محب گرامی حضرت علامہ محبوب البرکاتی استاذ دار العلوم حشمتیہ معراج العلوم بھدوکھر ضلع سدھارتھ نگر یوپی کے برادر کبیر قاری نظام الدین رضوی متوطن موضع حورا حجرا ،سوناپور،کٹیہار، کی رحلت سے گہرا دکھ ہوا۔یکایک کلمات ترجیع زبان پر جاری ہوگئے۔قارئ موصوف نیک باطن وخوش خصال وصالح مزاج انسان تھے ۔تدریس کے ابتدا ئ کچھ سال مختلف مدارس کے شعبئہ قرأت کےخادم کی حیثیت سےوقف کر رکھے تھے۔پھر سرکاری اساتذہ کی ٹریننگ لینے کے بعد بہار اسکول میں سرکاری معلم بن گئے۔اور طویل خدمت انجام دینے کے بعد غالبا گذشتہ سال میڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے منصب پر رہتے ہوۓ ملازمت سے سبکدوش {ریٹائر} ہوۓ ۔ملازمت کے آخر کے کچھ ماہ وسال خوف ناک مرض میں گزارے ۔اسی کرب میں ممبئ سے اپنے علاج کا رشتہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا ۔تقریبا ڈھائ سال قبل مرض سے افاقہ کے بعد حضور نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ شغف کا اظہار جلسئہ عید میلادالنبی صلی الہ علیہ وسلم کے اہتمام کی شکل میں کیا اور اس افاقئہ مرض کو اپنے آقا کی نظر رحمت کا صدقہ بتایا۔اور مجھ حقیر کے عنوان خطابت”اسلام اور عیادت“کو مجلس کا برمحل حسین خطاب بتا کر پر مسرت تحسین فرمائ،مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم اہل سنت قادریہ سراج العلوم برگدہی کے استاذ مفتی قاضی فضل رسول مصباحی نے ایک پریس ریلیز میں کیا۔مفتی صاحب نے یہ بھی کہ ابھی تقریبا تین ماہ پہلے قاری صاحب کے صاحبزادہ کی تقریب شادی میں میری آمد پر، پر مسرت اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ اب مجھے احساس ہوا”سب مہمان آگۓ اور ان کی میز بانی سے محظوظ ہولۓ“ ۔بہرحال بڑی خوبی تھی اس جانے والے میں۔جنہوں نے بھری بزم کو سونا کر دیااور اپنی یادو ں کے سہارے ہی جینے کا موقع فراہم کر گیا۔آپ کی کن کن خوبیوں کا شما رکیا جاۓ؟ ۔آپ کی یہ خوبی نمایاں تھی کہ آپ علماۓ کرام کا غایت درجہ احترا م اوران سے حد درجہ محبت رکھتے تھے۔تا حیات قاری کے باوصف صفت ، اسی لباس میں ملبوس رھتے رہے۔درجنوں علماۓکرام ودانشوران نےتعزیت پیش کی ہے۔بقیة السلف مفتی قاضی نور پرویز رشیدی شہجنہ ، مفتی شیر محمد قادری پرنسپل دار العلوم اہل سنت قادریہ سراج العلوم بر گدہی مہراج گنج، مفتی قاضی فضل احمد مصباحی قاضئ شرع ضلع کٹیہار،مفی قاضی شہید عالم رضوی استاذ ومفتی جامعہ نوریہ بریلی شریف، مفتی شمیم احمد نوری سہلاؤ شریف راجستھان،مولانا قاضی خطیب عالم استاذ جامعہ وارثیہ لکھنؤ، مفتی مبشر رضا ازہر ممبئ،مولانا عسجد رضا بائسی پورنیہ، لانا مولانا فضیل صدر الاساتذہ دار العلوم حمیدیہ بھؤ نگر بالو گنج کٹیہار،مولانا فیاض عالم مصباحی استاذ دارالعلوم محبوب سبحانی کچھوچھا شریف،مولانا عرفان احمد مصباحی ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی مولانا قاضی فضیل احمد سراجی خطیب وامام جامع مسجد قاضی ٹولہ شہجنہ،مولانا کاتب ذوالقرنین، مکھیا حسین اشرف اعظم نگر،ماسٹر قاضی محب الرسول،قاضی ہدایت رسول شہجنہ، مفتی رضاء المصطفے شہجنہ ،مولوی حبیب الرحمن اشرفی،ماسٹر عمران احمد اشرفی اعظم نگر،ماسٹر شاکر علی اعظم نگر،مولانا منظر الاسلام مہتمم دار العلوم معینیہ رضویہ ملک پور،قاضی عنایت رسول، مولانا چراغ عالم سراجی رسول پور،مولانا راغب حسین سراجی،مولانا قاضی مدثر علی شہجنہ،قاری توصیف رضا استاذ شعبئہ حفظ ، محمد ضیا ء المصطفےوغیرھم نے کہا کہ ہم سب غم کی اس گھڑی میں پورے کنبہ کےساتھ کھڑے ہیں اور مرحوم کی مغفرت اور پس ماندگان با لخصوص علامہ محبوب البرکاتی کے صبر واجر کی دعا کرتے ہیں۔
متعلقہ مضامین
آہ! مولانا ضیاء الحق چوہان کی والدہ ماجدہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں
سوگوار قلم: سید صابر حسین شاہ بخاری قادری بسم اللہ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین یہ خبر وحشت اثر سن کر بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ 31/ جنوری 2022ء کی شام ہمارے مہربان اور قدردان مولانا ضیاء الحق چوہان صاحب (گوجر خان ، […]
آہ! معمار ملت مولانا شبیہ القادری رضوی بہاری بھی سفر آخرت پر روانہ ہو گئے
سوگوار قلم: سید صابر حسین شاہ بخاری قادری بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔ لکل امۃ اجل، موت کا وقت ہر ایک کے لئے متعین ہے۔ ہر ایک نے سفر آخرت پر روانہ ہونا ہے، لیکن جب بھی دنیا کے کسی بھی […]
نالۂ درد و غم بموقع رحلت حضرت مفتی نظام الدین نوری
دل مضطرب اور آنکھیں نم ہیں آہ … ایک حادثۂ جانکاہ میں ہماری جماعت کےممتاز عالم ومفتی، ماہر مدرس،عظیم خطیب، باکمال شاعر و قلمکار، جامع معقول و منقول، خلیفۂ تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین نوری استاذ جامعہ فیض الرسول براؤں شریف اور انکے بیٹے مولانا انوار کا انتقال ہوگیا انا للہ وانا الیہ […]



