مذہبی مضامین

فضائل شب برأت اور ہمارے معاملات

ازقلم: محمد کامل حنفی بنارسی

۱۵ شعبان المعظم یہ اتنی بابرکت اور مقدس شب ہے کی اس شب میں اللہ تبارک وتعالی غروب آفتاب سے آسمان دنیا پرخاص تجلی فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی بخشس چاھنے والا کہ اسے بخش دوں ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کے اسے روزی دوں ہے کوئی بلاؤں میں مبتلا کہ اسے عافیت دوں ہے کوئ ایسا ہے کوئ ایسا الخ۔۔۔۔
سوچو لوگوں جب ایسی مقدس اور بابرکت رات ہمیں مل جائے جس رات میں اللہ تبارک وتعالی کی خاص تجلی دنیائے آسمان پر ہو تو اس رات میں ہمیں کیا کرنا چاھیئے؟
حدیث میں آیا ہے حضرت علی رضی اللہ تعاکی عنہہ راوی ہیں آپ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب شعبان کی پندرویں شب آجائے تو رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو
اور حدیث پاک میں ہے کہ ۱۵ شعبان کو نامہ اعمال تبدیل ہوتے ہیں اس لئے علماے کرام فرماتے ہیں کہ ۱۴ شعبان کو بھی روزہ رکھو تاکہ ہم نامہ اعمال کے آخری دن بھی روزہ سے ہوں اور اس دن بعد نماز عصر ذکر و دعا میں مشغول رہیں تاکہ ہمارے گزشتہ نامہ اعمال کے آخری لمحات ذکر و دعا میں گزریں پھر نماز مغرب با جماعت ادا کریں تاکہ نئے نامہ اعمال کا آغاز اللہ تبارک وتعالی کی عبادت سے ہو
لیکن افسوس تو اس بات کا ہے۔ مجھے نم آنکھوں کے ساتھ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ آج تو ہمارے معاشرے کے نوجوان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ بجائے عبادت کے پوری رات گاڑیوں سے گھومتے رہتے ہیں جیسے ان کے لئے تو جشن کی رات آگئی ہو ۔تیز رفتار سے گاڑیاں چلانا، موج مستی کرنا اور تو اور کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ۱۴ شعبان کے آتے ہی سوشل میڈیا پہ معافی کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں اور ایک دوسرے کو معافی کا میسج دے کر معافی مانگتے رہتے ہیں عالم تو ایسا ہوتا ہے اگر مورخ وقت حاضر کی تاریخ لکھے گا تو یہ ضرور لکھے گا کہ ایک قوم ایسی بھی گزری جواپنے قرابت داروں بیواؤں یتیموں دوست احباب و والدین کی حق تلفی تو کرتی مگر معافی مانگتی تو سوشل میڈیا پر مانگتی اور دعائیں دیتی اور عزم و حوصلوں کا اظہار تو کرتی ہے مگر سوشل میڈیا پر ۔نیز جو نیکیوں کا حکم دیتی اور برائ سے تو روکتی ہے مگر سوشل میڈیا ہی پر اور تو اور اگر وہ دن کے اجالوں میں اور رات کے اندھیروں میں گناہ کرتی ہے تو توبہ و استغفار بھی سوشل میڈیا پہ کرتی۔۔اللہ اکبر
عزیزو!
۱۵ شعبان جسے شب براءت یعنی نجات کی رات کہتے ہیں اس مقدس رات کی اہمیت کو سمجھیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں ۔ جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ عبادت کریں رات کے کچھ حصہ میں زیارت قبور کو جائیں اور باقی شب میں قیام و تلاوت کریں ۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ فیشن والی معافی مانگنا چھوڑدیں ان سب ریاکاریوں سے باہر آئیں ،اگر فکر ہو تو گھر کے افراد خاندان پڑوسیوں دوست احباب اور جن کی حق تلفی کی ہے جن کا حق دبایا ہے ان کے حقوق دیکر یا جن کی رقم یا کچھ دبایا ہے وہ دیکر نیز جن کو گالی بکا یا مارا ہے یا بلا وجہ شرعی جھڑکا ہے ان کے پاس جاکر معافی کے طلبگار ہوں ۔
اللہ تبارک وتعالی سے دعا ہے کی ہمیں ہر کاموں میں خلوص پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے!!!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے