نظم

نظم: کرتوت کی سزا

نتیجہ فکر: ناطق مصباحی، سدھارتھ نگر

بزدل وبےوفاسےگلہ کیا کریں
زندگی ہوگئ بدمزاکیاکریں

وہ معیشت کو تاراج کرتا رہا
وہ اخوت کوتاراج کرتارہا

بیٹیاں جس سے محفوظ نہ رہ سکیں
عزتیں جس سے محفوظ نہ سکیں

ہرطرف سے مصیبت کی برسات ھے
کوئ سایہ نہیں چاندنی رات ھے

عصمتوں کانگہبان کوئ نہیں
اس مصیبت میں سلطان کوئ نہیں

غم گسار ی کاسامان کوئی نہیں
حکمتوں کا قدردان کوئی نہیں

لاکھوں ڈگری لئےغم سے دوچارھیں
کون پوچھے انھیں وہ تو لاچار ھیں

خرچ کرتارہا سیروتفریح میں
گل کھلاتارہاسیروتفریح میں

آج آنسو بہا اپنے کرتوت پر
تاج شاہی رکھا ایسے فرتوت پر

اب محبت کا قاتل ہی خوشحال ھے
صرف ناطق نہیں دیس بدحال ھے

نتیجہ فکر

ناطق مصباحی یس نگر یوپی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے