مضامین و مقالات

جہاں آگ لگی ہے,وہاں پانی ڈالیں

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

آگ لگی ہے رام کے گھر میں اور پانی ڈالیں عبد الرحمن کے گھر میں تو آگ کیسے بجھے گی؟

اسلام کے اصول وقوانین کے خلاف غیروں کو ورغلایا جا رہا ہے۔غیروں کو بتایا جا رہا ہے کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے اور مسلمانوں کے خلاف اغیار کے دلوں میں نفرت وعداوت کے شعلے بھڑکائے جا رہے ہیں۔
اب تو نوبت بایں جا رسید کہ پیغمبر اسلام حضور اقدس تاجدار دو جہاں علیہ التحیۃ والثنا کی سیرت طیبہ کو مسخ کر کے غیروں کو غلط فہمی مبتلا کیا جا رہا ہے,تاکہ وہ لوگ شعلہ جوالہ بن کر اہل اسلام کو خاکستر کردیں۔

ایسی صورت میں لازم ہے کہ غیروں کے دل و دماغ سے غلط فہمی دور کی جائے۔ان کو حقائق سے آشنا کیا جائے۔

معاملہ صرف سیرت نبویہ کا نہیں ہے۔اہل اسلام کو بدنام کرنے اور اسلام و مسلمین کے خلاف غیروں کو ورغلانے کے لئے آئے دن غلط بیانی کی جا رہی ہے۔
غلط سلط باتیں اسلام واہل اسلام کی طرف منسوب کی جا رہی ہیں۔جھوٹے الزامات کا ایک بہتا سیلاب ہے جس پر بند باندھنے کی سخت ضرورت ہے۔

ایسی صورت میں لازم وناگزیر ہے کہ اغیار کے ذہن و دماغ سے غلط فہمیاں دور کی جائیں۔

عہد حاضر میں صرف مدارس اسلامیہ میں ہی منطق کی تعلیم دی جاتی ہے اور خطا فی الفکر میں بھی زیادہ تر فارغین مدارس ہی مبتلا ہوتے ہیں,یعنی گنگا الٹی بہ رہی ہے۔

بریں عقل ودانش بباید گریست

غیروں کے دل ودماغ سے خرافات واتہامات کو باہر نکالنے کے لئے بہت زیادہ مال وزر کی ضرورت نہیں۔ایک یو ٹیوب چینل بنایا جائے۔جس میں اینکر پرسن غیر مسلم ہو۔

چوں کہ اس چینل سے غیروں کی تفہیم اور ان کو ہی حقائق سے مطلع کرنا مقصود ہے تواس چینل کو دیکھنے وسننے کی ترغیب بھی ان کو ہی دی جائے۔

نہ یہ چینل مسلمانوں کی تعلیم و تفہیم کے لئے تشکیل دی جائے گی,نہ ہی مسلمانوں کو اس کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔

ہفتہ بھر کے لئے دس دس منٹ کے سات ویڈیوز اتوار کے دن تیار کر لئے جائیں اور پھر ہر دن ایک ویڈیو یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔یہ کم خرچ اور کم ٹینشن والا نفع بخش پروگرام ہے۔

اسلامی قانون ہے:الضرورات تبیح المحظورات۔
عام حالات میں شعار کفر کو اختیار کرنا کفر ہے,لیکن ضرورت وحاجت کے وقت شعار کفر کو اختیار کرنا کفر نہیں۔

عہد حاضر میں غیروں کو مسلمانوں کے خلاف ورغلا کر مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو پر حملہ کیا جاتا ہے۔بعض مسلمان غیروں کی فتنہ سامانیوں کے سبب غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اپنا دین و ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔اس صورت حال سے نپٹنے کے لئے کچھ کرنا ہو گا۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔

اسلامی قانون ہے:الضرورات تقدر بقدر الضرورات۔
اس لئے ہم نے ہر دن صرف دس منٹ کے ویڈیو کی تجویز پیش کی ہے۔

مذکورہ ضرورت و حاجت اور تصویر کی ممانعت کا تقابل کر کے فیصلہ دیا جائے۔

امید ہے کہ اس صورت میں جواز کی راہ نکل سکتی ہے,تاہم فقہا اپنا فیصلہ سنائیں,تاکہ شک وشبہہ دور جائے۔

مواد و مضامین ماہرین تیار کریں,پھر ان کو تحریری شکل میں سوشل میڈیا پر مختلف زبانوں میں اپ لوڈ بھی کیا جائے,تاکہ مسلم وغیر مسلم اس سے استفادہ کریں اور غلط فہمیاں دور ہوں۔

دس دس منٹ کا ایک ویڈیو جاری کیا جائے جس میں مخالفین کے الزامات کا سنجیدہ لہجہ میں منہ توڑ اور دماغ سوز جواب دیا جائے,تاکہ ان کے مقاصد باطلہ نیست و نابود ہو جائیں اور جھوٹے الزامات کا بازار ٹھنڈا پڑ جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے