منقبت در شانِ خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند، سیدنا الشاہ حضور علامہ مفتی محمد امین الدین عرف امین شریعت علیہ الرحمہ و الرضوان

سکونِ جان و دل ارماں امینِ دین و ملت ہیں
مدوا غم کا در درماں امینِ دین و ملت ہیں

ہو علمِ ظاہری یا معنوی ہر ایک میں بیشک
مہارت رکھتے وہ یکساں امینِ دین و ملت ہیں

رسولِ پاک کی سیرت کا مظہر ذات ہے جن کی
وہ پاکیزہ صفت انساں امینِ دین و ملت ہیں

تصلب، استقامت دین پر ان کی رہی دائم
ہاں! ایسے صاحبِ ایماں امینِ دین و ملت ہیں

پڑھا کافر نے بھی کلمہ ہےجن کےدستِ اقدس پر
صداقت کا حسیں داماں امینِ دین و ملت ہیں

مخالف دشمنانِ دیں سے جو بالکل نہ گھبرائے
وہ مرد حق خدا ترساں امینِ دین و ملت ہیں

نہ جانے کتنے بھٹکوں کو وہ راہِ راست پر لائے
گو راہِ حق کے اک ساماں امینِ دین و ملت ہیں

تھی جن کی ذات تقویٰ اورطہارت کاحسیں پیکر
وہ خاصانِ حق و یزداں امینِ دین و ملت ہیں

خدا کے دین کی ترویج میں خدمات میں اپنی
کئے کل زندگی قرباں امینِ دین و ملت ہیں

ہر اک بابِ حیات ان کا منور ہے نمایاں ہے
سراپا روشن و تاباں امینِ دین و ملت ہیں

کہا ہے مفتیِ اعظم نے ‘ہیں زندہ ولی، جن کو
غریقِ وادیِ عرفاں امینِ دین و ملت ہیں

نہیں وہ طالبِ جنت، ہے طالب خلد خود ان کی
وہ مطلوب جناں مہماں امینِ دین و ملت ہیں

دیوانے اشک ان کی یاد میں اب بھی بہاتے ہیں
ہیں کہتے جانِ جاں جاناں امینِ دین و ملت ہیں

امیرِ ناتواں جو چاہ در سے مانگ لے ان کے
بلا شک فیض کے ساماں امینِ دین و ملت ہیں

رشحات قلم : محمد امیر حسن امجدی رضوی

Leave a Comment