ذی الحجہ مذہبی مضامین

قربانی فلسفہ قربانی اور اصحاب منطق

تحریر: حسیب احمد حسیب

صاحبان مطالعہ خاص کر کہ مذاہب کا مطالعہ کرنے والے اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ مذاہب علامات سے واضح ہوتے ہیں اور ان علامات کے پیچھے مذاہب سے منسلک فلسفے کارفرما ہوا کرتے ہیں اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیے وہ تمام مذاہب کہ جو آپ کو دکھائی دیتے ہیں آپ انہیں انکی مخصوص علامات سے پہچانتے ہیں ، ہندومت ، بودھ مت ، سکھ مت یا مسیحیت ، یہودیت یا پھر اسلام ہر ہر مذہب گو کہ حقیقی طور پر اپنے اعتقادات و فلسفوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہے مگر انکی پہچان ظاہری علامات سے ہوا کرتی ہے اور یہ علامات کبھی تعمیرات کی شکل میں کبھی رسومات کی شکل میں کبھی ثقافت کی شکل میں تو کبھی ادب و آداب اور بنیادی سطح کی گفتگو کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جیسے نمستے یا السلام علیکم یا پھر گلے میں لٹکتی صلیب یا ہاتھ سے لپٹی تسبیح۔

مذاہب سے منسلک کچھ علامات انتہائی اہم اور کچھ کم اہم ہو سکتی ہیں مگر کوئی بھی مذہب اپنے اظہار میں ان علامات کا ہی محتاج ہوا کرتا ہے بلکہ مذہب ہی کیا موجود اور معلوم دنیا اپنے پہچانے جانے میں علامات کی ہی محتاج ہے چاہے وہ ثقافتی علامات ہوں فکری ہوں علمی ہوں قومی و وطنی ہوں یا کہ مذہبی ہوں غور کیجئے امریکہ میں موجود مجسمہ آزادی ایک علامت ہے اور اس علامت کی ایک تاریخ ہے اور اسکے پیچھے ایک فلسفہ موجود ہے اسی طرح کسی بھی ملک کا قومی ترانہ ایک علامت ہے اور اس علامت کے پیچھے مخصوص فلسفہ اور نظریہ ہے ایسے ہی عدلیہ و پارلیمان علامات ہیں اور انکی آئینی و قانونی حیثیت ہے اور انکے پیچھے مخصوص تاریخ نظریات کارفرما ہیں۔

علامتی اظہاریوں کی اس دنیا میں مذہب اسلام کو بھی خالق حقیقی نے مختلف علامات کے ساتھ اتارا ہے ان میں سے کچھ علامات اہم کچھ انتہائی اہم اور کچھ لوازمات دین میں سے ہیں شرعی اصطلاح میں ان علامات کو شعائر کہا جاتا ہے ” شعائر۔ شعیرۃ۔ کی جمع ہے شعیرۃ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعلۃ ہے مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں

” حضرت الامام شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ
حصہ اول باب :7 (شعائر اللہ کی تعظیم واحترام) میں فرماتے ہیں:۔

’’ شعائر الہیہ سے ہماری مراد وہ ظاہری ومحسوس امور اور اشیاء ہیں جن کا تقرر اسی لیے ہوا ہے کہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ ان امورواشیاء کو خدا کی ذات سے ایسی مخصوص نسبت ہے کہ ان کی عظمت وحرمت کو لوگ خود اللہ تعالیٰ کی عظمت وحرمت سمجھتے ہیں۔ اور ان کے متعلق کسی قسم کی کوتاہی کو ذات الٰہی کے متعلق کوتاہی سمجھتے ہیں‘‘۔ پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:۔ بڑے بڑے شعار الٰہیہ چار ہیں! قرآن حکیم۔ کعبۃ اللہ۔ نبی کریم ﷺ۔ نماز۔ قرآن حکیم میں ہے:۔ ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ (2:158) بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اور والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ (22:36) اور قربانی کے فربہ جانوروں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کی نشانیوں سے بنایا ہے۔ شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر فتح العزیز میں۔ کعبہ، عرفہ، مزدلفہ جمار ثلاثہ، صفا، مروہ، منیٰ، جمیع مساجد، ماہ رمضان، اشہر حرم، عید الفطر، عید النحر ایام تشریق۔ جمعہ، اذان، اقامت، نماز جماعت، نماز عیدین۔ سب کو شعائر اللہ میں سے گردانتے ہیں۔

حوالہ ؛ انوار البیان،محمد علی ،سورۃ الحج : 32

دور جدید میں جب سے تجدد کی ہوا چلی ہے بال کی کھال نکالنے والوں نے رنگ رنگ کے فلسفے ایجاد فرما لیے ہیں جہاں دیگر مذاہب کو ایسے افراد کا سامنا ہے اسلام بھی ایسے لوگوں کے ہاتھوں تختئہ مشق بنا ہوا ہے لوگ باگ اپنے تئیں نئی پود کو یہ پٹی پڑھانے کی کوشش میں ہیں کہ جناب فلاں فلاں مذہبی علامت دراصل صرف ایک علامت ہے درحقیقت اسکے پیچھے ایک خاص فلسفہ کارفرما ہے اور اگر اس فلسفے کے پیچھے چھپے مقصد کا حصول اس علامت کے بغیر بھی ممکن ہو تو کیا ضرورت ہے کہ اس مخصوص علامت کو اختیار کیا جاوے۔

منطقی ذہن ہر معاملے میں علت تلاش کرتا ہے اور جس معاملے میں اسے کوئی علت دکھائی نہ دے وہ اس کے نزدیک غیر منطقی یا لا یعنی ہو جاتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس گروہ کو منطق بھی وہ درکار ہے کہ جو اسکی عقل میں سما سکے گو کہ عوام کی اکثریت ان سادہ لوح لوگوں کی ہوا کرتی ہے کہ جو کسی بھی معاملے کے سامنے کی اچھائی یا برائی کو لے کر اسے اپنا لیتے ہیں یا رد کر دیتے ہیں جیسے ایک عام مسلمان کے نزدیک امور دینیہ چونکہ ان تک معتبر لوگوں نے پہنچائے ہیں اور یہ معتبر لوگ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں اور نبی کریم ﷺ وہی کہتے ہیں کہ جو ان پر وحی کیا جاتا ہے اسلئے ان عام لوگوں کو کسی علت یا کسی منطق کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔

اب اگر ایک منطقی ذہن کو دیکھا جائے تو وہ کسی نہ کسی علت کا پابند ہے ہر وہ شے کہ جسکی علت وہ نہ پا سکے اسکی وقعت اس کے دل سے نکل جاتی ہے گو کہ مختلف چیزوں کی علت کا پا لینا کچھ ایسا بھی مشکل نہیں لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اس علت کو مقصود حقیقی سمجھ کر
اس عمل یا علامت کی اہمیت کا ہی انکار کرنا شروع کردے۔

مزید آگے بڑھتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذہب اسلام کے شعائر یا علامات کو لے کر ایک منطقی ذہن کس طرح مسائل کا شکار ہوتا ہے مثال کے طور پر قربانی ایک علامت ہے اسکی اپنی ایک تاریخ ہے اسکے پیچھے نبی کریمﷺ کا عمل ہے اور چودہ سو سال سے امت کا تامل ہے ۔۔۔ مگر ۔۔ ٹھریے ایک منطقی صرف اس بات سے مطمئن نہیں ہو سکتا وہ مقصد تلاش کرتا ہے اس کے نزدیک قربانی کا مقصود ایثار کا انسانی جزبہ ہے اپنی کسی قیمتی شئے کو کسی بڑے مقصد کیلئے قربان کر دینے کی صلاحیت کو بیدار کرنا ہے ، باکل درست ہمیں اس منطق سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے کو نہیں ہو سکتا مگر ایک منطقی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ مخصوص تاریخوں میں مخصوص جانور خرید کر ایک خاص طریقے پر انہیں ذبح کیا جائے اور اگر یہ ضروری نہیں اور کسی بہتر طریقے سے یہ مقصود حاصل ہو سکتا ہے تو کیا یہ بات منطقی ہوگی کہ اس طریقے کو بطور رسم جاری رکھا جائے ۔۔۔ ؟

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہب سے متعلق منطقی لوگوں کا رویہ انتہائی غیر منطقی ہوتا ہے خاص کر مذہبی رسومات سے انکا تعلق صرف رسمی ہی ہوتا ہے یہ ہر وہ منطقی دلیل ڈھونڈتے ہیں کہ جس سے مذہب ان پر کوئی قدغن نہ لگا سکے درحقیقت یہ مذہب کا لیبل ہٹائے بغیر مذہب کی قید سے آزاد رہنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

درحقیقت ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی ذاتی حیثیت میں مذہب کی بابت کیا رائے رکھتا ہے مگر مسئلہ تب ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنی مذہبی تعبیر لے کر عرف عام میں موجود مذہبی مظاہر پر انگلی اٹھانا شروع کر دے اور یہ انگلی بھی برائے تحقیق نہیں بلکہ صرف اس وجہ سے اٹھائی جاتی ہے کہ کہیں انکے ترک مذہب میں وہ اکیلے نہ رہ جائیں اور ہدف ملامت نہ بنیں بلکہ ان کے ساتھ ایک گروہ موجود رہے کہ جس کی آڑ میں وہ اپنا چہرہ چھپا سکیں۔

اگر منطقی لوگوں کے طرز استدلال کا ملاحظہ کیا جائے تو وہ کچھ یوں بنتا ہے۔

ایک منطقی : دیکھیے جناب اصل تو ہے مذہب کی روح ان ظاہری رسوم و رواج میں کیا رکھا ہے ؟

وہ روح کیا ہے ؟

منطقی : ظاہری ہیت کو چھوڑ کر مذہب کی حقیقی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
اور وہ حقیقی تعلیمات کیا ہیں ؟

منظقی : دیکھئے اگر بنیادی سطح پر عبادات کو ہی لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان سے وہ مقصود حاصل نہیں ہو رہا کہ جس کیلئے انہیں تخلیق کیا گیا تھا ۔
اور وہ مقصود اصلی کیا ہے مثالوں سے واضح کیجئے ؟

منطقی : مثال کے طور پر نماز کا حقیق مقصود تو اطاعت کا اظہار تھا یہ اٹھنا بیٹھنا اور ظاہری ہیت کا اختیار کرنا کوئی اصلی مقصود تو نہیں تھا۔

ایک دوسرا منطقی کچھ اس طرح جواب دے گا۔

منطقی : دیکھئے جناب اسلام ایک صحت مند معاشرے کا طالب ہے سو نماز کی شکل میں جسمانی مشقت کو لے کر ایک ترتیب تشکیل دی گئی تاکہ عرب کے دیہاتی بہترین جسمانی ہیت میں رہ سکیں۔

تو اب کیا ، کیا جائے ۔۔۔ ؟

پہلا منطقی : دیکھئے چونکہ اطاعت کا تو کوئی بھی اظہار ہو سکتا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ دن میں پانچ وقت اس علامتی اٹھک بیٹھک کو جاری رکھا جائے۔

دوسرا منطقی : چونکہ آج کے جدید سائنسی دور میں کہیں بہتر مشقت کے طریقے وجود میں آچکے ہیں اسلیے اگر ہم اس چودہ سو سال پرانے طریقے کو ترک بھی کر دیں تو مذہب کے بنیادی مقصود پر کوئی فرق نہیں پڑے گا یعنی ” صحت مند معاشرہ "۔

اب اگر آپ مزید سوال کیجئے کہ جناب حج کی بابت کیا خیال ہے تو جواب کچھ یوں ملے گا۔

منطقی : دیکھئے حج کا بنیادی مقصود تو یہ تھا کہ دنیا بھر سے مسلمان حکمران جمع ہوکر عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں چونکہ اب ذرائع ابلاغ اتنی ترقی کر چکے تو اسکی کچھ خاص ضرورت تو موجود نہیں رہی۔

ایک اور منطقی کہے گا۔

دوسرا منطقی : حج چونکہ ایک بہت بڑی جنگی مشق اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا اظہار ہے اب اگر یہ مشق دنیا کے کسی بھی خطے میں کر لی جائے تو اس میں کوئی مذائقہ نہیں اور اگر ان مقدس مقامات کی زیارت ہی مقصود ہے تو وہ تو ٹیلی ویژن پو لائیو بھی ہو سکتی ہے۔

اب آپ پے درپے سوالات پوچھتے چلے جائیے

زکوٰۃ : یہ تو خاص حکومتی ٹیکس تھا جتنا بھی حکومت مقرر کر دے اس میں کسی خاص نصاب کی کیا ضرورت۔

روزہ : یہ تو کتھارسس اور خود پر قابو پانے کی مشق کیلئے تھا اب تو اس کے بھی بہت سے جدید طریقے موجود ہیں اجی صبح سے رات تلک بھوکا رہنے کی کیا ضرورت۔

قربانی : اجی یہ تو اپنے پاک مال کو غریبوں کی مدد کے واسطے دینے کیلئے تھی کیا ضرورت ہے کسی معصوم جانور کی جان لینے کی جانے بھی دیجئے بس اتنے ہی پیسے کسی غریب کو دے دیں کافی ہوگا۔

غور فرمائے مذاہب کو جیسے ہم جانتے ہیں انکی ہیت کو مکمل طور پر تبدیل کر دینے کی یہ تحریک درحقیقت اس بات کی داعی ہے کہ مذہب دراصل ایک روحانی یا الہی معاملہ نہیں یہ کسی بڑی طاقت کی جانب سے وارد نہیں ہوا بلکہ یہ کسی شخصیت کے ذہن میں آیا ہو کوئی خیال تھا کہ جسے کسی اچھے خیال سے تبدیل کیا جا سکتا ہے یا اسکی کوئی جدید اور بہتر تعبیر اختیار کی جا سکتی ہے بلکہ کی جانی ہی چاہئے۔

دور جدید میں ایک اصظلاح استعمال ہوتی ہے ” Liberalism in Religion "
گو کہ اس نے سب سے زیادہ مسیحیت کو متاثر کیا مگر اس کے براہ راست اثرات اسلام اور دیگر مذاہب پر بھی پڑے جسکا حوالہ ذیل میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

While Christianity and Judaism in the western world have had to deal with modernity since its emergence in the 18th century – or even since the Renaissance and its consequences of Reformation and Counter-Reformation – Islam (along with Jewish and Christian traditions in the Middle East) was not immediately affected by modernity and Enlightenment thought. Such liberal movements within Islam as exist as of 2015 are mostly limited to intellectuals active in the western world, with a number of organizations founded in response to the Jihadism of the early 21st century, such as Progressive British Muslims (formed following the 2005 London terrorist attacks, defunct by 2012), British Muslims for Secular Democracy (formed 2006), or Muslims for Progressive Values (formed 2007).

https://ipfs.io/…/QmXoypizj…/wiki/Religious_liberalism.html…

اس تحریک کا بنیادی مقصود ایک جملے میں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے

"theology of the liberal type” amounted to a complete re-invention of religion and a rejection of religion as understood by its own founders.

یعنی مذہب کو کچھ اس انداز میں نو دریافت کیا جائے کہ اسکی مکمل تشکیل جدید ہو سکے اور اسے اس انداز میں سمجھا جائے جس طرح اسکے سلف نے بھی نہ سمجھا تھا۔

یہی وہ بنیادی اور حقیقی منہج ہے کہ جو دور جدید کے اصحاب منطق نے مذہب اور مذہبی رسومات کی بابت اختیار کیا ہے اور اصحاب منطق کی قربانی کی بابت معصوم آوازیں صرف انسانیت پسندی کا خوبصورت اظہار ہی نہیں بلکہ مذہب کی تشکیل جدید کے عالمی منصوبے کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے