مذہبی مضامین

فضیلت ذی الحجہ و احکام قربانی

از قلم : خبیب القادری مدناپوری
بانی : غریب نواز اکیڈمی مدناپور بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

اللہ تعالیٰ نے ماہ ذی الحجہ کو بہت سی فضیلتیں عطا فرمائی ہیں
اس مبارک مہینے میں قربانی بھی کی جاتی ہے اور حج بھی ادا کیا جاتا ہے روزے بھی رکھے جاتے ہیں اور تکبیر تشریق بھی پڑھی جاتی ہے
تفصیل دیکھیں

اللہ تعالیٰ جل مجدہ الکریم قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
وَالْفَجْرِ() وَلَيَالٍ عَشْرٍ() وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ() وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْر() هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ
[الفجر:5-1]
قسم ہے فجر کی! اور دس راتوں کی! اور جفت اور طاق کی!اور رات کی جب وہ چلتی ہے! یقینا اس میں عقل والے کے لیے بڑی قسم ہے
والليالي العشر:المراد بها عشر ذي الحجة كما قاله ابن عباس وابن الزبير ومجاهد وغير واحد من السلف والخلف
(تفسیر ابن کثیر)
دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے ۔جیسے کہ ابن عباس ، ابن زبیر ، مجاہد اور ان کے علاوہ سلف و خلف نے کہا ہے۔
حضور رسول الراحت ؛ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک ذو الحجہ کے دس دنوں میں نیک اعمال بہت زیادہ پاکیزگی اور بہت بڑے ثواب کا باعث ہیں،
( الترغیب والترہیب،1148)

  • حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    مامن ايام العمل الصالح فيهن احب الی الله من هذه الايام العشرة قالوا يارسول الله ولا الجهاد في سبيل الله، قال ولا الجهاد في سبيل الله الا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلک بشئی
    ان دس دنوں (عشرہ ذی الحجہ) میں اللہ تعالیٰ کے حضور نیک عمل جتنا پسندیدہ و محبوب ہے کسی اور دن میں اتنا پسندیدہ و محبوب تر نہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد بھی نہیں، فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ ہاں وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا اور کچھ لے کر گھر نہ لوٹا۔

*سلطان حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما من ايام احب الی الله ان يتعبدله فيها من عشر ذی الحجة، يعدل صيام کل يوم منها بصيام سنة وقيام کل ليلة منها بقيام ليلة القدر –
اللہ تعالیٰ کو اپنی عبادت بجائے دوسرے اوقات و ایام میں کرنے کے عشرہ ذوالحجہ میں کرنی محبوب تر ہے۔ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ایک ایک رات کا قیام، لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے ۔
(ترمذی، ابن ماجه)

  • حضور سید عالم ؛ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    اللہ تعالیٰ کو کوئی نیک عمل کسی دن میں اس قدر پسندیدہ نہیں ہے جتنا کہ ان دنوں میں پسندیدہ ہے یعنی عشرہ ذوالحجہ۔
    صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ تو اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺنے ارشاد فرمایا – نہیں، جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں مگر جو شخص اپنی
    جان و مال لے کر نکلا ہو اور پھر کچھ واپس نہ لایا ہو۔
    (سنن ابو داود،حدیث نمبر-2438)
    (مسند احمد،حدیث نمبر- 3139)
    (صحیح بخاری،حدیث نمبر-969)
  • رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    دنیا کے دنوں میں افضل ترین دن” دس دن” یعنی عشرہ ذوالحجہ ہیں ۔
    ( الترغیب والترہیب،1150)

** نو ذی الحجہ کا روزہ **

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نو ذوالحجہ کا روزہ رکھا کرتے تھے ، ہنیدہ بن خالد اپنی بیوی سے اوروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ نے بیان کیا :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو ذوالحجہ اوریوم عاشوراء اورہر ماہ تین روزے رکھا کرتے تھے ، مہینہ کے پہلے سوموار اوردو جمعراتوں کے ۔
(سنن نسائي جلد 4 صفحہ 205 ؛ سنن ابوداود جلد2 صفحہ 462 )

** تکبیر تشریق اور اسکا وقت **

        تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو،  ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب  ہے اور تین بار کہنا افضل ہے، اِسے تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہے

: اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَروَلِلّٰہِ الْحَمْد۔ (تنویر الابصار و بہار راہ شریعت )

  • تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کرسکے اگرمسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا، کہہ لے۔ (ردالمحتار ودرمختار وبہار)

** تکبیر تشریق کس پر واجب ہے اور کب واجب ہے ؟ **

تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے مقیم کی اِقتداء کی اگرچہ وہ اِقتداء کرنے والا عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا ہو اوریہ لوگ اگر مقیم کی اِقتداء نہ کریں تو اُن پر واجب نہیں ۔ (درمختار و بہار)
تکبیرِ تشریق ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ وہ مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت، شہری ہو یا دیہاتی، آزاد ہو یا غلام، جماعت سے نماز پڑھنے والا ہو یا منفرد
تکبیر تشریق ان اَیام میں جمعہ کے بعد بھی واجب ہے اور نفل و سنت ووتر کے بعد نہیں البتہ نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ (درمختار)

** قربانی کی فضیلت و اہمیت **
قربانی یہ ایک مالی عبادت ہے جو غنی پر واجب ہے خاص جانور کو خاص دنوں میں اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے

  • قربانی جس طرح مرد پر واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی واجب ہے
  • عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: یا أیہا الناس! ضحوا واحتسبوا بدمائہا، فان الدم وإن وقع فی الأرض، فإنہ یقع فی حرز اللّٰہ عز وجل۔“(الترغیب والترہیب صفحہ 278)

ترجمہ:۔”حضرت علی رَضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! تم قربانی کرو اور ان قربانیوں کے خون پر اجر وثواب کی اُمید رَکھو؛ اِس لیے کہ (اُن کا) خون اگرچہ زمین پر گرتا ہے؛ لیکن وہ اللہ کے حفظ وامان میں چلاجاتاہے-

  • عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما انفقت الورق فی شییٴٍ حب إلی اللّٰہ من نحر ینحر فی یوم عید“۔(الترغیب والترہیب )

ترجمہ:۔”حضرت اِبن عباس رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: چاندی (یا کوئی بھی مال) کسی ایسی چیز میں خرچ نہیں کیا گیا جو اللہ کے نزدِیک اُس اُونٹ سے پسندیدہ ہو جو عید کے دِن ذبح کیا گیا-

  • عن ابی ہریرة رضی اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من وجد سعة لان یضحی فلم یضح، فلایحضر مصلانا“۔(الترغیب والترہیب )

ترجمہ:۔”حضرت ابو ہریرہ رَضی اللہ عنہ سے رِوَایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کی گنجائش رَکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہمارِی عیدگاہ میں نہ آئے-

  • عن حسین بن علی رضی اللہ عنہما قال:قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ضحی طیبة نفسہ محتسباً لاضحیتہ کانت لہ حجاباً من النار۔“(الترغیب والترہیب )

ترجمہ:۔”حضرت حسین بن علی رَضی اللہ عنہ سے مروِی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسلم نے فرمایا: جو شخص خوش دِلی کے ساتھ اجر وثواب کی اُمید رَکھتے ہوئے قربانی کرے گا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رُکاوَٹ بن جائے گی-

  • حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے لئے اس میں کیا اجروثواب ہے؟
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بال کے بدلے میں نیکی ملے گی۔
    (ابن ماجہ، ترمذی، مسند احمد ؛ الترغیب والترھیب)
  • نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے نماز عید سے قبل قربانی کرلی تو اسے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنی ہوگی۔ قربانی نماز عید الاضحی کے بعد بسم اللہ پڑھ کر کرنی چاہئے۔
    (بخاری۔کتاب الاضاحی۔باب من ذبح قبل الصلاۃ اعاد، مسلم۔کتاب الاضاحی۔باب وقتہا) تنبیہ نبیہ : اگر قربانی واجب نہیں ہوتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدالاضحی سے قبل قربانی کرنے کی صورت میں دوسری قربانی کرنے کا حکم نہیں دیتے، باوجودیکہ اُس زمانہ میں عام حضرات کے پاس مال کی فراوانی نہیں تھی۔
  • نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے میدان میں کھڑے ہوکر فرمایا : اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر قربانی کرنا ضروری ہے۔
    (مسند احمد جلد 4 صفحہ 215 ابوداؤد ۔باب ماجاء فی ایجاب الاضاحی، ترمذی۔ باب الاضاحی واجبۃ ہی ام لا)
  • حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے تھے۔
    (ترمذی جلد 1 صفحہ 182)
  • مدینہ منورہ کے قیام کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سال بھی قربانی نہ کرنے کا کوئی ثبوت احادیث میں نہیں ملتا، اس کے برخلاف احادیث صحیحہ میں مذکور ہے کہ مدینہ منورہ کے قیام کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر سال قربانی کی، جیساکہ مذکورہ حدیث میں وارد ہے۔
  • حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے۔
    (محلیٰ بالآثارجلد 4 ص 37، کتاب الاضاحی)
    معلوم ہوا کہ مقیم پر قربانی واجب ہے۔

** قربانی واجب ہونے کے شرائط و احکام **

کسی شخص پر قربانی اُس وقت واجب ہوتی ہے، جب اس میں چھ شرائط پائی جائیں: اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو قربانی کا وجوب ساقط ہوجائے گا اور قربانی وَاجب نہ رہے گی۔

1- عاقل ہونا، کسی پاگل، مجنون وَغیرہ پر قربانی وَاجب نہیں۔
2- بالغ ہونا، نابالغ پر قربانی نہیں خواہ مال دَار ہی ہو، اگر کوئی ایامِ قربانی میں بالغ ہوا اور مال دار ہے تو اُس پر قربانی واجب ہے۔

3- آزاد ہونا، غلام پر قربانی نہیں۔

4- مقیم ہونا، مسافر پر قربانی وَاجب نہیں۔ ہاں! اگر مسافر مال دَار ہے اور قربانی کرتا ہے تو ا س کوقربانی کرنے کا ثواب ضرور ملے گا۔
5- مسلمان ہونا، غیر مسلم پر (خواہ کسی مذہب کا ہو) قربانی واجب نہیں۔ ہاں اگر کوئی غیرمسلم ایامِ قربانی میں مسلمان ہوگیا اور وہ صاحبِ نصاب ہو تو اُس پر بھی قربانی واجب ہے۔

6- صاحب نصاب ہونا، لہٰذا فقیر پر قربانی واجب نہیں؛ لیکن اگر فقیر اپنی خوشی سے قربانی کرے تو اسے ثواب ملے گا۔ اگر کسی آدمی کے پاس نصاب کی مقدار رقم موجود ہو؛ مگر اُس پر اِتنا قرض ہو جو اگر وہ ادَا کرے تو اس کو صاحب نصاب ہونے سے نکال دے، ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں
خلاصہ یہ ہے کہ ہر عاقل، بالغ، آزاد، مقیم، مسلمان اور صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے
قربانی ہر اُس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان پر واجب ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہو یا اس کی ملکیت میں ضرورتِ اصلیہ سے زائد اِتنا سامان ہو جس کی مالیت نصاب تک پہنچتی ہو اور اس کے برابر ہو، نصاب سے مراد یہ ہے کہ اس کے پاس ساڑھے سات تولہ صرف سونا یا ساڑھے باوَن تولہ چاندی یا اُس کی قیمت کے برابر نقد رَقم ہو یا ضرورَتِ اصلیہ سے زائد اِتنا سامان ہو جس کی قیمت ساڑھے باوَن تولہ چاندی کے برابر ہو۔

** قربانی کے جانوروں کی عمریں **

1 بکرا، بکری، بھیڑ کی عمر ایک سال ہو
2 گائے ، بھینس کی عمر دو سال
3 اونٹ کی عمر پانچ سال ہو نا چاہیے تو
ان سب جانوروں کی قربانی کرنا جائز ہے
اگر عمر کم ہے تو جائز نہیں

نوٹ اگر متعینہ عمر سے اگر عمر زیادہ ہو تو کوئی بات نہیں

** ایک بڑے جانور میں سات لوگ شریک ہوسکتے ہیں **

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ قربانی میں بکرا (بکری، مینڈھا، دنبہ) ایک شخص کی طرف سے ہے۔
(اعلاء السنن ۔ باب ان البدنہ عن سبعۃ)
حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھکر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات (آدمی) شریک ہوجائیں۔
(مسلم ۔ باب جواز الاشتراک)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے سال قربانی کی، اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے سات آدمیوں کی طرف سے ۔ (مسلم۔ باب جواز الاشتراک فی الہدی)

** قربانی کے جانوروں کا عیب سے پاک ہونا **
عیب دار جانور (جس کے ایک یا دو سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں، اندھا جانور، ایسا کانا جانور جس کا کاناپن واضح ہو، اس قدر لنگڑا جو چل کر قربان گاہ تک نہ پہنچ سکتا ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو ، وغیرہ وغیرہ) کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
(راہ شریعت و آداب شریعت)

نوٹ : قربانی کے مزید فضائل اور مسائل ہماری مندرجہ ذیل کتابوں میں دیکھیں
"” راہ شریعت””
"” آداب شریعت "”
"” مسائل شریعت "”
وغیرہ

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہر انسان کو قربانی کرنے کی توفیق خیر عطا فرمائے آمین یارب العالمین

مسئلہ :
جس طرح مرد جانور ذبح کرسکتا ہے اسی طرح عورت بھی جانور ذبح کر سکتی ہے
مسئلہ:
جس طرح مرد پر قربانی واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی قربانی واجب ہے
تفصیل دیکھیں راہ شریعت میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے