گوشہ خواتین مذہبی مضامین

پردہ عورتوں کے لیے شانِ افتخار ہے نہ کہ قید وبند کا سامان!

اگر کپڑے کا ایک ٹکڑاآپ کی نظر میں قصوروار ہے تو ایسا کون سا سماج ہے جس کی تمام تر رسمیں درست ہیں ؟

تحریر: نعیم الدین فیضی برکاتی،ریسرچ اسکالر
اعزازی ایڈیٹر:ہماری آواز(اردو،ہندی میگزین)مہراج گنج
mohdnaeemb@gmail.com

پردہ امت مسلمہ کا شعار ہے۔یہ انسانی معاشرے کو حسن و پاکیزگی عطا کرتا ہے،جو بجا طور پر خواتین کے لیے شان افتخار ہے۔انسان کو فطرت کی سیدھی راہ سے ہٹا نے کے لیے شیطان کی سب سے بڑی یہ چال ہے کہ وہ اس کے جذبہ شرم وحیاپر ضرب لگائے۔اسی لیے کچھ لوگوں کے یہاں ترقی کا کام اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا ،جب تک عورت بے پردگی اور بے حیائی کا مظاہرہ نہ کرے۔حیا کو دقیانوسیت اورپردے کو عورت کے اوپر ظلم قرار دیا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے برقع اور حیا کی چادر سے مغرب ایسا خوف زدہ ہے گویا یہ کوئی بم ہے کہ انہیں تباہ کردے گا۔بھارت میں بھی ادھر چند سالوں سے اسلامی تعلیمات واحکامات پر ایک ایک کرکے کچھ شرپسندوں کی جانب سے بے جا اور بے ہودہ تبصرے کیے جارہے ہیںاور من گھڑت و بے بنیاد باتیں کرکے مسلمانوں کو غیر ضروری باتوں کی فکر میں مبتلا کیا جارہاہے ۔تین طلاق سے لے کرتعدد ازواج ،اذان،نماز،قرآن ،داڑھی ،پردہ اور عورتوں کے حقوق کی جھوٹی دہائی تک جتنے بھی بیانات ہیں وہ سب کے سب سیاسی اور شرپسندانہ ہیں ۔دراصل ان نفرت کے پجاریوں کواسلام کی انقلابی تعلیمات اور مسلمانوں کی منظم زندگی سے ڈر لگتا ہے،جس کی وجہ سے وہ آئے دن نت نئے فتنے پیدا کرکے مسلمانوں کو ہراساں اور ان کے تشخص کو مٹانا چاہتے ہیں۔ لیکن جتنا یہ دبانے کی بے جا سعی کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ نکھر اور سنور کر سامنے آجاتا ہے۔
اسلام دین فطرت ہے ۔اسلام کا نظام معاشرت نہ تو قدیم جاہلانہ معاشروں کی طرح ایسے نظام پر مشتمل ہے،جوانسان کی بنیادی خواہشوں اور ضرورتوں تک پر قدغن لگا دیتا ہواورنہ آج کے جدید اور بزعم خود’’روشن خیال‘‘معاشروں کی طرح دونوں صنفوں کو اتنی مادر پدرآزادی دیتا ہے کہ وہ جانوروں کو بھی شرما دے۔بلکہ یہ نظام اعتدال پر مبنی ہے جو دنیا کے لیے اصل روشنی اور خیر وبرکت کا باعث ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سب سے نیک اور پاکیزہ بندوں کوقرآن حکیم میں یہ حکم دیا :
ترجمہ:نبیﷺکی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو توپردے کے پیچھے سے مانگا کرو،یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔(احزاب)
اس آیت کو آیت حجاب کہتے ہیں۔اس کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے اپنے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دیے۔پھر ان کی دیکھا دیکھی دوسرے مسلمان گھرانوں میں بھی یہی طریقہ رائج ہو گیا کہ باہر کے لوگ اندر کے لو گوں کو نہیں دیکھ سکتے اور اندر کے لوگ باہر کے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔اسلامی معاشرے کی پاکیزگی کے لیے اسی طرح دھیرے دھیرے احکام نازل ہوتے رہے ،جن میں عورت کی بنیادی ذمہ داری گھر کے اندر کے کام اور نئی نسلوں کی تربیت ٹھہری اوربیرونی زندگی کی مشقتوں کا ذمہ دار مرد کو بنایا گیا۔حجاب محض سر پر رکھے جانے والے ڈیڑھ گز کپڑے کا نام نہیں ہے ،بلکہ یہ ایک مجموعہ احکام کا نام ہے،جن میںنگاہیں نیچی رکھنے سے لے کر،گھر سے باہر اور گھر کے اندر کے پردے کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ آواز اور خوشبو سے متعلق احکام بھی شامل ہیں۔یہ اسلام کے اس نظام عفت و عصمت کا نام ہے جو نہ صرف گھر اور سماج کو پاکیزگی بخشتا ہے بلکہ عورت کو بے شمار عزت و توقیر عطا کرتا ہے،خاندانوں کو مضبوط ومستحکم کرتا ہے اور باہمی اعتماد کی بحالی کے ذریعہ محبتوں میں اور مٹھاس پیدا کرتا ہے۔
عورت کے ستر کی حدود کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:کسی عورت کے لیے،جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو،جائز نہیں کہ وہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے اور ہتھیلی کے۔(حدیث)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ: عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ساخت وہیئت نمایاں ہوں۔
ان نصوص کے تناظر میں آ ج کی مسلمان عورتوںکا جائزہ لیا جائے تو بہت ہی کم تعداد ملے گی جوپردہ کا اہتمام کما حقہ کرتی ہوں۔آج کل لباس کا ایسا چلن ہے کہ اللہ کی پناہ!جس سے ستر کی یہ حدود بھی خواتین پوری کرتی نظر نہیں آتیں۔مسلمان عورتوں کا ایک عجیب طرز عمل ہے کہ لباس پہنا تو ایسا جو ستر سے چھوٹا ہو۔پتلے کپرے،اونچی شلوار اور باریک دوپٹہ جن میں جسم خوب ظاہر ہو۔العیاذ۔صحابیات کا ان احکام پر کیسا عمل تھا ۔کتب تفاسیر میں مذکور ہے کی جب یہ حکم آیا کہ عورتیں اپنی اوڑھنی سے اپنے سینے ڈھک لیں تو عورتوں نے اپنے کپڑوں میں سے موٹے کپڑے چھانٹے اور ان کے دوپٹے بنائے۔
پردہ بوجھ نہیں ہے جس کے نیچے مسلمان عورت دبی ہوئی ہے ۔بلکہ پردہ مسلمانوں کے عقائد کا آئینہ دار،اسلامی شعار اور مسلمان عورتوں کی پہچان ہے۔پردہ نہ صرف جسم کو گرد آلود ہونے سے بچاتاہے بلکہ سامنے والے کے گندی سوچ اورشرپسند آنکھوں کی شرارت سے محفوظ رکھتاہے۔شرم وحیا کے مضبوط قلعہ میں قید کر کے اس کی حفاظت کرتاہے،حجاب ایک صدف ہے جو شریف اور طاہرہ عورت کو ایک موتی کی طرح اپنے اندر چھپا کر آنکھو کو حیا اور دلوں کو ایمان کا سرور بخشتا ہے۔حسن جسموں کو نمایاں کرنے سے نہیں آتا بلکہ حقیقی حسن انسان کے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری سے پیدا ہوتا ہے۔
آج کل پردے کو لے کر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ حجاب کی وجہ سے تازہ ہوا نہ ملنے سے عورتوں کی صحت خراب ہوتی ہے۔ان سے میرا بھی ایک سوال ہے کہ فیکٹریوں،دفتروں اور دکانوں میںکام کرنے والے مردوں کو تازہ ہوا کہاں سے ملتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ آج مرد وعورت دونوں کی صحتیں خراب ہیں اس کی وجہ ناقص غذا،غربت اور وہ جنسی ہیجان ہے جو چاروں طرف بے پردگی اور بے حیائی کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہیں۔کچھ آزاد خیال لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔اگر عورت کا دل صاف اور نیت درست ہے تو اسے پردے کی کیا ضرورت؟میرے عزیز!اگر بات صرف قلبی جذبات اورروح کی ہے توسنیے! نماز کی روح عاجزی وانکساری ہے۔روزہ کی اصل روح تقویٰ ہے۔قربانی کا اصل مقصدجذبہ ایثار وقربانی ہے اور ایسے ہی حج کا حقیقی مدعا ذہنی انقلاب ہے۔تو کیا ان عبادات کی ظاہری شکلوں کو ختم کر دیا جائے؟پھر یہ کیسی نیک نیتی ہے جو اعمال سے ظاہر نہیں ہوتی۔اگر عورت کے دل میں پردہ ہے اورسر سے پاؤں تک بے پردہ ہے تو ایسا دل کا پردہ آپ کو مبارک!
ائے عزیز مسلمان بہنو!اللہ کا دین اسلام اتنا لطیف ہے کہ وہ یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ عورتیں ایسی خوشبو لگا کر باہر نکلیں،جو باعث کشش ہو،یا ایسا زیور پہن کر نکلیں،جس کی جھنکار غیر مردوں کو متوجہ کرے۔یاد رکھیں! ایک مومن اللہ کے احکام کا پوری طرح پابند ہوتا ہے۔وہ نہ کرنے کے عذر نہیں تلاشتا۔ایسا تو منافقین وفاسقین کرتے تھے۔مسلمان اس بات کو خوب اچھی طریقے سے جانتا ہے کہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے اور نافرمانی میںآخرت کا عذاب بھی ہے اور دنیا کی ذلت و رسوائی بھی۔
عالمی سطح پر پردے کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے ۔بہت حد تک لوگ کامیاب بھی ہو ئے ہیں ۔مگر ساتھ ساتھ کچھ غیور مسلم خواتین نے اپنے اعمال و کردار اور پردے میں رہ کر بہترین کامیابی سے ان کو کا فی حد تک ناکام بھی کیا ہے ۔ابھی کچھ دنو ں پہلے سری لنکا میںبرقع کی پابندی پر ہندوستان میں بھی چہ می گوئیاں شروع ہوئی تھیں۔ادھو ٹھاکرے نے اپنے ایک بے سر پیر کے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’راون کی لنکا میں برقع پر پابندی ہو گئی رام کے ایودھیا میں کب ہوگا؟اور اب حال ہی میں یوگی کے ایک غیر معروف وزیر نے شہرت کے حصول کے لیے کہہ دیا کہ ہم پردہ پر قانون بنا ئیں گے ۔حالاں کہ ان کو یہ خوب معلوم ہے کہ ہندوستان میں یہ ممکن نہ یں ہے۔کہنے کو تو بہت کچھ کہہ دیا جاتا ہے۔مگر اس سے صرف اور صرف شہرت حاصل کرنی ہوتی ہے اوربس۔ایسے لوگوں کے بے کار کی باتوں پر بالکل بھی کان نہیں دھرنا چاہیے۔بلکہ اورسختی کے ساتھ پردہ کے رواج پر زور دینا چاہیے اور عمل کرنا چاہیے کہ وہ بے چارے خود ہی ناکام ہوکر چپ ہو جائیں گے۔رہی بات پابندی کی تو کیا یہ لیڈران یا حکومتیں طے کریں گی کہ کون کیا کھائے گا اور کیا پہنے گا۔ساڑی پہننا ہے یا سوٹ شلوار،جنس شرٹ یا کرتا پاجامہ۔
اگر کپڑے کا ایک ٹکڑاآپ کی نظر میں قصوروار ہے تو ایسا کون سا سماج ہے جس کی تمام تر رسمیں درست ہیں ؟اگر آج برقع پر پابندی لگانے کی بات کی جارہی ہے تو یقینا کل ساڑی اور گھونگھٹ پر بھی سیاست ہو سکتی ہے۔یوں ہی کسی سرپھرے کو شلوار اور سوٹ بھی کھٹک سکتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ لیڈران اور حکومتوں کو کس نے ہمارے خواہشوں کا مالک بنا دیا۔کیا ہم ایک جمہوری ملک میں جہاں سب کو اپنے بنیادی حقوق حاصل ہیںلیڈران کی پسند اور ناپسند کے تابع ہوکر غلامانہ زندگی بسر کریں؟نہیں ہرگز نہیں ۔یہ تو سراسرجمہوری قدروں کے خلاف ہے اور انسانیت کے بھی۔کیوں کہ اگر حکومتیں طے کریں گی کہ ہماری تھالی میں کیا پروسا جائے گا،ہم اپنے جسم کو کن کپڑوں سے ڈھنکیں اورہم اپنے کمروں کی الماریوںکو کن کتا بوں سے سجائیں تو یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ اس طے کرنے کی حد کیا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے