کالمگوشہ خواتین

افسانہ: آنسوں

افسانہ نگار: گل گلشن، ممبئی

آنسوں بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک غم کے آنسوں اور دوسرے خوشی کے آنسوں۔ پانی کی طرح نظر آنے والے یہ آنسوں مختلف جذبات اور احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں۔کبھی اپنے پیاروں کے روٹھ جانے پر یہ آنسوں بھتے ہیں اور کبھی کسی اپنے سے ایک عرصے بعد ملاقات پر یہ آنسوں بھتے ہیں ۔یوں تو آنسوں کسی بھی جذبات کے تحت نکلیں قابل توجہ ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ آنسوں دل کے سچے جذبوں کو بیان کرتے ہیں۔لیکن یہی آنسوں تب معتبر ہو جاتے ہیں۔جب یہ ذریعہء اظہار بندگی بھی ہوتے ہیں کہ بندہ اپنے رب کے حضور مقبول ہو جاۓ۔گناہوں میں ڈوبا دل جب آنسوؤں سے غسل کرتا ہے تب وہ پوری طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے۔اور وہی آنسوں معتبر ہوتا ہے جو رب کو منانے میں بہے۔رب کے سامنے آنسوؤں کا جاری ہونا رحمت خداوند کے حامل شخص کی علامت ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں

ہر کجا آبِ رواں غنچہ بود
ہر کجا اشکِ رواں رحمت بود

"جب آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین پر پھول اور غنچے کھلتے ہیں اور جب آنسوں جاری ہوتے ہیں تو اللہ تعٰلی کی نعمت و رحمت برستی ہے۔”
آنسوؤں سے ہمارا رشتہ پیدائشی ہے کیونکہ پیدائش کے بعد ہم پہلا کام رونے کا کرتے ہیں۔لیکن سب سے افضل آنسوں وہ ہیں جو اللّه کے حضور بھتے ہیں۔جو ندامت کے آنسوں ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ دکھاوے کے آنسوں بھی بہاتے ہیں جنہیں مگر مچھ کے آنسوں کہا جاتا ہے۔بہر حال آنسوں بھی اللّه پاک کی نعمت ہیں کیونکہ اگر آنسوں نہ ہوتے تو دل درد سے پھٹ جاتا۔

ہما اکبر آفرین

محترمہ ہما اکبر آفرین صاحبہ گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولا بازار سے تعلق رکھنے والی بہترین قلم کار ہیں۔ فی الحال موصوفہ ہماری آواز کے گوشہ خواتین و اطفال میں ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button