علما و مشائخ

رئیس المتکلمین نائب حافظ ملت حضرت علامہ مولانا حافظ عبد الرؤف بلیاوی علیہ الرحمتہ والرضوان اور آپ کی خدمات

ازقلم: محمد معاذ قادری مبارک پوری
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور

رئیس المتکلمین حضرت علامہ مولانا حافظ عبد الرؤف بلیاوی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت 1912ء میں موضع بھوج پور پوسٹ سکھ پور ضلع بلیا میں ہوئ۔آپ کے والد ماجد کا نام اسلام تھا۔
آپ نے دین متین کی بے لوث خدمات انجام دیں جنہیں کبھی بھولایا نہیں جا سکتا۔آپ کی پوری زندگی تعلیم و تعلم میں گزری۔ الجامعتہ الاشرفیہ کو "جامعہ” بنانے میں آپ کا اہم کردار رہا۔آج ہم جس اوقات نماز کلینڈر کی مدد سے نماز کو ادا کر رہے ہیں اس خاکہ کو انہوں نے ہی مرتب کیا۔جامعہ اشرفیہ کے ان گنے چنے افراد میں سے آپ کو میر کارواں کی حیثیت حاصل تھی۔آپ نور اللہ مرقدہ کا حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے چہیتے شاگردوں میں اور ان تربیت یافتہ لوگوں میں شمار ہوتا ہے جس پر حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کو فخر بھی تھا۔
حضرت علامہ مولانا حافظ عبد الرؤف علیہ الرحمہ حافظ ملت قدس سرہ کے ان باکمال تلامذہ میں سے تھے جنھیں حافظ ملت سے عشق تھا۔آپ اپنے دور میں دارالعلوم اشرفیہ کے اندر صرف ایک ماہر علوم،استاذ و معلم کی حیثیت سے نہیں تھے بلکہ حافظ ملت قدس سرہ نے اشرفیہ کا سارا نظم و نسق اور اصلاح و تربیت ان کے سپرد کردی تھی۔آپ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے دست و بازو تھے اور انتظامی امور میں ان کے شریک بھی رہے۔
تعلیم و تربیت:علامہ عبد الرؤف بلیاوی علیہ الرحمہ نے ابتدائ تعلیم اور حفظ قرآن اپنے گاؤں میں ہی مکمل کی۔درس نظامی کے لیے دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور تشریف لاے۔اور اپنی ذہانت و فطانت، محنت اور لگن سے بہت ہی جلد حضرت حافظ ملت کے ممتاز تلامذہ میں شمار کیے جانے لگے۔جب حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ ایک سال کے لیے جامعہ عربیہ ناگ پور تشریف لے گیے تو آپ بھی ان کے ہمراہ تھے اور وہیں پر رسم دستار بندی بھی ادا کی گئ۔ چوں کہ درس نظامی کی تکمیل دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور میں کی اسی لیے جامعہ عربیہ ناگ پور سے سند نہ لی۔
بعد فراغت ابتداء کچھ دنوں دارالعلوم مظہر الاسلام بریلی شریف میں مسند تدریس پر فائز رہے۔آپ کو سرکار مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ بہت چاہتے تھے۔چناں چہ حافظ ملت علیہ الرحمہ نے دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور کی تدریسی خدمات کے لیے موصوف کو بلایا تو آپ نے سرکار مفتئ اعظم ہند علیہ الرحمہ سے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مولانا عبد الرؤف کا ہمارے مدرسہ سے چلے جانا موت کے مترادف ہے۔
حضرت العلام عبد الرؤف علیہ الرحمہ جامعہ اشرفیہ میں تقریبا ۲۰/سال تک تدریسی خدمات کا فریضہ انجام دیا۔آپ جامعہ اشرفیہ میں نائب شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔آپ اپنے وقت کے بے مثال فقیہ،احادیث نبویہ کے واقف کار،تفسیر کے رمز شناس،اصول فقہ،اصول حدیث،اصول تفسیر،علم کلام،فلکیات و توقیت اور علم بلاغت پر گہری نظر رکھنے والےمیں سے تھے۔
آپ کا سب سے بڑا کارنامہ "فتاوی رضویہ شریف”کی تدوین و طباعت واشاعت ہے جس کا ذکر کیے بغیر ہندوستان میں فقہ حنفی کی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی ہے۔
وصال: رئیس المتکلمین حضرت علامہ مولانا حافظ عبد الرؤف بلیاوی علیہ الرحمہ کا وصال مبارک پور 14/شوال المکرم 1391ھ مطابق 2/دسمبر 1971ء کو ہوا۔آپ کی نماز جنازہ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے پڑھائ۔آپ کا مزار اقدس قصبہ مبارک پور کے نوغازی پیر قبرستان میں موجود ہے۔
آپ کے وصال سے حافظ ملت علیہ الرحمہ کو بڑا رنج و غم ہوا گویا کہ ان کے وصال سے آپ کے دست و بازو ٹوٹ گیے۔لیکن آپ صبر و تحمل کے دامن سے وابستہ رہے۔
اللہ رب العزت آپ کی قبر پر انوار و غفران اور رحمتوں برکتوں کی بارش نازل فرماے اور آپ کے علمی فیضان سے ہم سب کو مالا مال فرماے۔آپ کی دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرماے۔اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
خاک پاے علماے اہل سنت
محمد معاذ قادری بن محمد مجاہد مبارک پوری
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور
19/شوال المکرم 1442ھ
مطابق 1/جون 2021ء
بروز منگل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے