نظم: سجدہ

نتیجۂ فکر: رمشا یاسین، کراچی پاکستان میں جھکی تھی دنیا کے آگے،میں رویٔ تھی دنیا کے آگے،امید تھی مجھ کو دنیا سے ہی،یقین تھا مجھ کو دنیا پہ ہی،دنیا نے مجھے ٹھکرادیا،مجھے چلتے چلتے گرا دیا۔ کر کے خود کو خدا سے غافل،کر کے خود کو دنیا کے قابل،آگ کی لپٹوں میں جلتی رہی،میں دنیا … Read more

کشش کا قانون

تحریر: رمشا یاسین (کراچی) دنیا کا کویٔ بھی نظام، کویٔ بھی قانون ہو، اللہ کے ارادوں سے علیحدہ نہیں۔ اللہ فرماتا ہے: وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمان کو ایسے سہاروں کے بغیر قایٔم کیا جو تمکو نظر آتے ہوں، پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا، اور اس نے آفتاب و … Read more

آزاد نظم: دشمن تو خوش ہوتا رہا ہے

از قلم: رمشا یاسین (کراچی، پاکستان) دھوپ ہے کہ ڈھلتی نہیں۔آسماں مگرروتا رہا ہے۔موت کے گھاٹ اپنے ہی اترے ہیں۔دشمن تو خوش ہوتا رہا ہے۔معصوم کے سینے پر گولیاں اڑائی ہیں۔دردندوں کو تم نے آزاد کیا ہے۔بے گناہ نے کاٹی ہے ناحق سزا۔گناہ گار کو تم نے رہا کیا ہے۔اپنوں کی جانوں کے دشمن ہو … Read more