تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ
اس مضمون میں تکلیف شرعی کے مفہوم کو عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ ان شا ء اللہ تعالیٰ تکلیف شرعی،شبہات باطلہ،بعثت انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃوالسلام اور عقل کے مدار تکلیف ہونے کا مفہوم واضح ہوجائے گا۔
بدیہی کی دوقسمیں ہیں: بدیہی کسبی اوربدیہی غیرکسبی۔
بدیہی کسبی کی دوقسمیں ہیں: بدیہی اولی اور بدیہی غیر اولی۔
(الف)بدیہی غیر کسبی شبہات باطلہ سے پاک ہوتا ہے۔اس میں اضطراری علم حاصل ہوتا ہے۔ بندہ اس علم اضطراری کودفع نہیں کرسکتا،جیسے آگ میں ہاتھ ڈالتے ہی علم اضطراری حاصل ہوگا کہ آگ جلانے والی ہے۔ بندہ اس علم یقینی کودفع کرنے پرقادر نہیں۔
ماننا یانہ ماننا الگ سی بات ہے۔انکاروتسلیم سے شئ کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔
سوفسطائیہ،عنادیہ،لاادریہ وغیرہ بدیہی کا بھی انکار کرتے ہیں،اس سے کسی امر کی بداہت باطل نہیں ہوتی۔دیابنہ اشخاص اربعہ کوکافرنہیں مانتے توحکم کفر ختم نہیں ہوسکتا۔
(ب)بدیہی اولی میں کبھی بے توجہی کے سبب شبہات باطلہ لاحق ہوتے ہیں۔
(ج)بدیہی غیر اولی میں اہل علم واہل عقل کوبھی شبہات لاحق ہوتے ہیں،یہاں تک کہ بدیہی غیر اولی کوحل کرنے کے واسطے مناظرہ بھی منعقد ہوتا ہے۔
(د)بد یہی کوقطعی بالمعنی الاخص کہا جاتا ہے۔ نظری کو قطعی بالمعنی الاعم کہا جاتا ہے۔
بدیہی کسبی اولی میں شبہات باطلہ کا امکان:
بدیہی غیر کسبی میں شبہہ ممکن نہیں،کیوں کہ وہ علم اضطراری ہے۔
سوفسطائیہ،لاادریہ اورعنادیہ وغیرہ ہٹ دھر م ہیں۔وہ بدیہی غیرکسبی میں بھی شبہات مانتے ہیں اور اس کی بداہت کا انکارکرتے ہیں۔یہی حال دیوبندیوں کا ہے۔
بدیہی اولی کسبی میں شبہہ ممکن ہے۔اسلام کی حقانیت بدیہی اولی کسبی ہے۔
امام رازی نے (وتلک الایام نداولہا بین الناس)کی تفسیرمیں رقم فرمایا:
(واعلم أنہ لیس المراد من ہذہ المداولۃ أن اللّٰہ تعالی تارۃ ینصر المؤمنین وأخری ینصر الکافرین-وذلک لأن نصرۃ اللّٰہ منصب شریف وإعزاز عظیم،فلا یلیق بالکافر،بل المراد من ہذہ المداولۃ أنہ تارۃ یشدد المحنۃ علی الکفار-وأخری علی المؤمنین والفائدۃ فیہ من وجوہ:
الأول:أنہ تعالی لو شدد المحنۃ علی الکفار فی جمیع الأوقات وأزالہا عن المؤمنین فی جمیع الأوقات لحصل العلم الاضطراری بأن الایمان حق وما سواہ باطل-ولو کان کذلک لبطل التکلیف والثواب والعقاب فلہذا المعنی تارۃ یسلط اللّٰہ المحنۃ علی أہل الایمان، وأخری علی أہل الکفر لتکون الشبہات باقیۃ والمکلف یدفعہا بواسطۃ النظر فی الدلائل الدالۃ علی صحۃ الاسلام فیعظم ثوابہ عند اللّٰہ
.والثانی: أن المؤمن قد یقدم علی بعض المعاصی،فیکون عند اللّٰہ تشدید المحنۃ علیہ فی الدنیا أدباً لہ وأما تشدید المحنۃ علی الکافر فانہ یکون غضبا من اللّٰہ علیہ)(تفسیرکبیر:سورہ آل عمران:تفسیرآیت منقولہ)
توضیح:اگراللہ تعالیٰ کفار کوہمیشہ آفات وبلیات اور مصائب ومشکلات میں مبتلا رکھے،اور مومنین کو ہمیشہ مصیبتوں سے محفوظ رکھے تو مومنین کو اسلام کی حقانیت کا اضطراری علم حاصل ہوگا، پھر اس سے تکلیف باطل ہوجائے گی،یعنی دین اسلام کو اپنی عقل وفہم سے حق سمجھ کر اختیار کرنے کا حکم ہے،اسی لیے کبھی مومن بندوں کوآزمائش میں مبتلا کیاجاتا ہے،تاکہ وہ علم اضطراری کے سبب اسلام کوحق نہ سمجھیں،بلکہ دلائل کی روشنی میں اپنی عقل وفہم کے ذریعہ اسلام کوحق سمجھ کر قبول کریں۔
علم اضطراری شبہات باطلہ سے پاک ہوتا ہے، اور اسلام کی حقانیت گرچہ بدیہی ہے،لیکن یہ بدیہی کسبی اولی ہے،بدیہی غیرکسبی یعنی بدیہی اضطراری نہیں،اسی لیے بہت سے انسانوں کو اسلام کی حقانیت میں باطل شبہہ لاحق ہوتا ہے،جیسے بدیہی اولی میں شبہات باطلہ لاحق ہوتے ہیں کہ لوگ ہنومان کی دم کوہنومان سے بڑی کہتے ہیں۔مور کے پنکھ کومور سے بڑا کہتے ہیں۔
عقل،تکلیف شرعی،احتمالات باطلہ:
تمام بدیہیات قطعی بالمعنی الاخص ہیں،لیکن وہ قطعی بالمعنی الاخص جو ضروریات دین میں سے ہیں،وہ عام طورپربدیہی غیر کسبی نہیں،جن میں احتمالات باطلہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔
اگراحتمالات باطلہ نفس الامر میں معدوم ہو ں،اور بندوں کو علم اضطراری حاصل ہوتو تکلیف کا معنی باطل ہو جائے گا۔عقل کے سبب بندوں کو احکام خداوندی کا مکلف بنایا گیا ہے۔
احتمالات باطلہ کو عقل کے ذریعہ دور کرنا ہے، اور حکم خداوندی کے حق ہونے کا یقین کرناہے،اوران کو حق ماننا ہے۔ یعنی یقین مع الاعتقاد کا نام ایمان ہے۔ اگریقین ہوگیا،لیکن تسلیم نہ کیا تو مومن نہیں،جیسا کہ ابوطالب کو یقین حاصل تھا،لیکن اعتقاد حاصل نہیں۔
چوں کہ بندوں کی عقلیں متفاوت ہیں،پس اللہ تعالیٰ نے عقل کی مددکے لیے حضرات انبیاومرسلین علیہم الصلوٰۃوالسلام کو مبعوث فر مایا،تاکہ بندوں کوعذرنہ رہے،اور حضرات انبیاومرسلین علیہم الصلوٰۃوالسلام کی ہدایت وارشادسے احتمالات باطلہ کو دور کرلیں۔
(الف)(وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتّٰی نَبعَثَ رَسُولًا)(سورہ اسراء:آیت 15)
(ب)(وَمَاکَانَ رَبُّکَ مُہلِکَ القُریٰ حَتّٰی یَبعَثَ فِی اُمِّہَا رَسُولَا یَتلُو عَلَیہِم آیَاتِنَا)(سورہ قصص:آیت 59)
انسانوں کو عقل دی گئی اور مکلف بنایا گیا کہ احکام خداوندی کو تسلیم کریں۔اگر شبہا ت باطلہ معدوم ہوں تو تکلیف کی صورت باطل ہوجائے گی،کیوں کہ بدیہی غیر کسبی میں عقل اس کوتسلیم کرنے پر مجبورہوتی ہے۔وہاں علم اضطراری پایا جاتا ہے،ایسی صورت میں عقل کو استعمال کرکے دو راستو ں میں سے ایک راہ کو اختیار کرنے کی صورت مفقود ہوگی۔
بندوں کو مکلف بنائے جانے کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی عقل کواستعمال کرکے حق کوحق مانے،تب وہ مومن ہوگا۔اگر کسی کی گردن پر تلوار رکھ دی گئی اور وہ موت کے خوف سے ایمان لایا،عقلی یقین وقلبی اعتقاد نہیں تو ہرگز مومن نہیں۔
ارشاد الٰہی ہے:(لا اکراہ فی الدین)(سورہ بقرہ:آیت 256)
اکراہ کے سبب ظاہری ایمان ہوتو وہ قبول نہیں۔مدار تکلیف عقل ہے۔عقل کے سبب ایمان وتصدیق ہو،تب قبول ہے۔
قرآن مجید میں جابجا اس حقیقت کی تفہیم کی گئی کہ ہم نے اپنے رسولوں اورنبیوں کے ذریعہ حق وباطل واضح کردیا۔عقل کے سہارے شبہات باطلہ دور کر لو۔نہ سمجھ میں آئے تو ہمارے رسولوں اور نبیوں کو شبہات باطلہ بتاؤ،وہ تمہارے شبہات باطلہ دور فرمائیں گے۔
مشرکین مکہ ومشرکین عرب کے بہت سے شبہات باطلہ کو دور کرنے قرآن مجید میں آیات مقدسہ نازل ہوئیں،مثلاً سب فنا ہوجائیں گے تو حشر کیسے؟
رب تعالیٰ نے ارشادفرمایا:(وضرب لنا مثلًا ونسی خلقہ-قال من یحیی العظام وہی رمیم::قل یحییہا الذی انشأہا اول مرۃ وہو بکل خلق علیم)
(سورہ یسین:آیت 79-78)
یہی وہ ہدایت ہے جو حضرات انبیائے کرام ومرسلین عظام علیہم الصلوٰۃوالسلام کے ذریعہ عالم انسانیت کو عطا گئی۔ اسی کا نام ”اراءۃ الطریق“ہے۔ یہ ایصال الی المطلوب نہیں، بلکہ عقل کے ذریعہ احتمالات باطلہ دور کرکے مطلوب تک پہنچنا ہے۔انبیائے کرام کی جانب سے اراءۃ الطریق کے بعد بندے عقل کے سہارے ”وصول الی المطلوب“ کے مکلف ہیں۔
(1)ارشاد الہٰی ہے:(وہدینہ النجدین)(سورہ بلد:آیت 10)
(2) (لا اکراہ فی الدین::قد تبین الرشد من الغی)
(سورہ بقرہ:آیت 256)
(3)(فمن شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر انا اعتدنا للظلمین نارًا)
(سورہ کہف:آیت 29)
ان تمام آیات مقدسہ میں عقل کے سہارے شبہات باطلہ کو دورکرکے ایمان لانے کا حکم بیان کیا گیا ہے،اسی لیے اسلام پر مجبور کرنے کا حکم نہیں،لیکن آخرت کا عذاب بتادیا گیا،تاکہ ان کی عقل اس جانب متوجہ ہو، اور غوروفکر کے ذریعہ ایمان لائیں۔
یہی شبہات باطلہ ہیں،جن کوعقلی توجہ کے ذریعہ باطل سمجھنا ہے، اور دین خداوندی کوقبول کرنا ہے۔اگر شبہات باطلہ میں مبتلا رہے توبارگاہ الٰہی میں کوئی عذر قبول نہیں ہوگا،کیوں کہ عقل کی ادنی سی توجہ سے شبہات باطلہ کا بطلان ظاہر ہوجاتا ہے۔
عقل اسی لیے دی گئی کہ اپنی عقل کو استعمال کرکے بندے اپنی دنیا وآخرت درست کریں۔لوگ دنیاوی کاموں کے لیے عقل استعمال کرتے ہیں اوردینی امور کے لیے کہتے ہیں کہ فلاں نے ایسا کہا،ہم کیسے اس کوکافر مان لیں۔جواب یہ ہے کہ فلاں آدمی کہے کہ تم اپنی ساری جائیدادمجھے دے دوتوکیاتم دے دوگے؟ہرگز نہیں۔
دینی امور کے لیے عقل استعمال نہیں کیا تومواخذہ ہوگا۔جس کی عقل تکلیفی زائل ہو چکی ہو،جیسے پاگل،وہ اگر اشخاص اربعہ کو ولی اللہ مانے تو مواخذہ نہیں،کیوں کہ عقل تکلیفی موجود نہیں۔جب تک عقل تکلیفی موجود رہے،بندہ پر حکم خداوندی نافذرہے گا۔
شبہات باطلہ کاوجود لازم،ورنہ تکلیف کا معنی متصور نہیں ہوگا۔
ہاں،بعض امور ایسے ہیں کہ اصول شرع کو تسلیم کرنے کے بعد ان کا اضطراری علم حاصل ہوتا ہے۔ ایسے امور فی نفسہ بدیہی غیر کسبی نہیں ہوتے ہیں،بلکہ اسلامی اصول کو تسلیم کرنے پر وہ بدیہی غیر کسبی ہوجاتے ہیں،پس ایسے بدیہی غیر کسبی میں علم اضطراری حاصل ہوگا۔وہاں انکارکی صورت ہی نہیں تووہاں انکار غلط ہوگا،اور انکارپرحکم شرعی نافذ ہوگا۔
مثلاً جب کسی کو رسول ونبی مان لیا،اور رسول ونبی کا صدق عقلاً واجب ہے،پس وہ جو کچھ فرمائیں گے تو سچ ہوگا،اسی لیے قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام کی صداقت مسلمانوں کے حق میں بدیہی ہے،اور غیر مسلمین کے حق میں نظری۔
غیروں نے جب رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام کورسول ہی نہیں مانا تو قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام کی صداقت ان کے حق میں بدیہی نہیں ہوسکی۔مسلمانوں کے حق میں قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام کی صداقت بدیہی ہے،کیوں کہ صدق رسول عقلاً واجب ہے۔
وہ قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام جو عہد رسالت سے تواتر کے ساتھ مروی ہوکر ہم تک پہنچا،وہ ہمارے حق میں بدیہی ہے،یعنی اس کی صداقت بدیہی ہے۔بدیہی کو ضروری کہا جاتا ہے،اسی لیے ایسے متواتر امور کوضروریات دین کہا جاتا ہے۔
وہ قول رسول علیہ الصلوٰۃوالسلام جس کو ایک ہی صحابی نے سنا۔ امت کو تواتر کے ساتھ وہ قول نبوی نہیں مل سکا،وہ خاص اس صحابی کے حق میں ضروری دینی ہے،لیکن امت کے لیے ضروری دینی نہیں،کیوں کہ ایک راوی کی خبر،خبرواحد ہے۔خبر واحد یقینی نہیں ہوتی ہے،بلکہ ظنی ہوتی ہے۔وہ یقینی نہیں،اس لیے دوسروں کے حق میں وہ ضروری دینی نہیں۔
واضح رہے کہ قول رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہاں قرآن مجید اور احادیث طیبہ دونوں مراد ہیں۔قرآن مجید وحی متلو ہے،اور حدیث نبوی وحی غیر متلو۔
ہمارے حق میں دونوں قول رسول ہیں،کیوں کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ہمیں موصول ہوئے۔فعل رسول بھی حکم رسول کی منزل میں ہے،لہٰذا متواتر افعال نبویہ بھی ضروریات دین میں شامل ہیں۔