تنقید و تبصرہ شعر و شاعری

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے" از شہزاد احمد کھرل شاذ

الحمدللہ آج بتاریخ 17/ اپریل 2021 بروز سنیچر استاد محترم جناب شہزاد احمد کھرل شاذ صاحب کا گراں قدر تحفئہ کتاب "شعر کیسے بنتا ہے” موصول ہوا، یقیناً یہ میری زندگی کا بہت ہی عظیم اور نایاب تحفہ ہے،
کسے نہیں معلوم کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ بہت ہی مضبوط اور اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے ، اور آج کل شوشل میڈیا کا زمانہ ہے، جس نے اس رشتہ کو اور بھی استوار کر دیا ہے، ایک شاگرد چاہے دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو وہ اپنے استاذ سے کسب فیض کر سکتا ہے، ایک شاگرد اپنے استاذ کو ہمیشہ اپنے دل میں بٹھائے رکھتا ہے۔ انکی عزت و تکریم میں اپنی سعادت اور شادمانی محسوس کرتا ہے اور خوشی تو اس وقت اور دو بالا ہو جاتی ہے جب استاذ کی طرف سے شاگر کو کوئی تحفہ موصول ہوجاتا ہے،
آج میں بھی ان خوش نصیب شاگردوں میں سے ایک ہوں جسے استاذ محترم کی طرف سے ان کی لکھی ہوئی ایک گراں قدر کتاب ” شعر کیسے بنتا ہے ” موصول ہوئی ،
استاد محترم سے میری شناشائی تین سال قبل فیس بک کے توسط سے ہوئی، آپ شہر گجرات سے تعلق رکھتے ہیں ، بڑے ہی ملنسار با اخلاق با ادب ، اور تہذیب و ثقافت کے اعلی اقدار کے حامل ہیں۔
مجھ ناچیز کو شعر و شاعری سے دلچسپی تو کم و بیش طالب علمی کے ابتدائی زمانے سے ہی رہی ہے تاہم شعر گوئی کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ آنے کے بعد ایک دن کسی شاعر کا کلام پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک داعیہ پیدا ہوا ، شوق وجذبہ اور ذوق سخن نے انگڑائی لی، اور دل ہی دل میں سوچا کہ یہ بھی ہماری طرح انسان ہیں جب یہ شاعری کر سکتے ہیں تو پھر میں کیوں نہیں کر سکتا، میں بھی ضرور شاعری کر سکتا ہوں، بس ہمت مرداں اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے ،

اگر ہمت کرے انسان تو پھر کیا نہیں بس میں
یہ ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے

چومے گی کامیابی قدم شرط ہے مگر
محنت سے جی کبھی بھی چرایا نہ کیجیے

پھر کیا تھا شاعری کے میدان میں جست لگایا ، علامہ گوگل سے رابطہ کیا کہ شاید کوئی کتاب فراہم کردے، آخر کار ایک کتاب ” آؤ شاعری سیکھیں از اسامہ سَرسَری’ ہاتھ آ گئی ، اس سے اتنا استفادہ کیا جس سے شعری تخلیق کے سلسلے میں کچھ شدھ بدھ پیدا ہو گیا ، لیکن اتنا کافی نہیں تھا ، یہاں ضرورت تھی ایک ایسے استاذ کی جس سے مکمل طور پر کسب فیض کرتا، شعری تخلیق کے اسرار و رموز سے آگاہی ہوتی ، الحمدللہ خوش قسمتی سے یہ امید بر آئی اور نعمت غیر مترقبہ کے طور پر سر شہزاد احمد شاذ کھرل صاحب مل گئے، جو فیس بک میں شاعری سیکھیں نامی ایک گروپ چلا رہے ہیں ، جس میں آپ شاعری سیکھنے والوں کی بھر پور رہنمائی فرماتے ہین، مجھے بھی یہاں سے کافی رہنمائی ملی، سر نے مزید افادہ عام کے لیےایک واٹس ایپ گروپ” #جہان ادب” کے نام سے تشکیل دی ،جس سے ہم سب اب تک جڑ ہوئے ہیں، سر نے از سرے نو اوزان میں شعر کہنے کا سلسلہ شروع کیا، اور یہ پہلا بیچ تھا جس میں اس ناچیز کو بھی شامل ہونے کا موقع فراہم ہوا، ماشاء اللہ اس گروپ میں اصلاح وتنقید کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جس میں کچھ منتخب احباب نو آموز شعراء کرام کے کلام کی اصلاح دیتے ہیں، میں نے پوری لگن کے ساتھ ایک مہینے تک بہت محنت شاقہ سے کام لیا جس نے مجھے اس قابل بنا دیا کہ باوزن کچھ اشعار کہہ سکوں , اس سے پہلے میں نے علم عروض کی کئی کتابیں پڑھی تھیں لیکن کما حقہ ان سے استفادہ نہ کر سکا ،کیون کہ ان میں کچھ ایسی باریک اصطلاحات کا سامنا ہوا جو مجھ ناچیز کے لئے بار گراں سے کچھ کم نہ تھیں،
استاذ محترم جناب سر شہزاد شاذ صاحب کی یہ کتاب علم عروض کی تمام کتابوں سے منفرد ہے، جو صرف ضروری اور اہم چیزوں کو محیط ہے۔ یقین مانیں اس کتاب نے علم عروض کے تمام اہم مسائل کو آسان اور عام فہم انداز میں پیش کرکے جدید شعراء کے لیے راستے ہموار کر دئے ہیں،
ویسے سر شہزاد شاذ صاحب بڑے محنت کش، ملنسار ، زندہ دل ، ہنس مکھ، خوش گفتار انسان ہین اور آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ بڑے ہی خلیق ، شگفتہ مزاج ، ودت و شفقت کے پیکر مجسم ہیں، آپ کسی بھی بات کو بڑے ہی سلیقے سے سہل اور سرل انداز میں پیش کرنے کا گاڈ گفٹیڈ ہنر رکھتے ہیں، اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر قاری بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ کتاب کس قدر مفید اور در نایاب ہے، شعر کہنے کے لیے جدت کو اپناتے ہوئے جو اہم لوازمات ہیں انکو بہت ہی سہل اور سرل انداز میں پیش کئے ہیں، تاکہ قارئین کو سمجھنے میں کوئی دقت کا سامنا کرنا نہ پڑے، کوئی قاری اس کتاب کو محنت کے ساتھ تمام تمرینات کو حل کر لے تو میں با وثوق کہہ سکتا ہوں کہ کچھ ہی ایام میں باوزن اور اچھی شاعری کر سکتا ہے ، بس شرط ہے محنت، لگن، اور جہد مسلسل کی۔

بہر حال! اس در نایاب کی پیش کش پر میں سرجی کو بہت بہت مبارباد پیش کرتا ہوں، اور ہدیہ تشکر پیش کرتا ہوں کہ آپ نے اپنےایک ادنی سا شاگرد کو یاد کیا، اور بطور گفٹ اپنی تصنیف کردہ یہ کتاب ارسال فرمائی۔۔۔۔۔ باقی میرے وہ احباب جو شعر و شاعری سے دلچسپی رکھتے ہیں اور شعر کہنا چاہتے ہیں ان کو میرا مشورہ یہی کہ وہ اس کتاب کو ایک بار ضرور پڑھیں، یقیناً شعر گوئی میں اس سے آپ کو بہت مدد ملے گی ۔۔۔۔۔ شکریہ رے نام بس اللہ کااااا۔۔

آپ کا شاگرد : نذیر اظہر کٹیہاری انڈیا، بہار، تریانی
متعلم : جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سعودی عرب

تبصرہ بر "شعر کیسے بنتا ہے" از شہزاد احمد کھرل شاذ” پر 0 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے