غزل گوشہ خواتین

غزل: گھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع

خیال آرائی: خوشبو پروین، حیدرآباد

ہر اک قدم پر ہوجائے گا پھر میرا انکار شروع
گھر سے نکلوں تو آنکھوں کا ہوتا ہے بازار شروع

نفرت نے تو پہلے ہی تقسیم کیا ہےرشتوں کو
بوڑھا برگد کٹے تو آنگن میں ہوگی دیوار شروع

کب سے سنتی ہی آئی ہوں، میری بھی کچھ سن لو آج
عادت سے مجبور ہو تم، ہو جاتے ہو ہر بار شروع

اپنی صفائی میں کہنے کی مجھ کو اجازت ہے ہی نہیں
منصف جلد اشارہ تو کر، ہو جائے تلوار شروع

صرف مبارک ہو کی آوازیں ہی گونجی تھیں ہرسو
کس نے حامی بھر دی جس دم میں نے کیا انکار شروع

بستی والوں کی نظروں میں یونہی تو بدلاو نہیں
پھر کسی مذہب کا ہونے والا ہے کیا تہوار شروع

ہجرت کے رستے جاوں تو زاد ِ سفر خودداری ہے
لوٹتی ہوں تو خوشبو تھوڑے فاصلے پر دربار شروع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے