فقہ و فتاویٰ

زکوٰۃ کے چند مسائل

ازقلم:  عبدالرشید امجدی اشرفی دیناجپوری

حضور نبئ اکرم صلی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا   : ’’اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا ، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ *صحیح البخاری ، کتاب الایمان*
مذکورہ حدیث شریف میں نماز کے بعد جس عبادت کا ذکر کیا گیا ہے وہ زکوٰۃ ہے ۔زکوٰۃ اسلام کا تیسرارُکن اور مالی عبادت ہے ۔ قراٰن مجید فرقانِ حمید کی متعدد آیاتِ مقدسہ میں زکوٰۃ اداکرنے والوں کی تعریف وتوصیف اور نہ دینے والوں کی مذمت کی گئی ہے ۔زکوٰۃ کی ادائیگی کے فضائل پانے اور عدمِ ادائیگی کے نقصانات سے بچنے کے لئے زکوٰۃ کے شرعی مسائل کا سیکھنا بے حدضرور ی ہے ۔ مگر صد افسوس کہ علمِ دین کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کی اکثریت ان مسائل سے ناواقف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی پر زکوٰۃ فرض ہوچکی ہوتی ہے لیکن وہ اس سے لاعلم ہوتا ہے ۔یاد رکھئے کہ مالکِ نصاب ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کے مسائل سیکھنا فرض ِ عین ہے ۔ امامِ اہلِسنّت  اعلیٰ حضرت سیدی سرکار الشاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ الرحمہ فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ624 پر لکھتے ہیں  : مالِکِ نصابِ نامی  ہو جائے تومسائلِ زکوٰۃ (سیکھنا فرض عین ہے
زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔قرآنِ مجید برہان رشید میں نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ 32مرتبہ ذکر آیا ہے علاوہ ازیں زکوٰۃ دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے
*زکوٰۃ  فرض ہے*
زکوٰۃ کی فرضیت کتاب وسنّت سے ثابت ہے ۔ اللہ تعالٰی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے 
*وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ*
زکوٰۃ 2 ہجری میں روزوں سے قبل فرض ہوئی
  زکوٰۃ کا فرض ہونا قرآن سے ثابت ہے ، اس کا اِنکار کرنے والا کافر ہے
*زکوٰۃ کی اقسام*  زکوٰۃ کی بنیادی طور پر 2قسمیں ہیں۔
(۱)مال کی زکوٰۃ            (۲)اَفراد کی زکوٰۃ( یعنی صدقۂ فطر)
مال کی زکوٰۃ کی مزید دو قسمیں ہیں  :
(1)سونے ، چاندی کی زکوٰۃ ۔
(2)مالِ تجارت اور مویشیوں ، زراعت اور پھلوں کی زکوٰۃ(یعنی عشر)
*زکوٰۃ کس پرفرض ہے*
زکوٰۃ دیناہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں  :
(1)  نصاب کا مالک ہو ۔     
(2) یہ نصاب نامی ہو ۔
(3) نصاب اس کے قبضے میں ہو ۔
(4) نصاب اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو۔
(5) نصاب دَین سے فارغ ہو(یعنی اس پر ایسا قرض نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ، کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو اس کا نصاب باقی نہ رہے ۔)
(6) اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ۔ _بہارشریعت، ج۱ حصہ۵_
*نصاب کا مالک*
مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا اتنی مالیت کی رقم ، یا اتنی مالیت کا مال ِ تجارت یا اتنی مالیت کا حاجاتِ اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے زائد سامان ہو ۔
_بہارِ شریعت، ج۱، حصّہ۵_
*حاجتِ اَصلیہ کسےکہتے ہیں؟*
حاجت ِ اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزراوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر ، پہننے کے کپڑے ، سواری ، علمِ دین سے متعلق کتابیں ، اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ۔
*(الھدایۃ، کتاب الزکوٰۃ، ج۱*
مثلاً جنہیں مختلف لوگوں سے رابطہ کی حاجت ہوتی ہوان کے لیے ٹیلی فون یا موبائل ، جو لوگ کمپیوٹر پر کتابت کرتے ہو ں یا اس کے ذریعے روزگار کماتے ہوں ان کے لیے کمپیوٹر ، جن کی نظر کمزور ہو ان کے لیے عینک یا لینس ‘ جن لوگوں کو کم سنائی دیتا ہو ان کے لیے آلہ سماعت، اسی طرح سواری کے لیے سائیکل ‘ موٹر سائیکل یا کار یا دیگر گاڑیاں ‘ یا دیگر اشیاء کہ جن کے بغیر اہل حاجت کا گزارہ مشکل سے ہو، حاجتِ اصلیہ میں سے ہیں
*مَصارِفِ زکوٰۃ*
زکوٰۃ کسے دی جائے ؟
اِن لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے :(1)فقیر
(2)مِسکین
(3)عامِل
(4)رِقاب
(5)غارِم
(6)فِیْ سَبِیْلِ اللہ
(۷)اِبن سبیل(یعنی مسافر)
اِن کی تفصیل
*فقیر* وہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کو پَہنچ جائے یانِصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیَّہ (یعنی ضَروریاتِ زندَگی ) میں مُسْتَغْرَق(گِھراہوا ) ہو
*مِسکین*   وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چُھپانے کیلئے اِس کامُحتاج ہے کہ لوگوں سے سُوال کرے اور اسے سُوال حلال ہے ۔ فقیر کو ( یعنی جس کے پاس کم از کم ایک دن کا کھانے کیلئے اور پہننے کیلئے موجود ہے ) بِغیر ضَرورت و مجبوری سُوال حرام ہے ۔ _الفتاوٰی الھندیۃ_
*عامِل* وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکوٰۃ اور عشر وصول کرنے کے لئے مقرر کیا ہو۔ _الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکوۃ_
نوٹ :  صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں کہ’’عامل اگرچہ غنی ہو اپنے کام کی اجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہوتو اس کو مال زکوٰۃ میں سے دینا بھی ناجائز اور اسے لینا بھی ناجائز ، ہاں اگر کسی اور مَد(یعنی ضمن) میں دیں تو لینے میں حرج نہیں۔
*(بہارِ شریعت، ج۱،حصہ ۵، ص۹۲۵)*
*رِق اب* سے مراد مکاتب ہے ۔ مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس سے اس کے آقا نے اس کی آزادی کے لئے کچھ قیمت ادا کرنا طے کی ہو ، فی زمانہ رقاب موجود نہیں ہیں۔
*غارِم* اس سے مراد مقروض ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ دینے کے بعد زکوٰۃ کا نصاب باقی نہ رہے اگرچہ اس کا بھی دوسروں پر قرض باقی ہو مگر لینے پر قدرت نہ رکھتا ہو *الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ ، باب المصرف ، ج۳، ص۳۳۹*
*فِی سَبِیلِ اللہ*  یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا ۔اس کی چند صورتیں ہیں(۱) کوئی شخص محتاج ہے اور جہاد میں جانا چاہتا ہے مگر اس کے پاس سواری اور زادِ راہ نہیں ہیں تو اسے مالِ زکوٰۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خداعَزَّوَجَلَّ  میں دینا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہو ۔
(۲) کوئی حج کے لئے جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس زادِ راہ نہیں ہے تو اسے بھی زکوٰۃ دے سکتے ہیں لیکن اسے حج کے لئے لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔

*کن رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں*
اِن رشتہ داروں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں جبکہ زکوٰۃ کے مستحق ہوں  :
{1}بہن {2}بھائی {3}چچا{4} پھوپھی{5}خالہ {6}ماموں {7}بہو {8}داماد {9}سوتیلاباپ {10}سوتیلی ماں {11}شوہر کی طرف سے سوتیلی اولاد {12}بیوی کی طرف سے سوتیلی اولاد۔ (ماخوذا زفتاوٰی رضویہ ، ج۱۰، ص۱۱۰)
*کس کوزکوٰۃ دینا افضل ہے*
اگر بہن بھائی غریب ہوں تو پہلے ان کا حق ہے ، پھر ان کی اولاد کا پھر چچا اور پھوپھیوں کا ، پھر ان کی اولاد کا ، پھر ماموؤں اور خالاؤں کا ، پھر ان کی اولاد کا ، پھر ذَوِی الْاَرْحَام( وہ رشتہ دار جو ما ں ، بہن ، بیوی یالڑکیوں کی طرف سے منسوب ہوں ) کا ، پھر پڑوسیوں کا ، پھر اپنے اہل ِ پیشہ کا ، پھر اہل ِ شہر کا (یعنی جہاں اس کا مال ہو)۔