مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تبصرہ: خالد ایوب مصباحی شیرانی جے پور

باغ نعیمی کے خوشہ چینوں میں حضرت مولانا غلام مصطفی نعیمی کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ عمر کم ہے لیکن جس طرح مطالعہ، تجربہ اور فکر میں وسعت ہے، ویسے ہی تحریروں میں بھی بلا کی خوبصورتی رکھتے ہیں۔
کچھ عرصہ ہوا ہم دونوں کے بیچ ایک عقیدت مندانہ رشتے کو لے کر کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں لیکن جب تحریروں کی برکت سے غلط فہمیاں دور ہوئیں اور باہمی مزاج آشنائی ہوئی تو یہ پایا کہ نعیمی صاحب طبعاً نہ صرف یہ کہ کشادہ ظرف، علم دوست، کام پسند اور بالغ نظر ہیں بلکہ ان تمام خوبیوں کے ساتھ مسلک و ملت کے تئیں غیرت مندانہ وفادار بھی ہیں۔
حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ سے غایت درجہ محبت کرتے ہیں اور اس محبت کو کئی قلمی شکلوں میں پیش بھی کر چکے ہیں۔ حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے رسالہ السواد الاعظم کی نشأۃ ثانیہ کا فخریہ سہرا بھی ہزاروں نعیمیوں کے بیچ آپ کے سر ہے۔
عام طور پر فکری موضوعات کو روئے سخن بناتے ہیں اور جسے بنا لیتے ہیں، اسے دوستوں کی طرح نبھاتے ہیں۔ ہمارے عہد کا بھارت ایسے ہی فکر و نظر کو بالیدگی بخشنے والے مضامین کا عطر مجموعہ ہے، جو بجائے خود کسی بھی نو خیز کی بلند فکری کی ضمانت بن سکتا ہے۔
اس کتاب کی فہرست پر نظر ڈال کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دو سال کے مختصر عرصے میں جس طرح نوجوان صاحب کتاب نے حالات کی سنگینیوں پر اپنے درد دروں کا اظہار کیا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے بر وقت ملت کی رہ نمائی فرمائی ہے اور سیاسی ہنگامہ خیزیوں سے بے فکر ہو کر اپنا قلمی احتجاج درج کروایا ہے، وہ تمام رنگ تقریباً وہی ہیں، جو ایک زمانے میں حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کے مضامین میں نظر آتے ہیں۔ یہ محض دوستانہ مراسم کے لحاظ پر مشتمل جملہ نہیں، ایک عملی سچائی ہے جسے کوئی بھی فرق مراتب کے ساتھ مقالات صدر الافاضل کا مطالعہ کر کے پرکھ سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے عہد میں وہ تحریریں زیادہ پڑھی جاتی ہیں جو بہت طول طویل نہ ہوں اور قاری کا ذوق ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس مجموعے کی خوبی یہ ہے کہ اس کی بیشتر تحریروں میں سوشل میڈیا کے آداب بھی ملحوظ ہیں اور قاری کے ذوق کا بھی مکمل خیال۔ مجھے نعیمی صاحب کی تحریروں میں جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ ان کی جامعیت ہے۔ وہ موضوع کے کسی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑتے۔ اس بات کو پھر اس مجموعے میں بطور دلیل پرکھا جا سکتا ہے۔
اس جامعیت کے علاوہ ان کے ہاں اردو املا نویسی کے جدید فنی اصولوں کی جس طرح پاسداری ہوتی ہے اور جس طرح ان کی تقریباً ہر تحریر میں کچھ نئی، کچھ دل چسپ اور کچھ جدید تعبیریں دیکھنے کو ملتی ہیں، ایک بڑی تعداد کے یہاں رسمی تحریروں کے علاوہ یہ خوبیاں دیکھنے کو آنکھیں ترس ترس جاتی ہیں۔
تحریر و تقریر کی رسم پروریوں سے اوپر اٹھ کے دیکھا جائے تو شخصی طور پر بشمول نعیمی صاحب کے روشن مستقبل ٹیم کے ہر ممبر کی ایک مشترکہ خوبی یہ ہے کہ جیسے ان میں سے ہر ایک کی علمی اور عملی جولان گاہیں، قدرے جدا ہیں، بفضلہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کے اندر دین و ملت کے تئیں درد مندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اب یہ بات راز نہیں رہی بلکہ خطبات جمعہ، مقالات اور ٹویٹر ٹرینڈنگ کے بعد ادھر پچھلے کچھ سالوں سے تو دنیا معترف ہونے لگی ہے۔ ہم لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف ملی بلکہ بارہا ذاتی مسائل پر بھی باہم سایوں کی طرح مربوط رہتے ہیں۔ ظاہر ہے اس طویل ممارست اور اختلاط میں تصنع کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ ان تجربات کی روشنی میں ایمان کی کہیے تو مولانا نعیمی صاحب کے یہ رشحات قلم ایک درد مند کی کراہ، ایک مفکر کی تنبیہ، ایک دانش ور کی راہ نمائی اور ایک با ذوق صاحب قلم کے ذوق کی نشانیاں ہیں۔ ان خطوط راہ کو جو طالب جس نقطہ نظر سے دیکھے گا، مفید پائے گا۔
نعیمی صاحب کی تحریروں میں ایسی چاشنی رہتی ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ان کی یہ جتنی تحریریں وقتا فوقتا سامنے آتی رہیں، اسی وقت مطالعہ ہوتا رہا اور بہت سی تحریروں پر فیس بک/ وہاٹس ایپ/ ٹویٹر کے ذریعے تاثر بھی دیا جاتا رہا، جن روایتی تاثرات کے اعادے کی یہاں حاجت نہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا جہان میں پھیلے اور ایک دنیا کو اپنا گرویدہ بنانے والے ان منتشر شہ پاروں کو آج یکجا دیکھ کر بے پناہ مسرت ہو رہی ہے۔ امید ہے جن حضرات نے سوشل میڈیا سے دوری بنا رکھی ہے، یا جن کی بزرگی اس طرح کی جدت طرازیوں کی طرف دار نہیں، یہ مجموعہ ان اکابر اور اہل اللہ کے لیے بطور خاص سرمہ نظر بنے گا۔
ماضی قریب میں نعیمی صاحب کے بوڑھے قلم نے ایک خاص قسم کا رنگ تحریر اور اپنایا اور وہ یہ کہ انھوں نے الگ الگ تقریبات کی مناسبت سے اہل اللہ کے حالات پر اپنے خاص اور منفرد افسانوی لہجے میں رنگ آمیزیاں شروع کیں۔
جس طرح محض چند دنوں میں ان دونوں کتابوں نے فتوحات حاصل کی ہیں، ہمیں یقین کی حد تک امید ہو چلی ہے کہ ہمارے عہد کے بھارت کو ناپنے کا پیمانہ ہو، یا کسی کو اپنی گم کردہ منزلوں کا نشان چاہیے، ہر کسی کے لیے یہ کتابیں نعمت بے بہا اور نعیمی تحفہ ثابت ہوں گی۔ لگ رہا ہے اس سال کی مذہبی تحریروں میں قبول عام کا خاصا ریکارڈ ان تحریروں کے نام رہے گا۔ اللہ کرے یہ اندازے غلط نہ ہوں اور خدا توفیق دے کہ صدر الافاضل کی ان فیض باریوں کا سلسلہ اسی طرح دراز تر ہوتا جائے۔ آمین۔

خالد ایوب مصباحی شیرانی
چیرمین: تحریک علمائے ہند، جے پور

نوٹ: کتاب حاصل کرنے کے لیے 9717285505 پر رابطہ کریں۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

"صحافت: دو صدی کا احتساب” میں "ہماری آواز” ویب پورٹل کا خصوصی تذکرہ

اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے پر جناب صفدر امام قادری، راج دیو کمار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔