سماج و معاشرہ

سماجی ارتقاء

تحریر: محمد دلشاد قاسمی

سماجی ارتقا کسے کہتے ہیں ؟ سماجی رویے اور اخلاقیات میں کیا رشتہ ہے ؟ سماج اور ریاست میں کیا رشتہ ہے ؟ سماج اور مذہب میں کیا تعلق ہے؟ سماج ، سماجی تنازعات کے اسباب نتائج اور اثرات کیا ہیں۔ ان تمام سوالات کے حوالے سے ہم تذبذب کے شکار ہیں بے شک ہم سماجی تبدیلیوں میں جی رہے ہیں اور اپنی سر کی آنکھوں سے ان میں تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں لیکن ان تبدیلیوں کا اعتراف کرنے میں تذبذب سے کام لے رہے ہیں ۔ کیونکہ ہم سماجی ارتقا کے باب میں اس بنیادی بات کو بھول گئے ہیں کہ تہذیب اور ان کے مظاہر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کون سی چیز وقت کے ساتھ بدلتی ہے اور کونسی نہیں بدلتی ، کس چیز کو بدلنا چاہیے اور کس چیز کو نہیں بدلنا چاہیے ۔
دراصل ہمارا اصولوں سے تجاوز کر کے ہر مسئلے کے لئے ماضی کی مقدس سند کو تلاش کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ معاشرے سے آہستہ آہستہ مذہب پیچھے ہٹتا چلا گیا اور شدت پسندی مذہب کی پہچان بنتی چلی گئی اور معاشرے کے اجتماعی ردعمل نے اسے محدود سے محدود تر کرنے کا کردار جاری رکھا ۔
دوسری بات موجودہ وقت میں ایک بات بڑے زور و شور کے ساتھ یہ کہی جاتی ہے کہ ہماری صفوں کے اندر اتحاد نہیں آج ہر کوئی ایسی بات کا رونہ رو رہا ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اتحاد ، اتحاد ، کا نعرہ لگانے والے آپ کو ہر جگہ مل جائیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اتحاد کیسے ممکن ہوگا؟
اس کا حل تلاش کرنے سے پہلے ہمیں مسئلے کو سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ کیا ہے ؟ وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے اتحاد نہیں ہو پا رہا ؟اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ دراصل آج ہمیں اتحاد سے زیادہ اختلاف کے آداب سیکھنے کی ضرورت ہے ، اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام سیکھنے کی ضرورت ہے ، اختلاف کا اظہار کرنے کے سلیقے سیکھنے کی ضرورت ہے ، خالی اتحاد ، اتحاد کی تسبیح سے کچھ نہیں ہوگا ۔ جب ہم ایک مہذب انسان بنیں گے ، جب ہم الزام تراشی نہیں کریں گے ، جب ہم سوچ سمجھ کر بولا کریں گے ، جب کوئی نئی بات ، نئ تحقیق ، ہمارے سامنے آئے گی تو اس کی قدر کرتے ہوئے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ، تو پھر ہمیں اتحاد کا نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ خود بخود ہماری صفوں کے اندر اتحاد پیدا ہو جائے گا ۔
موجود وقت میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اختلاف رائے کیا ہوتا ہے ؟ ہمیں تو صرف یہ سکھایا گیا کہ اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں کو یہود و نصاری کا ایجنٹ قرار دے کر اس پر کفر کا فتویٰ لگادو یا اس کی پیشانی پر گستاخی کا اسٹیکر چپکادو ۔اور یہ سب کچھ کسی سازش کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ انتہائی نیک نیتی سے سکھایا ، سمجھایا اور پڑھایا گیا ہے اور یہ بات صرف مسلم معاشرے کی ہی نہیں بلکہ ہر مذہبی معاشرے کی صورتحال یہی ہے ہندوستان میں ہی دیکھ لیجیئے کیسے ہندو بچوں کو انتہا پسند بنایا جا رہا ہے ۔
اختلاف رائے کیا ہوتا ہے ؟
اختلاف رائے کا مطلب ہے انسان کا مختلف ہونا، اور مختلف سوچنا ۔
Think out of the box
اور یہ مختلف سوچنا ہی اس کائنات کا اصل حسن اور خوبصورتی ہے ۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ اس خوبصورتی کو بدصورتی میں بدل دیتے ہیں آپ خود کو مسلمان اور دوسروں کو کافر سمجھتے ہیں آپ ایک دوسرے کی مقدس اور تاریخی شخصیات کو تاریخ کے نام پر شب و ستم کا نشانہ بناتے ہیں آپ سیاسی طاقت کے حصول کے لئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں آپ دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنے کے بجائے اسے دشمنوں کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں جب کہ کسی بھی موضوع سے متعلق مروجہ تشریحات سے دین کے دائرے میں رہتے ہوئے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اختلاف رائے فطرت کا قانون ہے اس قانون کو ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے اختلاف امتی رحمۃ ۔
اور اس طرح کا آزادانہ تبادلہ خیال ذہنی ارتقاء کا لازمی تقاضا ہے جو ایک بہتر اور روشن خیال معاشرے کی تعمیر میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔

میں دے رہا ہوں تجھے خود سے اختلاف کا حق
مگر یہ اختلاف کا حق ہے ، مخالفت کا نہیں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button