مذہبی مضامین

استقبال رمضان اوراس کے تقاضےدلائل کی روشنی میں

ازقلم: سرفراز عالم ابو طلحہ ندوی، بابوآن ارریہ

رمضان المبارک نزول قرآن ونزول خیر و برکت اور رحمت کی سالگرہ ہے،رحمتوں و برکتوں اور تجلیتوں کا وہ عظیم مہینہ ہے، جس میں طاعات و عبادات اور ایمان کی تازگی ہوتی ہے،اس مہینہ کے استقبال کا ہر خاص و عام منتظر رہتا ہے، اس مبارک ماہ میں نمازوں و نوافلوں اور اس کی تمام اقسام کی خوب تذکیر ہوا کرتی ہیں، رمضان المبارک کے استقبال کے لیے حضرات صحابہ کرام علیہم اجمعین اور تابعین و تابع تابعین اس کی تیاری میں چھ مہینے پہلے ہی منہمک ہوجاتے، اور رمضان المبارک کے روزوں کے لئے کمر کس لیتے تھے ،اس میں کسی بھی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں چھوڑتے ،اور اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھ کر ایمان و عمل کی تذکیر میں لگ جاتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے استقبال میں اعمال خیر کے متعلق تیز تند ہوا آندھی سے بھی آگے رہتے تھے، اور آپ رمضان المبارک کے استقبال کے لئے پوری توانائی اور انہماک کے ساتھ ذکر و اذکار میں مصروف رہتے تھے، لایعنی اور لغو باتوں سے پرہیز اور اجتناب کرتے تھے ،اور آمد رمضان المبارک سے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے تھے، اور ایسا لگتا تھا کہ آمد رمضان نے ان کے دلوں کو پر مسرت کردیا ہوں اور ان کے اندر نیا جوش و خروش اور ولولہ ایک نئی نشاط وامنگ پیدا کر دئے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام استقبال رمضان میں یوں گویا ہوتے تھے ،” هذا الذي كانت الأيام تنتظر فليوف لله أقوام بما نذروا( حوالہ رمضان المبارک اور اسکے تقاضے صفحہ 27تا30)
رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے مہینے کا استقبال اور اس کے آمد کی بشارت ہر خاص و عام کے مابین پھیلاتے اور لوگوں کو رمضان کی فضیلتوں سے آگاہ کرتے تھے ،کہ رمضان المبارک کا عظیم الشان مہینہ شروع ہونے والا ہے ،جس میں جنت کے تمام کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور اس میں ہر روز اللہ تعالی اپنے گہنگار بندوں کی بخشش فرماتے ہیں، اس کے آمد کی خوشخبری لوگوں کو سناتے تھے ، جس کی وضاحت حدیث کی کتابوں میں بالکل واضح کر دی گئی ہے، ارشاد رسول ہے کہ "أتاكم رمضان مبارك فرض الله عز وجل عليكم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة وتغلق فيه أبواب الجحيم و تغل فيه مردة الشياطين لله فيه ليلة خير من ألف شهر ومن حرم خيرها فقد حرم (حوالہ النسائی 21:6 صحیح الجامع الصغیر للالبانی:55)

ترجمہ: تمہارے پاس رمضان المبارک کا مہینہ آچکا ہے جوکہ بابرکت مہینہ ہے اللہ تعالی نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں، اور اس میں سرکش شیطان جکڑ دئے جاتے ہیں، اور اس میں اللہ کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے،جو شخص اس کی خیر سے محروم رہ جائے وہی اصل محروم ہے۔
اس حدیث کے اندر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہیں کہ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شیطان مردود کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ اپنے محبوب بندوں کو گناہوں پر برینگختہ نہ کر سکے۔

محترم قارئین!!!
رمضان المبارک کا استقبال اللہ کے نیک و صالح بندے اس طرح بھی کرتےہیں، کہ وہ اس مہینہ میں بارگاہ الہی میں توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ عزم صادق کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انہیں اس ماہ مبارک کی عظمتوں اور سعادتوں سے ایک مرتبہ پھر نوازا ہے ،تو ہم کیوں نہ اس مہینہ کو غنیمت سمجھیں، اس کی برکتوں اور رحمتوں سے کیوں نہ فائدہ اٹھائیں، اور اسی طرح وہ اپنے اوقات کو اللہ کی عبادت و بندگی کرنے میں اعمال صالحہ بجالانے میں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے میں مصروف رہتے ہیں،جس سے اللہ تعالی خوش ہوتا ہے ،اور وہ جنت کا مستحق قرار پاتا ہے،”و أدخل الجنة فقد فاز ” اس آیت کریمہ کا مصداق ہوجاتا ہے، رمضان المبارکے استقبال میں اللہ کے نیک بندے اپنے اوقات کو کبھی بھی کوتاہی و لاپرواہی اور غفلت میں نہیں گزارتے بلکہ وہ ہمہ تن گوش ہوکر رمضان المبارک کے اعمال کی انجام دہی میں رات دن لگے رہتے ہیں، قرآن مجید کی تلاوت نماز تراویح کا اہتمام اور قیام اللیل کا اہتمام بڑے شوق اور ذوق کے ساتھ ادا کرتے ہیں، فضول چیزوں میں یعنی کھینی ،بیڑی، گٹخا ،اور تمباکو سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اپنے روزے کو تروتازہ رکھتے ہیں، اور جب رات آتی ہے تو راتوں میں اٹھ اٹھ کر اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی کا طلب گار ہوتے ہیں، یہ صرف رمضان المبارک کے استقبال ہی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ راتوں میں جاگ کر خالق کائنات کی کائناتی اشیاء میں غور و فکر کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں رب العالمین نے ارشاد فرما یا کہ "الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلي جنوبهم و يتفكرون في خلق السموات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلا سبحانك فقينا عذاب النار(سوره آل عمران 191)
ترجمہ: جو لوگ کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور کروٹ کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر و اذکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پرودگار تو نے یہ آسمان وزمین میں جو کچھ ہے بیکار نہیں پیدا کیا تو پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔

رمضان المبارک استقبال کے چند تقاضے اور آداب ہیں۔۔۔۔

1:تلاوت قرآن: اس مہینہ میں ایک ایک حرف پڑھنے کے دوگنا ثواب میں اضافہ ہوتا ہے ،اور اس ماہ مبارک میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت تلاوت قرآن کا اہتمام کرتے تھے، اور رمضان المبارک ہر رات حضرت جبریل علیہ السلام کو قرآن مجید پڑھ کر سنایا کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ "كان النبي صلى الله عليه وسلم أجود الناس بالخير و كان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل و كان جبريل عليه السلام يلقاه كل ليلة في رمضان حتى ينسلخ يعرض عليه النبي صلى الله عليه وسلم القرآن(صحيح البخاري الصوم باب أجود ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يكون في رمضان 1902)

ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خیر کے کام کرتے تھے اور آپ سب سے زیادہ خیر کے کام رمضان المبارک میں کرتے جبکہ جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے اور حضرت جبریل علیہ السلام آپ سے رمضان المبارک کی ہر رات کو ملتے اور دوران ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قرآن مجید سناتے ،

2 :قیام اللیل و احتساب نفس : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم راتوں کو لمبے قیام کرتے اور لوگوں کو بھی قیام کرنے کا حکم فرماتے ” من قام رمضان ایمانا و احتسابا غفر له ماتقدم”

جو شخص رمضان المبارک کے روزے رکھے ایمان و یقین کے ساتھ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

3: دعا و ذکر اور استغفار: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم استقبال رمضان میں ذکر و دعا اور استغفار میں لگ جاتے تھے، کیوں اللہ تعالی نے اسی چیز کا انہیں حکم صادر فرما یا ہے ” و سارعوا إلى مغفرة من ربكم و جنة أرضها السموات والارض وأعدت للمتقين” ( ال عمران133)
ترجمہ : اور اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو اور بہشت کی طرف جس کا عرض (وسعت) آسمان اور زمین ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
حدیث کے اندر ذکر آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آمد رمضان پر خوب دعاوں کا اہتمام کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ روزے دار کی دعا اس مہینہ میں سب سے زیادہ قبول کی جاتی ہیں،
ارشاد فرما یا کہ "ثلاث دعوات لا ترد دعوة الوالد لولده، ودعوة الصائم ،ودعوة المسافر ( صحيح الجامع الصغير للألباني 3032)
ترجمہ: تین دعائیں رد نہیں کی جاتی اپنی اولاد کے لئے والد کی دعا روزہ دار کی دعا اور مسافر کی دعا۔

4: تقوی اختیار کرنا:آمد رمضان المبارک کے استقبال میں لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ سے زیادہ خوف کھائے اس ماہ میں زیادہ تر برکتیں اور رحمتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں،اور اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب رسول استقبال رمضان میں تقوی و طہارت اختیار کرتے تھے ،اور یہ صرف رمضان المبارک کے عظیم مہینہ ہی میں ایسا نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ ایسا کرتے لیکن جب رمضان کی آمد ہوتی تو عمل میں زیادہ منہمک ہوجاتے تھے ،اللہ تعالی نےقرآن مجید میں ارشاد فرما یا کہ ” كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون ( سوره البقره 183)
ترجمہ: تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ،تاکہ تم پرہیز گار بن جاو۔
اس آیت میں روزوں کی فرضیت کا بیان ہے۔’’شریعت میں روزہ یہ ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک روزے کی نیت سے کھانے پینے اور ہم بستری سے بچا جائے یعنی استقبال رمضان میں بحالت روزہ آدمی کھانے پینے اور اپنی بیوی سے مجامعت سے بچنا یہ ہے تقوی جو کہ صرف استقبال رمضان ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
رمضان المبارک گویا ہر طرح پیام مسرت و اقبال مندی کا مہینہ ہے ،اس مہینہ کے استقبال نے لوگوں میں دینی ذوق و شوق کو بڑھاوا دیتا ہے اس مہینہ کے آتے ہی رحمتوں و برکتوں کا سایہ فگن ہوتا ہے ۔
لہذا ہمیں اس مہینہ کے استقبال میں رات دن عبادات خیر و برکت اور صدقات و خیرات کرنے چاہیے اور عبادات کے تمام اقسام میں اپنے مالک حقیقی کو تلاشنا چاہئے، اس کی برکات و فیوض سے فائدہ اٹھانا چاہئے ،اور احتساب نفس پر زور دینا چاہئے ،اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے