مانک پور کنڈہ پرتاپ گڑھ: (نامہ نگار) ایودھیا میں عرس شیث علیہ السلام منعقد ہوا جس کی سرپرستی آستانہ کے سجادہ نشیں اولاد مخدوم اودھ سید آصف میاں فردوسی اور صدارت سید غوث میاں نے انجادیا جشن کا آغاز بعد نماز فجر قرآن سے ہوا اسکے بعد مزار شیث علیہ السلام کو غسل دیا گیا اسکے جلسہ کا آغاز ہوا جس کی تلاوت قاری عبد السلام کی تلاوت سے ہوا اور تسلیم وتحسین صاحبان نے نعت ومنقبت کے اشعار پیش کئے اعظم اقبال بنارسی نے بھی بارگاہ شیث علیہ السلام میں خراج عقیدت پیش کیا مقرر خصوصی کی حیثیت سے مفتی شبیر احمد رضوی نے مجمع سے خطاب کیا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالی نے ہم سب کو ایسے نبی کی امت بنا کر پیدا کیا جو تمام نبیوں میں افضل واعلی ہے مزید انہوں نے کہا کہ ہم سب نعرہ لگاتے ہیں رسول کا دامن نہیں چھوڑینگے غوث کا دامن نہیں چھوڑینگے حالانکہ ہم نے دامن پکڑا ہی نہیں ہے بلکہ دامن پکڑنے کا مطلب ہوتا ہے اسکے ہر چیز سے محبت کرنا لیکن ہم نبی کے نام کا نعرہ لگاتے ہیں اور نماز سے دور ہیں جب کہ نبی نے فرمایا کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو وہ طاقت عطا فرمایا ہے جو ہماری ہر چیز کو مدینہ میں تشریف فرماکر ہر چیز کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں انہوں نے کہا میرے نبی کو اللہ تعالی نے وہ کمال وخوبی کا مالک بنایا ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے ۔جب ہمارے نبی کے جو غلام ہے انکا حال تو یہ ہے کہ ہندوستان میں رہ کر اپنے مریدوں کی نیگاہ بانی کرتے ہیں تو نبی کا کیا حال ہوگا یہ شعر کہتے ہوئے اپنے تقریر کو ختم کیا ،جب انکے گدا بھردیتے ہیں شاہ زماں کہ جھولی، محتاج کا جب یہ عالم ہے تو مختار کا حال کیا ہوگا، صاحب سجادہ سید آصف میاں فردوسی نے اپنے نصیحتانہ تقریر میں کہا کہ ہم سب عرس شیث علیہ السلام میں حاضر ہوئے ہیں جہاں سے ملک میں رہنے والے ہر مذہب کے لوگون کے لئے عقیدت کا مرکز ہے مزید انہوں نے کہا شیث علیہ السلام کا آستانہ وہ جہاں سے اتحاد کا پیغام دیا جاتا ہے ہم سب کو ملکر ملک میں شیث علیہ السلام کے پیغام کو ہر مذہب کے ماننے والوں تک پہنچانا ہے کیونکہ شیث علیہ السلام کے آستانہ پر ہر مذہب کے لوگوں اپنے عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں، مولانا کمالدین نے کہا اس روئے زمین پر اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہرزار انبیاں کو بھیجا جو ہر قوم میں اللہ کے وحدانیت کا پیغام پہونچایا انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے جو اللہ تعالی نے ہندوستان کو وہ شرف حاصل فرمایا ہے کہ ابو البشر آدم علیہ السلام کے بیٹا شیث علیہ السلام کو ہندوستان کی سرزمین پہ بھیجا ،انہوں نے کہا آدمی کا وجود آدم علیہ السلام سے ہے انہوں نے کہ لائق مبارکباد اہل ایودھیاں کہ اللہ تعالی نے شیث علیہ السلام کو ہندوستان کی سرزمین ایودھیا پر بھیجا ،اور کہا کہ شیث علیہ السلام کے پیشانی میں جو نور چمک رہا تھا وہ میرے نبی کا نور تھا،۔مزید کہاں کہ میرے نبی کق نور حضرت علیہ السلام سے منتقل ہوتا ہے حضرت عبد اللہ تک پہونچا پھر حضرت عبد اللہ و حضرت آمنہ سے اللہ تعالی نے میرے نبی کو پیدا فرمای، مفتی ضیا الحق ثقافی نے کہا کہ رسول پاک کی زندگی ہم سب کے نمونہ عمل ہے اللہ تعالی نے میرے رسول کو افضل واعلی بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا ہے، مزید انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول کی سیرت کا مطالعہ کرنا اور س پر عمل کرنا ہم سب کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہے، اس موقع پہ سید ہلال صاحب سید اطیر اشرف، مفتی شاہ نواز عالم ازہری، صوفی سہیل،مفتی عطا محمد وغیرہ موجود تھے جبکہ نقابت کا فرائض انجام مولانا رفیق فیضی دیا، سید آصف میاں فردوسی کی دعا پہ پروگرام کا اختتام ہوا
متعلقہ مضامین
حضرت مولانا ریاض احمد حشمتی صاحب قاضئ شہر کان پورکی رحلت جماعت اہل سنت کے لیے ناقابل تلافی نقصان: مولانا آصف جمیل امجدی
26 جنوری سن 2021ع کو شوشل میڈیا کے ذریعہ یہ جانکاہ خبر موصول ہوئ کہ جماعت اہل سنت کے عظیم پیشوا، حضرت مولانا ریقض احمد حشمتی نوراللہ مرقدہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ “اناللہ وانا الیہ راجعون”بلاشبہ آپ کی رحلت دنیائے سنیت کے لئے نا قابل تلافی نقصان ہے، پوری جماعت اہل سنت […]
سنگھو بارڈر پر پرتشدد جھڑپ میں علی پور کے تھانہ انچارج زخمی
ہماری آواز/نئی دہلی 29 جنوری(پریس ریلیز) مرکزی حکومت سے زرعی قوانین کو واپس کرنے کے مطالبے کے سلسلے میں مظاہرہ کررہے کسانوں اور مقامی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگوں کے گروہ کے درمیان جمعہ کو ہوئی پرتشدد جھڑپ میں علی پور تھانہ انچارج(ایس ایچ او) زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق دوپہر بعد مظاہرین […]
ترنگے کی بےحرمتی ملک کے لیے افسوسناک: مودی
ہماری آواز/نئی دہلی، 31 جنوری (پریس ریلیز) وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ 26 جنوری کو لال قلعہ پر ترنگے کی بے حرمتی سے پورے ملک کو کافی دکھ ہوا لیکن ہمیں آنے والے وقت کو نئی امید اور نئے طریقے سے ابھرنا ہے مسٹر مودی نے اکاش وانی پر اپنے ماہانہ پروگرام […]
