اصلاح معاشرہ

آخر چِین ہار گیا

بچوں کی پیدائش پر چین میں پابندی کا حماقت نامہ اور انڈین حکومتی اہلکاروں کی بے نتیجہ منصوبہ بندی کی داستان

تحریر: محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف
چئیرمین: تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن: روشن مستقبل دہلی

ارشاد بار تعالى ہے:
وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ‌ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًا. ترجمہ :اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے.( اسراء، 31)
رب قدیر فرماتا ہے کہ اپنی اولاد کو اس وجہ سے قتل مت کرو کہ ہم اسے کھلا نہیں سکیں گے یا ان کا خرچ نہ اٹھا سکیں گے، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انھیں بھی دیں گے۔ پچھلے قریب سو سال سے یہ پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے کہ جتنی کم اولاد ہوگی، زندگی اتنی ہی آسان ہوگی۔ حالانکہ یہ صرف پروپیگنڈا ہی ہے لیکن اس پروپیگنڈہ کو اہلِ مغرب اس شدت کے ساتھ لے کر آئے کہ اغیار تو چھوڑیے مسلمان اور خاصے پڑھے لکھے مسلمان بھی اس کی زد سے نہ بچ سکے.

مغرب کے اس پروپیگنڈا کا اثر ویسے تو ساری دنیا نے قبول کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر چین اس پروپیگنڈہ کا شکار کچھ زیادہ ہی ہوگیا۔ اس پروپیگنڈہ کا شکار ہوکر چین نے 1979 کے آس پاس ایک بچے کی پالیسی لاگو کی، یعنی شادی شدہ جوڑے کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن اس کا نقصان چین کو اٹھانا پڑا اور چین میں نوجوانوں کی تعداد کم ہونے لگی۔ ایک بچہ کی أجازت ہونے کی وجہ سے لوگوں نے رحم مادر میں بچوں کے قتل شروع کردیے، کیوں کہ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ اس کے ہاں اولادِ نرینہ ہو۔ نتیجہ ملک میں نوجوانوں سے زیادہ بوڑھے دکھنے لگے اور شادی کے لیے لڑکیاں ملنا مشکل ہوگئیں۔ 2012 تک چین میں 118 لڑکوں میں 100 لڑکیوں کا تناسب درج کیا گیا تھا، جو 2016 میں پالیسی تبدیلی کے بعد 100 لڑکوں میں 112 لڑکیاں ہوگیا ہے.

2016 میں چین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے اپنی پالیسی بدلتے ہوئے شادی شدہ جوڑوں کو دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دے دی، لیکن معاملہ یہاں بھی نہ سنبھل سکا کیوں کہ خلا تو 35 سالوں کا تھا، چینی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے 2020 کے درمیان چین کی آبادی میں اضافے کی شرح 5.38٪ تھی۔ جب کہ 2010 میں یہ شرح 5.84٪ تھی۔ ظاہر ہے کہ آبادی میں اضافے کی شرح کم رہی اور اب چینی ماہرین اس کو ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی مان رہے ہیں۔

پانچ سال بعد دوسری بار بدلی چائلڈ پالیسی

مئی 2021 کو یہ خبر آتی ہے کہ چین نے ایک بار پھر بچوں کے متعلق اپنی اپنی پالیسی بدلی ہے اور اب شادی شدہ جوڑوں کو تین بچے پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔ چین نے یہ فیصلہ اس وقت لیا ہے جب اس کی آبادی میں اضافے کی شرح 1950 کے بعد سے سب سے کم درج کی گئی ہے۔
چین کی ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق "پولیت بیورو” کے حالیہ اجلاس میں 3 بچوں کی پالیسی پر فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس اجلاس کی صدارت چینی صدر شی جنپنگ نے کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ چین کی آبادی کے ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لیے لیا گیا ہے، ہمیں پوری امید ہے کہ چین ابھی چار پانچ بچوں کی پالیسی بھی لائے گا اور بچے پیدا کرنے کے لیے پیسے بھی دے گا ۔

قانونِ الہی سے بغاوت مصیبت کو دعوت ہے

رب العالمين ساري کائنات کا پالن ہار ہے اور وہی رزاق ہے، ہمیں اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ جو رب ساری دنیا کے چرند و پرند کو بلا ناغہ رزق دیتا ہے،کیا وہ اپنے بندے کو رزق نہ دے گا؟ آئیے قرآن مقدس میں اللہ کا فرمان ملاحظہ فرمائیں:
وَمَا مِنۡ دَآ بَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَ يَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا‌ؕ كُلٌّ فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ.
ترجمہ :اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہٴ کرم پر نہ ہو اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے. (سورہ ھود، 6)
رب العزت رزق کا وعدہ فرما رہا ہے اور ہم کفار کے پروپیگنڈے کے شکار ہیں، ہمیں اللہ پر بھروسا نہیں ،لیکن یہی رب ہے جو پرندوں سے لیکر چيونٹی تک کو رزق عطا فرماتا ہے.

ذرا سوچو تو سہی! جو رب بچے کے پیدا ہونے سے چھ ماہ پہلے ہی ماں کے پستانوں میں دودھ پیدا فرماتا ہے اور پیٹ کی اندھیری کوٹھری میں رگوں کے ذریعے رزق عطا فرماتا ہے، کیا وہ رب اپنے بندے کو دنیا میں پیدا کرکے اسے رزق سے محروم رکھے گا؟ حاشا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، اسے اور آسان انداز میں سمجھنے کے لیے اللہ کے پیارے نبی کی یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں، آقا علیہ السلام فرماتے ہیں.
….. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا.
ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ (بھر پیٹ) واپس آتے ہیں. (ترمذی 2344)
ایک حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ اللہ کے پیارے نبی فرماتے ہیں کہ جب کسی مسلمان کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے، نیز یہ بھی فرماتے ہیں کہ بچے پیدا کرو کہ میں قیامت کے روز اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا.

مسلمان بھی پروپیگنڈہ کے شکار

مغربی پروپیگنڈے کا اثر مسلمانوں میں بھی دن بدن بڑھ رہا ہے، ایسے میں چین کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرنا چاہیے، قانون الہی سے ہم بھاگ نہیں سکتے اور لوٹ کر پھر اسی جگہ آنا پڑے گا۔ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے اور غور کیجئے کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے ایک بھئ اولاد نہیں ہے لیکن دو وقت کی روٹی نصیب نہیں، اور کتنے ایسے ہوں گے جن کے دس بارہ بچے ہوں گے اور خوش حال ہوں گے۔۔۔۔ امیری، غریبی نظام قدرت ہے، نہ ساری دنیا کے لوگ کبھی امیر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی غریب۔ اگر سب امیر ہوجائیں تو ہمارے آپ کے کام کون کرے گا؟ اور اگر سب غریب ہوجائیں تو ہر ایک کی زندگی دوبھر ہو جائے، لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس مغربی پروپیگنڈہ سے باہر نکلیں، رب پر بھروسا کریں اور خوش رہیں.

بھارت بھی چین کی راہ پر!

بھارت میں بھی بچوں کی قید کی تیاری ہے اور کہیں کہیں دو بچوں کی شرط لگائی جارہی ہے۔ اگر حکومتی اسکیموں کا فائدہ اٹھانا ہے تو بچے دو ہی کریں ورنہ حکومتی مراعات سے محروم کردیے جائیں گے۔ ایسے لوگ ملک اور ملک کی عوام کے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔۔ جب چین جیسا ترقی یافتہ ملک یہ پریکٹیکل کرکے ہار مان چکا ہے، ایسے میں بھارت کے کچھ منسٹرس کا اس طرح کا فیصلہ لینا سوائے حماقت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ جس طرح چین پیچھے ہٹا ہے اسی طرح ایک دن ایسی سوچ رکھنے والے خود ہی اس قانون کو معطل کرنے کے لیے کوشاں ہوں گے، لیکن تب تک حالات چین سے بھی خراب ہو سکتے ہیں.

چین کے سامنے اب مشکل یہ ہے کہ وہاں زیادہ تر لوگ ایک بچہ کرنے کے عادی ہوگئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ زیادہ بچے ہوں۔ اب حکومت اس پر زور دے رہی ہے کہ بچے زیادہ ہوں، اور اس کے لیے اب حکومت کئی اسکیم بھی لانچ کرے گی، ورنہ چین دنیا میں بہت جلد "بوڑھوں کا ملک یعنی اولڈ کنٹری” جیسے ناموں سے یاد کیا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے