علما و مشائخ

رئیس المحدثین امام محمد بن طاہر پٹنی

تحریر: محمد سلیم انصاری ادروی

ولادت: رئیس المحدثین امام محمد بن طاہر پٹنی علیہ الرحمه کا شمار ہندوستان کے ممتاز محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمه کے ہم عصر تھے۔ آپ سنہ ٩١٣ھ کو گجرات کی قدیم دارالسلطنت پٹن میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نسب کے تعلق سے دو قول پائے جاتے ہیں، بعض محققین کے مطابق آپ عربی نژاد صدیقی تھے یعنی امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنہ کی نسل سے تھے۔ جب کہ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ محدث پٹنی ہندی الاصل بوہرہ قوم سے تھے، بوہرہ قوم کے دو مشہور فرقے تھے، چھوٹی جماعت شیعہ اور بڑی جماعت سنی تھی۔ محدث پٹنی کا تعلق بڑی جماعت (سنی/ اہل سنت وجماعت) سے تھا۔

تحصیل علم: آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد دوسرے علوم کی طرف متوجہ ہوئے، پٹن بادشاہوں کا دارالسلطنت ہونے کے ساتھ علما و فضلا کا مرکز بھی تھا۔ چناں چہ آپ نے وہیں پر مولانا شیخ ناگوری، شیخ برہان الدین اور مولانا یداللہ سے منقولات و معقولات کی تکمیل کی۔ نہروالہ پٹن میں درسیات کی تکمیل کے بعد آپ حرمین شریفین حاضر ہوئے، وہاں آپ نے عرب کے نامور فقہا و محدثین مثلا شیخ ابوالحسن محمد بن عبدالرحمن بکری، علامہ احمد بن محمد بن علی حجر مکّی، شیخ علی بن محمد محدث عراقی، شیخ جار اللہ مکّی شافعی سے درس حدیث حاصل کیا۔ شیخ علی متقی کی صحبت میں رہ کر ان سے مرید ہوئے۔ صاحب کرامت و برکت ہو کر وطن واپس آئے۔

تدریس و تبلیغ: ہندوستان تشریف لانے کے بعد آپ نے اپنی قوم میں رائج بدعات و خرافات کا خاتمہ کرکے اہل سنت و بدعتیوں کا فرق اپنی قوم کو سمجھایا۔ اپنے وطن ہی میں آپ نے ایک دینی مدرسہ قائم کیا، جس میں آپ خود درس حدیث دیتے تھے، حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں جب گجرات میں نیا مدرسہ قائم ہوا تو یہ مدرسہ اسی میں ضم کر دیا گیا۔ محدث پٹنی کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل ہے، چند اہم شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:

● شیخ ضیاء الدین بن شیخ محمد غوث گوالیاری، ● شیخ داؤد بن شیخ حسن، ● شیخ محمد شطاری، ● شیخ جیون سورتی، ● شیخ عبد الہادی احمد آبادی، ● شیخ فرید کاسب پٹنی، ● شیخ عبد النبی، ● شیخ حسین سورتی۔

خدمت علم حدیث: علم حدیث میں آپ کا درجہ بہت بلند تھا، اپنے زمانے میں آپ گجرات کے محدثین پر فوقیت رکھتے تھے۔ فن حدیث میں آپ نے بے نظیر کمال حاصل کیا اور اپنی پوری زندگی خدمت حدیث میں وقف کر دی، فن حدیث کے ساتھ آپ کو علم لغت و عربی ادب میں بھی مہارت تامہ حاصل تھی، آپ نے حدیث کے مشکل الفاظ و لغات کا ایک جامع لغت (مجمع بحار الانوار) مرتب کیا، جو شرح حدیث میں کافی مشہور ہے، آپ کی دوسری مشہور کتاب "المغنی” ہے جو اسماء الرجال کے تعلق سے ہے۔ اس کے علاوہ بخاری، مسلم و مشکوة شریف پر آپ نے حاشیہ لکھا جس سے ہند و بیرون ہند کے اہل علم آج بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تصنیف و تالیف: محدث پٹنی فطری مصنف تھے، آپ نے درس و تدریس کے علاوہ حدیث، رجال، لغت، معقولات، معانی، فقہ، اصول فقہ، صرف، سیرت، عقائد، اصول، تفسیر اور تصوف کے تعلق سے تقریبا تیس کے آس پاس کتابیں قلم بند کیں، جن میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں۔

● حاشیہ صحیح بخاری، ● حاشیہ صحیح مسلم، ● حاشیہ مشکوة المصابیح، ● چہل حدیث، ● سوانح نبوی، ● شرح عقیده، ● طبقات حنفیہ، ● رسالہ فضیلت صحابہ، ● رسالہ نہروالہ، ● خلاصتہ الفوائد، ● حاشیہ توضیح و تلویح، ● توسل، ● مقاصد جامع الاصول، ● تذکرة الموضوعات، ● کفایتہ المفرطین، ● مجمع بحار الانوار، ● منہاج السالکین، ● نصاب البیان، ● قانون الموضوعات، المغنی۔

فرقہ مہدویہ کا رد: مہدوی فرقے کا بانی سید محمد بن سید محمد عبد اللہ (م سنہ ٩١٠ھ/ ١۵٠۵ء) سنہ ٨۴٧ھ/ ١۴۴٣ء کو جون پور میں پیدا ہوا۔ جون پور ہی میں تحصیل علم کے بعد سنہ ٨٨٧ھ کو حج کے ارادے سے حجاز مقدس کا سفر کیا، اور درمیان سفر ہند و بیرون ہند کے شہروں میں قیام کرکے مہدویت کی دعوت دی، سید محمد کے انتقال کے بعد اس کا بڑا بیٹا میران سید محمود جانشین ہوا اور اس فرقے نے ہندوستان کے مختلف حصوں میں جگہ بنا لی، گجرات بھی اس فرقہ کے متشدد حامیوں کا مرکز تھا، محدث پٹنی نے حجاز مقدس سے واپسی کے بعد درس و تدریس، تصنیف و تالیف کے ساتھ اس فرقے کی تردید اور اس کے ماننے والوں کی اصلاح کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ محدث پٹنی نے عہد کیا تھا کہ جب تک اپنی قوم سے بدعات و ضلالت دور نہ کر لوں گا تب تک اپنے سر پر عمامہ نہ بادھوں گا، جب سنہ ٩٨٠ھ میں شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے گجرات کی سرزمیں پر قیام کیا، اور علماے کرام کی شاہی تقریب میں محدث پٹنی کو بغیر عمامہ کا دیکھا تو اکبر نے عمامہ نہ باندھنے کی وجہ محدث پٹنی سے جاننے کے بعد خود کے ہاتھوں سے آپ کے سر پر عمامہ باندھا اور فرمایا کہ دین متین کی نصرت ہمارے ذمہ ہے، تمہیں ازالہ بدعت میں کوشش کرنی چاہیے۔ اکبر کا رضاعی بھائی خان اعظم مرزا عزیز جب تک گجرات کا حاکم رہا اپنے عہد میں محدث پٹنی کی مدد کرتا رہا۔

وصال: اکبر کا رضاعی بھائی جب اپنے عہدے سے معزول ہو گیا تو عبد الرحیم خان خاناں گجرات کا والی ہوا جو شیعہ تھا، اس بات کو جان کر محدث پٹنی بہت مایوس ہوئے اور اپنے سر سے عمامہ کو جدا کرکے شہنشاہ کے حضور میں عرض حال کی غرض سے آگرہ روانہ ہوئے، بوہروں کا ایک گروہ ان کے پیچھے چل دیا، جب آپ اُجّین اور سارنگ پور کے درمیان پہنچے تو بوہروں نے موقع پاکر آپ کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ سنہ ٩٨٦ھ/ ١۵٧٨ء میں پیش آیا، محدث پٹنی کے ہم راہیوں نے آپ کے جسم کو پٹن لاکر آپ کے بزرگوں کے پاس دفن کر دیا۔

(محدثین عظام کی حیات و خدمات/ص: ٦١٧-٦٢٠، تذکرہ علمائے ہند/ص: ٣٧٦-٣٧٨، تذکرة المحدثین/ص:٣٨۴-٣٩٠)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے