھیے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم حیات وخدمات دیکھیے، اسلاف عظام کے لیل ونہار، ان کی بلندی کردار، ان کی گفتار ورفتار، ان کا حال وقال، ان کا باطنی حسن وجمال دیکھیے، آپ کو پتہ چل جائے گاکہ.
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
رسول اکرم صلی وسلم نے سے ایک موقع پر ارشاد فرمایا :
عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَيُّ الأَ عْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((الإِیْمَانُ بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((اَلْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَال: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ((ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۲۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر حج مبرور ہے۔
1379- وعَنْ سَهْلِ بن سعدٍ، ، أنَّ النَّبيَّ ﷺ قَالَ لِعَليًّ، : فو اللَّهِ لأنْ يهْدِيَ اللَّه بِكَ رجُلًا واحِدًا خَيْرٌ لكَ من حُمْرِ النَّعم متفقٌ عليهِ.
5/1380- وعن عبدِاللَّه بن عمرو بن العاص، رضي اللَّه عنْهُما، أنَّ النَّبيَّ ﷺ قَالَ: بلِّغُوا عَنِّي ولَوْ آيَةً، وحَدِّثُوا عنْ بَنِي إسْرَائيل وَلا حَرجَ، ومنْ كَذَب علَيَّ مُتَعمِّدًا فَلْيتبَوَّأْ مَقْعَدهُ مِنَ النَّار رواه البخاري.
6/1381- وعنْ أَبي هُريرةَ، أنَّ رسُول اللَّه ﷺ، قالَ: ومَنْ سلَك طرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سهَّلَ اللَّه لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الجَنَّةِ رواهُ مسلمٌ.
یعنی تمھاری ذات سے کسی ایک فرد کی اصلاح تمھارے لیے بہت قیمتی سرمایہ ہے،عرب کے سرخ اونٹوں سے کہیں زیادہ قیمتی.
اللہ، اللہ! یہ فیروز بختی ہر کسی کے نصیب میں کہاں،وتعز من تشاء وتذل من تشاء، بیدک الخیر انک علی کل شی قدیر.
زبان وبیان میں تاثیر ہوتی تب کسی دل مسخر ہوتا، اور زبان میں تاثیر قلب مزکی کے ساتھ افکار صالحہ ، اعمال مقبولہ کے ساتھ اکابر ملت کی عنایات خسروانہ ،خودشناسی کے ساتھ خدا شناسی،خوش عقیدگی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیدا ہوتی ہے.
حکمت وموعظت دعوت دین کی اساس ہیں، ارشاد ہے :
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ ھ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ(۱۲۵)
ترجمہ: کنزالایمان
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو بےشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے راہ والوں کو.
دین کی دعوت وقت کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے، راہ حق کی آبلہ پائی ہر کسی کے نصیب میں کہاں :

یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
آج ہمارے یہاں کثیر تعداد میں خطیب ہیں، ادیب ہیں، محقق ہیں، مدقق ہیں، مفسر ہیں، محدث ہیں، فقیہ ہیں مفتی ہیں، مگر داعی دین نہیں ہیں، امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی، مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی،شیر بیشہ اہل سنت علامہ حشمت علی، مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن، قائد اہل سنت شاہ احمد نورانی، علامہ خادم حسین رضوی، حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی اختر رضا خان ازھری وغیرھم رحمھم اللہ جیسی عبقری شخصیات ناپید ہیں، تاریخ دعوت وعزیمت لکھ کر تاریخ کا گلا گھونٹا جا رہا ہے اور ہم محو خواب ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر رحم فرمائے، ارشاد ہے:
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۱۰)
ترجمہ: کنزالایمان
تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو ان کا بھلا تھااُن میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر.
ہماری خیریت اسی میں ہے کہ ہم داعی دین بنیں، ورنہ ایک دن آئے گا جب اسلام رہے گا مگر سچے مسلمان تلاشنے سے بھی نہیں ملے گا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو دعوت دین کی توفیق عطا فرمائے.

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button