مذہبی مضامین

شرم تم کو مگر نہیں آتی!

ازقلم: منورسیفی (سکریٹری:جماعت رضائے مصطفیٰ) 9471509492

آج پورا ملک کورونا جیسی بھیانک وبا سے پریشان ہے، اس بیماری نے پورے ملک کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے، جسے دیکھو وہ اپنی جان بچانے کی فکر کر رہا ہے،حالات ایسے ہیں کہ جیب میں پیسے رہنے کے باوجود، ہسپتال میں وقت پر بیڈ نہیں مل رہے اور نا ہی آکسیجن، پوری دنیا میں اس وائرس سے اب تک 31/ لاکھ سے زائد اموات ہو چکی ہیں،اور 15 /کروڑ کے قریب لوگ اس وباء سے متأثر ہو چکے ہیں، حالات اتنے بھیانک ہو گئے ہیں کہ لاشوں کو جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ رہی ہیں، تو میت کو دفن کرنے کے لیے قبرستان کی زمین چھوٹی پڑ گئی ہے، لوگ اپنے علما اپنے مشائخ کی بارگاہ میں دعاؤں کی درخواست پیش کر رہے ہیں، کہ دعا فرمائیں کہ اس بیماری سے نجات مل جائے.
آج! مشکل گھڑی میں ہم صرف اپنا حال تو دیکھتے ہیں،لیکن اپنے اعمال پر نظر نہیں ہے، آج ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ ہمارے بد اعمالیوں کا نتیجہ تو نہیں ہے، مسلمانوں ہم سب اپنی ذہن و فکر پر زور ڈالیں تو ہمیں اس بات کا اندازہ ہو جائے گا، کہ ہم کتنے گنہگار ہیں اور نا شکری ہمارا شیوہ، ہمارا رب ہم سے کتنا ناراض ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینہ میں بھی ہمیں اپنی مسجد سے دور کر دیا ہے، ہم کتنے نا شکرے ہیں کہ آج اس وبا سے ہم ایک دن کی زندگی بچانے کے لیے آکسیجن کے اوپر 50000/ تک خرچ کر رہے ہیں،لیکن ہم نے‌کبھی سونچا کہ وہ رب العالمین جس نے ہمیں زندگی بخشی ہے ہم اس رب کا شکر کس طرح ادا کر رہے ہیں؟
کیا یہ خدا کا عذاب نہیں کہ اس وبا سے مرنے کے بعد، غسل تک نصیب نہیں ہورہا ہے اور اسی حالت میں دفن کر دیا جارہا ہے.
ایسے موقع پر اگر اپنی زندگی کا محاسبہ کریں تو یہ بات صاف ظاہر ہو جائے گا کہ آج نہیں تو کل عذاب تو آنا ہی تھا، اس لیے کہ جس رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں زندگی ملی، قرآن ملا، رمضان ملا، جن کے صدقے ہماری سانسیں چل‌ رہی ہیں، ہمارا دل دھڑک‌ رہا ہے، جب اس رسول معظم کو اس ملک میں گالیاں دی جا رہی تھی تو ہم خاموش تھے،شہزادی رسول حضرت فاطمۃ الزھراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ذات مبارکہ پر انگلیاں اٹھ رہی تھی اور ہم خاموش تھے، قرآن مقدس پر حملہ ہو رہا تھا اور ہم خاموش تھے.
ابھی چند دنوں قبل میری ایک تحریر کئ اخبارات میں شائع ہوئی، جس کا موضوع تھا (کیا ہم سچے عاشق رسول ہیں؟) بہت سارے دوست و احباب نے مضمون پڑھ کر مجھے محبتوں سے نوازا اور میری حوصلا افزائی کی، اس کے لیے میں تہ دل سے سب کا مشکور و ممنون ہوں.
گزشتہ موضوع پر تحریر کرنے کی غرض و غایت صرف اتنی تھی کہ کاش! میں اپنے کسی بھائی کو تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے بیدار کر سکوں،قوم مسلم کے جیالے سنی بھائیوں کے سینوں میں جو دل ہے اور اس دل میں نبی کی محبت ہے اس محبت کی روشنی کی لو کو تھوڑی تیز کر سکوں،اور خدا کے فضل و کرم سے ایسا ہوا بھی، مضمون جب سوشل میڈیا میں وائرل ہوا، تواس کی دوسری تاریخ کو رات تقریباً 11:00بجے ایک ایڈوکیٹ صاحب کا مجھے فون آیا!
بعدہ سلام! فرمایا میں فلاں شخص فلاں جگہ سےبول رہا ہوں، فرمایا میں اپنے گھر پر تھا کہ ایک وائٹس ایپ گروپ سے آپ کا مضمون مجھ تک پہنچا، مضمون پڑھنے کے بعد مجھے اپنے آپ سے نظر ملانے کی ہمت نہ رہی ،فرمایا! جس ملک میں25/کروڑ مسلمان رہتے ہوں، اس ملک میں کوئی ایک پاکھنڈی سادھو، ہمارے رسول کی شان میں گستاخی کرے، اور پھر وہ آوارہ کتےکی طرح آزاد گھومتا پھرے کوئی اسے قید کرنے والا نہیں، یہ ہم سب کے لیے بہت شرم اور افسوس کی بات ہے، بہت دیر تک ان سے گفتگو ہوئی،اور پھر جماعت رضائے مصطفی رام گڑھ، کے تعلق سے مجھ سے کچھ معلومات حاصل کیے، اور فرمایا! آپ زیادہ فکر مند نہ ہوں، جو آگ آپ کے سینے میں لگی ہے، وہی آگ اب میرے سینے میں بھی جل رہی ہے،پھر فرمایا! اب تو میں نے عہد کر لیا ہے! چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے لیکن جب تک وہ گستاخ رسول
(یتی نرسنگھانند سرسوتی) کو جیل کی سلاخوں کے اندر ڈھکیل نہ دوں مجھ پر سکون کی نیند حرام ہے، چاہے مجھے ہائی کورٹ سے لےکر سپریم کورٹ کا دروازہ کیوں نہ کھٹکھٹانا پڑے،اخیر میں فرمایا! کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے آپ جب، کبھی بھی، مجھے آواز دیں گے یہ رسول کا غلام لبیک کہتے ہوئے نبی کے نام پر سر کٹانے کے لیے بھی حاضر ہو جائے گا. ان کی یہ ساری باتیں سن کر میری آنکھیں بھر آئیں،اور میں دل ہی دل میں انھیں دعائیں دے رہا تھا. لیکن افسوس!صد افسوس کہ وہ بیدار نہ ہو سکے جن کے تعلق سے میں نے مضمون لکھا تھا! میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں ہندوستان کے کچھ خانقاہوں کی معتبر گدی نشینوں کی آرام گاہ میں دستک دینے کی کوشش کی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ قیامت آنے سے پہلے یہ آنکھیں نہیں کھلنے والی،اور کھلے بھی تو کیسے! دنیا جانتی ہے کہ آواز دینے سے سویا ہوا انسان بیدار ہو سکتا ہے، لیکن نیند کی صورت بنا کر سوۓ ہوۓ شخص کو اٹھانا بہت مشکل کام ہے.
لیکن یاد رہے! تماشائی بن کر اپنی خانقاہوں میں A.C اور Cooler,کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں میں روٹی، بوٹی، اور پان،کے مزے لینے والوں اپنے مریدوں کی نظروں سے تو بچ سکتے ہو لیکن مصطفےٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے نہیں!
کل بروز حشر تجھ سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا! کہ نبی کے نام پر اپنی خانقاہوں کو زینت بخشنے والے، اپنے گھروں کو آباد کرنے والے، نبی کے نام پر اپنے مریدوں کے نذرانے سے ہاۓپر فائل زندگی گزارنے والے،صوفی بن کر زمانے کو تصوف کا درس دینے والے، زندہ ولی ہونے کا تمغہ اپنے گلے میں ڈال کر گھومنے والے!
جب رسول کی ذات پر حملہ ہو رہا تھا تو تم سب کی زبانیں کیوں خاموش تھیں!
شاید کہ آج تم یہ بھول گئے کے تجھے پیری مریدی ب ھی مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے ملی ہے،
تمھیں شان و شوکت، عزت و شہرت، مال و دولت، عظمت و رفعت ،زمانے میں تیرا مقام، یہ سب میرے نبی کے نعلین مبارک کا صدقہ ہے، اور آج جب اس رسول معظم کو گالیاں دی جا رہی ہیں تو زبانیں خاموش ہیں، آخر کیوں؟ اور مجھے بار بار ان پیران عظام کی بارگاہ اقدس میں گزارش کرنے کی ضرورت کیوں آن پڑی، اس لیے کہ اس زمانے میں لوگ علمائے کرام، مسجد کے امام، یہاں تک کہ اپنے ماں باپ سے زیادہ اپنے پیر کو ترجیح دیتے اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. میں نے اپنی نظامت کے پانچ سالہ جلسے کے سفر میں اکثر یہ بھی دیکھا ہے کہ لوگ اپنے نبی کی تعریف سے زیادہ اپنے پیر کی تعریف سننا پسند کرتے ہیں، نعت رسول سے زیادہ اپنے پیر کی شان میں منقبت سننا زیادہ پسند کرتے ہیں، یہ ماحول مریدوں نے نہیں بلکہ کچھ پیروں نے بنایا! میں نے تو کچھ ایسے بھی پیر دیکھیں ہیں جو اپنے ساتھ اپنی تعریف کروانے کے لیے ساتھ میں گویے لے کر چلتے ہیں، اور جب تک پیر صاحب اسٹیج میں نہیں چلے جاتے وہ گویا بھی مائک پر کھڑا نہیں ہوتا، اور پیر صاحب کے پہنچتے ہی گویا بھی مائک سے چپک جاتا ہے، دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پیر صاحب نے پہلے سے ہی کہ رکھا ہو کہ‌ جب میں بیٹھ جاؤں، تو میری منقبت پڑھنا!
کئ دفعہ تو میں نے یہ بھی دیکھا کہ جو منقبت سرکار غوث اعظم کی شان اقدس میں لکھی گئی ہے اس کی ردیف بدل کر اس پیر کی شان میں پڑھ دی، اور وہ مریدین جو نعت رسول کے اشعار سن کر ہاتھ باندھے بیٹھے ہوئے تھے، اور دس‌ روپے بھی انعام کی صورت میں دینے سے قاصر تھے، لیکن پیر صاحب کی شان میں ایک شعر سنتے ہی نوٹوں کی بھرمار کر دی، اور ہنگامہ محشر برپا کر دیا، انعام دینا نہ دینا مسئلہ یہ نہیں ہے،مسئلہ یہ ہے کہ یہ کیسی محبت ہے اپنے نبی سے کہ نبی کے نام سے خاموشی، پیر کے نام سے ہنگامہ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آج! مسلمان اس طرح کے ذہن و فکر کے شکار کیسے ہو گئے،تو در حقیقت غلطی ہمارے بھولے بھالے ان سنی مسلمان بھائیوں کی نہیں بلکہ ان پیرانے عظام کی ہے، جو جلسوں میں چمکدار جبہ قبہ اور خوب صورت عمامہ پہنے نگاہوں کا مرکز بنے بیٹھے رہتے ہیں، اور نعت خواں و شعراء حضرات، رات بھر ان کی تعریف کے قصیدے پڑھتے رہتے ہیں،اور پھر صبح کو کہتے ہیں کہ جلسہ بہت کامیاب ہوا.
مجھے اب بھی یاد ہے تقریباً آج سے دو ڈھائی سال پہلے (شیخ الاسلام حضور سید مدنی میاں اشرفی مدظلہ عالی، کچھوچھہ شریف)کو ایک نعت خواں نے انھیں دورے حاضر کا احمد رضا کہ دیا،تو حضور مدنی میاں نے فوراً مائک لے لیا اور برجستہ فرمایا کہ محبت اور عقیدت میں بھی بات سچی کہنی چاہئیے آپ اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں لیکن ایسی بات مت کہیے جس کا وجود ہی نہ ہو، اور پھر فرمایا کہ کسی مخصوص آدمی کی تعریف کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آپ رسول کی نعت پڑھیں کم از کم رسول کی نعت پڑھنے کا ثواب تو مل جائے گا، میں ان سب چیزوں کو بلکل پسند نہیں کرتا کہ میرے سامنے میری منقبت پڑھی جائے یہ کتنی بڑی بیوقوفی کی بات ہے!صرف رسول کی نعت پڑھی جائے غوث و خواجہ کا ذکر ہو)
کاش کہ موجودہ دور کے مقدس پیران عظام اپنے قصیدے پڑھوانے سے زیادہ عشق مصطفوی کا درس دئے ہوتے،اۓ کاش کہ اپنے مریدین کو بھر بھر کر عشقِ رسول کا جام پلایا ہوتا،اۓ کاش کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے اپنی جان قربان کرنے کا ہنر سکھایا گیا ہوتا ،اۓ کاش کہ سارکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے صحابہ کرام کی عقیدت و محبت کے داستان سناۓ گیے ہوتے، تو آج تحفظ ناموسِ رسالت کے لیے زمانے کو جگانے کی ضرورت پیش نہیں آتی،اور آج کوئی بھی آوارہ کتا میرے نبی کی عظمت پر بھونکنے کی جرأت نہ کرتا.
اۓ کاش کہ اپنے مریدوں کو یہ پیغام دیا گیے ہوتے کہ وقت آ جائے تو اپنے بچوں کی قربانی پیش کر دو، وقت آجائے تو اپنے گھروں کو بیچ ڈالو، وقت آجائے تو اپنی زمینوں کا سودا کر دو،لیکن خدا کی قسم! تمہارے سینوں میں جو نبی کی محبت ہے کبھی اس محبت کا سودا مت کرنا،کاش کہ اپنے مریدوں کو بتایا ہوتا کہ ساری دنیا کی محبتیں ایک طرف سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایک طرف,کاش کہ یہ بتایا ہوتا کہ اپنے پیر سے محبت کرو لیکن سب سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرو اور اتنی محبت کرو کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے اگر اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو کردینا، لیکن تم نے اپنے مریدین و معتقدین کے دلوں کو عشق مصطفیٰ کی دولت سے مالامال تو نہیں کیا ہاں البتہ مریدین کی دولت سے خد کو مالامال ضرور کیا ہے.
محسنوں کے کرم بھی جھوٹے ہیں
یہ دکھاوے کے غم بھی جھوٹے ہیں
قوم کی فکر اب کسی کو نہیں
تم بھی جھوٹے ہو ہم بھی جھوٹے ہیں

جاری ہے،،،،،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے