اشعاروغزل

غزل: سمجھتے نہیں جو بھلائی کا مطلب

خیال آرائی: شمس الحق علیمی، مہراج گنج

یہی ہے مری دل لگائی کا مطلب
کہ سمجھا تری بے وفائی کا مطلب

یہ مت سوچنا ہم کبھی بے خبر تھے
ہمیں بھی پتا تھا سگائی کا مطلب

تڑپتے نہیں ہم کبھی بھی اکیلے
سمجھتے اگر تم جدائی کا مطلب

‏گیا دیکھنے آج بھی تم سبھی سے
بتاتے ہو کیا جگ ہنسائی کا مطلب

انہیں سے ہمیشہ بھلائی کئے ہم
سمجھتے نہیں جو بھلائی کا مطلب

جو مطلب لڑائی کا میں نے بتایا
نہ مانے کبھی اس لڑائی کا مطلب

علیمی کسی پر بھروسہ نہیں ہے
کہ کس کو بتاؤں جدائی کا مطلب

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button