علما و مشائخ

سوانح حیات أستاذ العلماء حضرت علامہ و مولانا الشاہ محمد منصور عالم قادری رضوی صاحب قبلہ (نوراللہ مرقدہ)

ازقلم: محمد ارشاد عالم مصباحی
کھرساہا شریف سیتامڑھی (بہار)

سر زمین کھرساہا شریف جہاں ہر فن کے ماہرین اور نابغہ روزگار شخصیات ہر زمانہ میں ہوتی رہی ہیں ، یہ بزرگان دین، علماء و صلحاء ، محققین ، شعراء اور حاذق اطباء کی مایہ ناز سر زمین ہے، یہ وہ گاؤں ہے جس کی شناخت قرب و بعد میں مدینۃ العلم سے ہوتی ہے اسی چمن کا پروردہ ایک قابلِ فخر شخصیت حضرت علامہ مولانا محمد منصور عالم رضوی صاحب قبلہ ہیں۔
ولادت باسعادت حضرت استاذ العلماء سیتامڑھی سے جانب شمال ایک قریۃ العلماء کھرساہا کے ایک دیندار خاندان میں ٥ مئی ١٩١٣ء کو پیدا ہوئے۔
نام و نسب:- اسم گرامی محمد منصور بن صوفی نور محمد بن منصف بن بقطور میاں پوری دنیائے اسلام میں ماہر علم و فن شیخ المشائخ استاذ العلماء حضرت علامہ و مولانا الشاہ محمد منصور عالم قادری رضوی صاحب قبلہ (نوراللہ مرقدہ) کے نام سے معروف و مشہور ہیں۔

تعلیم و تربیت:- آپ کے آباواجداد کا تعلق انصار برادری سے ہے معاشی حالات شرافت و نجابت میں آپ کا گھرانہ کھرساہا شریف کے اندر بہت مشہور تھا گھر کا ماحول اسلامی اصول و ضوابط پر کار بند تھا۔ آپ کے والد گرامی تقوی شعار، علماء نواز، اور اخلاق و اخلاص میں اپنے بزرگوں کا عکس جمیل تھے آپ کے والد بزرگوار کی خواہش تھی کہ فرزند ارجمند علومِ نبویہ سے مزین ہو کر شریعت بیضا کی آبیاری کرے جس کے لیے آپ کے والد ماجد نے اپنے ہی دروازے پر ایک معلم رکھا اس طرح آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا اور آپ نے ابتدائی کتابیں اپنے گھر پہ ہی تکمیل کیں
مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے آپ درس نظامیہ کی تعلیم کی خاطر رضاء العلوم کہنواں تشریف لے گئے وہاں اس وقت ایک عظیم عبقری شخصیت موجود تھی جس کے علم ضیاء سے ایک عالم منور و تابندہ ہو رہا تھا ان کی پناہ گاہ میں پناہ گزیں ہوئے۔ اور مرہون و مستغرق ہو کر گلستان، بوستان، کریما، پند نامہ، یوسف زلیخا، حکایت لطیف، سکندر نامہ اور اخلاق محسنی وغیرہ اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کیں اور چند ہی دنوں میں فارسی وغیرہ پر کافی مہارت حاصل ہوگئی اور فارسی داں جیسے القابات سے پکارے جانے لگے۔
اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے اہلسنّت کا معروف ادارہ دارالعلوم علیمیہ دامودر پور مظفر پور بہار میں تشنگئ علم لے کر داخل ہوئے اور یہاں کافیہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مفتی اعظم کانپور مفتی رفاقت حسین علیہ الرحمۃ کے ہمراہ احسن المدارس کانپور آئے یہاں ایک ماہ قیام رہا حضرت مفتی صاحب قبلہ دینی مصروفیات و اسفار کثیرہ کے سبب تدریسی کاموں کے لیے کامل وقت نہیں دے پاتے تھے جس کی وجہ سے تعلیم کا نقصان ہورہا تھا ایک دن حضرت نے خود ہی فرمایا مولوی منصور آپ کی تعلیم کا نقصان ہورہا ہے آپ بریلی چلے جائیے آپ حضرت کا رقعہ لے کر بریلی شریف کے لیے عازم ہوئے۔ چوں کہ جیلانی میاں علیہ الرحمۃ منظر اسلام کے منصب صدارت اور پورے اختیارات پر فائز تھے۔ رقعہ لے کر حضرت کی بارگاہ میں باریاب ہوئے ، قدم بوسی کے بعد رقعہ حاضر خدمت کیا۔ حضرت نے آپ کا امتحان لیا اور یہ کہتے ہوئے کہ آپ باذوق اور ہونہار طالب علم ہیں مطلوبہ جماعت میں داخلہ قبول فرما لیا اور رابعہ سے فضیلت تک کی تعلیم منظر اسلام میں ہی مفسر قرآن علامہ ابراہیم رضا عرف جیلانی میاں ، علامہ ریحان رضا، بحرالعلوم سید أفضل حسین مونگیری علیھم الرحمۃ کی بارگاہوں سے خوشہ چینی کرتے رہے۔ جب کہ بخاری شریف کی تکمیل حضرت علامہ محدث احسان علی فیض پور مظفر پور کی بارگاہ میں ہوئی۔ آپ جیلانی میاں کے مرکوز نظر رہے وقتاً فوقتاً حضرت آپ کی پذیرائی و حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔ اسی وقت حضور مفتی اعظم ہند کے دست حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوئے۔ بقول آپ کے تلامذہ حضور مفتی اعظم ہند نے آپ کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا۔ وہاں آپ علومِ ظاہری کے ساتھ علومِ باطنی سے بھی فیضیاب ہوئے۔ ١٩٦٢ میں آپ جامعہ منظر اسلام سے دستار فضیلت اور سند فراغت سے نوازے گئے۔

اخلاق و کردار:- استاذ العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد منصور عالم قادری رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان ایک عہد ساز اور انقلاب آفریں شخصیت کے مالک تھے آپ نے زندگی کے قیمتی لمحات دین و مسلک کی خدمت میں صرف کیے
آپ اخلاق و کردار، عفت و پاکبازی، شرم و حیا، زہد و تقویٰ، ہمت و قوت، حلم و تحمل ، عدل و انصاف ، صبر و استقامت ، تدبر و تفکر ، شجاعت و دلیری، علم و عمل، تواضع و انکساری، عفو و درگزر جیسے اوصاف جمیلہ سے لیس تھے۔
آپ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی زندگی نہایت سادہ اور پرسکون تھی کثیرالمال ہونے کے باوجود بھی آپ نے فقیرانہ لباس کو ترجیح دی۔
آپ منافرت و مناقشت بغض و عناد تفرقہ پردازی سے دور رہتے بلکہ ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے اسباق گاؤں کے لوگوں کو یاد کراتے اور متحد ہونے کی تاکید فرماتے خواہ بڑے ہو یا چھوٹے مالدار ہو یا غریب سب کو ایک نظر سے دیکھتے غربا پروری اور امداد مساکین بھلائی و خیر خواہی آپ کی خاندانی روش رہی ہے۔
آپ کے اخلاق و کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے درس و تدریس کے دوران کبھی کسی طلبہ سے کسی طرح کی کوئی خدمت نہ لی بلکہ جو بھی کام ہوتا آپ خود کر لیتے گویا کہ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ سنت رسول ﷺ اور اسلاف صالحین کے نقش قدم پر گزارا۔
عــبادت آپ شب زندہ دار عابد تھے۔ عبادت و ریاضت میں اپنی مثال آپ تھے تصنع اور دیکھاوے سے احتراز کرتے۔ نماز تہجد پابندی سے ادا فرماتے بقول شہزادہ أستاذ العلماء کہ آپ تین بجے شب بیدار ہوتے نماز تہجد سے فارغ ہوکر سبھی طلبہ کو بیدار کرتے اور ان کو اذان فجر تک پڑھاتے گویا درس نظامیہ کے سارے طلبہ کو رات ہی میں پڑھا دیا کرتے تھے۔ گھر کے قیام کے دوران بھی آپ کا یہی معمول رہا۔ خلافت و اجازت کے باوجود بھی آپ نے درس و تدریس ہی کو حرز جاں بنایا۔ دعا، تعویذ، پیری مریدی کی طرف کبھی بھی آپ راغب نہ ہوئے۔ سوال ہوتا کہ آپ کے عقیدت مندوں کا حلقہ وسیع تر ہے پھر آپ بیعت کا کام کیوں نہیں کرتے؟ تو فرماتے کہ اس کام کے لیے دوسرے حضرات ہیں اپنے کو أہل نہیں پاتا ہوں عاجزی و انکساری کے طور پر فرماتے جب کہ آپ اس کے أہل تھے۔

تدریسی خدمات:- تمام علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ کی علمی فقہی صلاحیت و استعداد کو دیکھ کر تدریسی خدمات کی اتمام و انجام دہی کی خاطر سب سے پہلے جامعہ حنفیہ جنک پور نیپال میں آپ کا تقرر ہوا اس وقت یہ مدرسہ مکتب کی شکل میں تھا آپ نے ابتدائی مرحلے سے گزار کر ایک معیاری درس گاہ بنا دیا تقریباً دو سال پوری تندہی جانفشانی و عرق ریزی کے ساتھ درسگاہی ذمہ داریاں نبھائی۔ پھر گوہر دھن پور تشریف لائے اور وہاں ایک ادارہ جامعہ قادریہ رضویہ مصطفویہ کی بنیاد ڈالی جس سے علاقے میں علمی انقلاب پیدا ہوگیا اور ضلع سیتامڑھی بہار کی مشہور و معروف درسگاہ بن گئ اور تقریباً چودہ سال تک تعلیمی خدمات انجام دیے۔ بعدازاں علم و فن کے چشمۂ صافی سے تشنگان علوم و معارف کو سیراب کرنے کے لیے موتی گیر پرسا نیپال تشریف لے گئے اور وہاں آپ نے ایک چھوٹے مکتب سے تدریس کا آغاز کیا اور دیکھتے دیکھتے ایک دارالعلوم بنام انوارِ رضا وجود میں آگیا اور وہاں آپ نے ١٨ سال تک دین متین کی خدمت اور مسلک اعلی حضرت کے فروغ و اشاعت میں گراں قدر لمحات صرف کیے اور گرد و نواح میں ایک سے بڑھ کر ایک بیش قیمت لعل و گوہر پیدا کیے جس کی مثال پیش کرنے سے آج بھی عقلیں حیران ہیں۔ موتی گیر پرسا نیپال کے تمام تر علمائے کرام آپ ہی کی بارگاہ کے فیض یافتہ ہیں وہاں آپ ایک جید عالم سے متعارف ہوئے آپ کو فارسی میں ایسا ملکہ حاصل تھا کہ سخت سے سخت ترین کتاب کی عقدہ کشائی فرما دیتے۔ پھر آپ علمی میدان کا شہسوار اور درنایاب ہیرے جواہرات پیدا کرنے کے لیے مدرسہ رضویہ بحرالعلوم مقام :بست پور ، پوسٹ: ہرپروا، ضلع: سرلاہی (نیپال) میں قیام پزیر ہوئے اور وہاں آپ نے چار سال تدریسی خدمات کے فرائض بحسن وخوبی انجام دیا اور ایسی ایسی شخصیات کی پرورش کی جو آج بھی ملک و بیرون ملک میں ایک اہم عہدے پر فائز ہو کر دین و ملت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ اور اس طرح قرب و جوار کے مختلف مدارس میں آپ نے تدریس کا فریضہ انجام دیا۔

آپ کے اساتذہ استاذ العلماء نے جن مقتدر اور ارباب بصیرت و معرفت شخصیات سے اکتساب فیض کیا اور اپنی علمی پیاس بجھائی ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔
{١} مفسر قرآن حضرت علامہ ابراہیم رضا عرف جیلانی میاں صاحب قبلہ (بریلی شریف)
{٢} حضرت علامہ و مولانا محمد ریحان رضا خان قادری رضوی (بریلی شریف)
{٣} بحرالعلوم سید أفضل حسین مونگیری علیہ الرحمۃ
{٤} حضرت علامہ محدث احسان علی (فیض پور مظفر پور بہار)
{٥} حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد منظور صاحب قبلہ (چاندپوری)
{٦} حضرت علامہ و مولانا عظیم الدین صاحب قبلہ
{٧} سعدئ زماں حضرت علامہ و مولانا محمد حامد حسین علیہ الرحمۃ
{٨} حضرت علامہ و مولانا محمد شفیق صاحب قبلہ (ادری)
{٩} حضرت علامہ و مولانا کاظم عزیزی صاحب قبلہ
{١٠} مفتی اعظم کانپور حضرت علامہ و مولانا مفتی رفاقت حسین علیہ الرحمۃ (کان پور)
آپ کے نامور تلامذہ حضور استاذ العلماء کا سینۂ مبارک جہاں محبوب سبحانی غوث اعظم جیلانی بغدادی ، مجدد اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی اور تاجدارِ اہلسنّت حضور مفتئ اعظم ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کے عشق و محبت کا آئینہ تھا وہیں آپ کے سینے میں علم دین کی اشاعت، شریعت اسلام کا نفاذ اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت کا جذبہ بھی موجزن تھا۔ قوم و ملت کی خدمت کے لیے علماء کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جو دین حق کی حقانیت اور دین حنیف أہل سنت وجماعت بریلوی کے ساتھ ساتھ مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت میں سر گرم عمل ہیں جن پر دنیا کو فخر و ناز ہے۔ گرد و نواح کے تقریباً تمام تر علمائے کرام بالواسطہ یا بلاواسطہ آپ ہی کے شاگرد ہیں۔آپ کے تلامذہ کی تعداد سینکڑوں پر مشتمل ہیں
لیکن تراشے ہوئے چند انمول و نایاب موتیوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
(١) معمار قوم و ملت پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضرت علامہ و مولانا محمد فاروق رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی گوہردھن پور سیتامڑھی (بہار)
(٢) نازش علم و حکمت حضرت علامہ و مولانا ڈاکٹر محمد مبشر حسن مصباحی جامعہ جواہر لعل نہرو (دہلی)
(٣) ناشر مسلک اعلی حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد ہاشم صاحب قبلہ صدر المدرسین رضاء العلوم (کہنواں)
(٤) ناشر مسلک اعلی حضرت ماہرِ علم و فن ادیب شہیر شہزادہ أستاذ العلماء حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد رضا مصباحی صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ والرضوان (کھرساہا شریف)
(٥) قاطع نجدیت حضرت علامہ و مولانا محمد مجیب الرحمٰن صاحب (کھرساہا شریف)
(٦) ناشر رضویت حضرت علامہ و مولانا پھول محمد رضوی صاحب قبلہ
(٧) حضرت علامہ مفتی رئیس احمد مصباحی صاحب ‌(پرسا نیپال)
(٨) حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد عبدالقادر صاحب قبلہ (موتی گیر پرسا نیپال)
(٩) مفتی محمد ظہیرالدین مصباحی صاحب (سیب نگر)
(١٠) حضرت علامہ و مولانا محمد الفت حسین قادری صاحب قبلہ (بھنگہا ، حال مقیم شجاول پور مظفر پور)
(١١) حضرت علامہ و مولانا محمد عرفان الحق صاحب (پرسا نیپال)

اجازت و خلافت آپ کو تاجدارِ اہلسنّت، شبیہ غوث اعظم، شہزادۂ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ و مفتی محمد انوار احمد مصطفوی نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ نوریہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی ۔

وصال وہ آفتاب علم و عمل جس کی روشنی پورے عالم کو جلا بخش رہی تھی ٥- ربیع النور ١٤٣٥ھ بمطابق ٦ ، جنوری ٢٠١٤ء بروز پیر شب سہ شنبہ ٢بجکر ٥٧ منٹ پر کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت دار بقا کی جانب روانہ ہوگئے۔ إنّ لله و إن إليه راجعون آپ کا وصال امت مسلمہ کے لیے عظیم سانحہ تھا۔ ایک شمع تھی جس کے ارد گرد پروانوں کا ازدحام تھا ہمیشہ کے لیے بجھ گئی تھی۔
مـزار مـبارک وصیت کے مطابق نماز جنازہ فقیہ النفس حضرت علامہ الحاج عبدالحمید نوری صاحب قبلہ کہنواں نے پڑھائی۔ اور لہوریا کی مغربی قبرستان میں سپردخاک کیے گئے۔
استاذ العلماء نے پوری زندگی علم و عمل اور دین اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے