غزل

غزل: اپنی تدبیر میں بدفال ہوا ہے تھوتھو

خیال آرائی: ناطق مصباحی

چمچہ گیری سے تو خوشحال ہوا ہے تھوتھو
ملک وملت کا تو چنڈال ہوا ہے تھوتھو

ملک دشمن کی رضاتیری رضا ہوتی ہے
اپنی تدبیر میں بدفال ہوا ہے تھوتھو

تو نے آیات کی توہین سے مرتد جو ہوا
ماں کی عزت کو تو پامال کیا ہے تھوتھو

دیس دشمن انھیں آیات سے لرزاں ترساں
انھیں آیات سے بدحال ہوا ہے تھوتھو

وسیم رضوی ھے بیزار ملک وملت سے
اس سے بیزار جواں سال ہوا ہے تھوتھو

وفا شعار جو ناطق ہے ملک و ملت کا
اس سے غدار برا حال ہوا ہے تھوتھو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے