صحابہ کرام مذہبی مضامین

نکاح ہو تو ایسا

ازقلم: عبدمصطفیٰ

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح ہے…..، بارات میں آپ کے دوست احباب بھی دلہن کے گھر چلے….، گھر پہنچے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اِن سے فرمایا:
"اللہ تعالی آپ لوگوں کو جزاے خیر عطا فرمائے، اب آپ لوگ لوٹ جائیں”
اور گھر کے اندر نہ جانے دیا جس طرح کہ بیوقوف لوگ اپنے دوستوں کو زوجہ کے گھر داخل کر لیتے ہیں-

جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے گھر خوب سجا دھجا دیکھا تو فرمانے لگے کہ تمھارے گھر کو بخار آ گیا ہے یا کعبہ شریف یہاں منتقل ہو گیا ہے؟
اہل خانہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے-
پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دروازے پر لٹکے پردے کے سوا سارے پردے اتروا دیے پھر اندر داخل ہوئے اور وہاں بہت سارا سامان دیکھا تو پوچھا کہ اتنا سامان کس لیے ہے؟
گھر میں موجود لوگوں نے کہا کہ یہ آپ کے اور آپ کی زوجہ کے لیے ہے-
آپ نے فرمایا: مجھے میرے خلیل محمد ﷺ نے زیادہ مال و دولت جمع کرنے کی نہیں بلکہ اس بات کی نصیحت فرمائی تھی کہ تمھارے پاس دنیاوی مال صرف اتنا ہو جتنا مسافر کا زاد راہ ہوتا ہے-

پھر آپ نے وہاں ایک خادم کو دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کے لیے ہے؟
گھر والوں نے کہا کہ یہ آپ کی اور آپ کی اہلیہ کی خدمت کے لیے ہے-
آپ نے فرمایا: مجھے میرے خلیل ﷺ نے خادم رکھنے کی نصیحت نہیں فرمائی بلکہ صرف اسے روکنے کا فرمایا جس سے میں نکاح کروں اور فرمایا کہ اگر تم نے (سسرال والوں سے) مزید کچھ لیا تو تمھاری عورتیں تمھاری نافرمان ہو جائیں گی اور اس کا گناہ خاوند پر ہوگا اور عورتوں کے گناہ میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی!

پھر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے وہاں موجود عورتوں سے فرمایا کہ تم سب یہاں سے جاؤ گی یا یوں ہی میرے اور میری بیوی کے درمیان آڑ بنی رہو گی؟ وہ بولیں کہ ہم چلی جائیں گی-

جب آپ اپنی بیوی کے پاس گئے تو فرمایا کہ: جو میں کہوں مانو گی؟
بیوی بولی: جی ہاں! میں آپ کی اطاعت کروں گی-
پھر آپ نے فرمایا: مجھے میرے خلیل ﷺ نے نصیحت فرمائی ہے کہ جب اپنی بیوی کے پاس جاؤ تو اس کے ساتھ مل کر اللہ تعالی کی عبادت کرو، پھر دونوں میاں بیوی اٹھے اور جب تک ہو سکا اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف رہے، اس کے بعد حق زوجیت ادا کیا-

(ملخصاً و ملتقطاً: حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء، اردو ترجمہ بہ نام اللہ والوں کی باتیں، ج1، ص348، 349، ط مکتبة المدینة کراچی، س1434ھ)

کاش کہ ہم بھی اپنے نکاح میں دنیا کی رنگینیوں کو چھوڑ کر سنت مصطفی کی سادگی کو اپنائیں-
اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے