منقبت

منقبت : چراغ حق نماہو اور قندیل ھدی تم ہو ۔

رشحات خامہ : محمد نثار نظامی مہراج گنج

عدیم المثل یکتاے زماں احمد رضا تم ہو
بلا تشکیک محبوب خدا کا معجزہ تم ہو

مدینے کےخس و خاشاک کو پلکوں سے جو چومے
زمانہ کہتاہے وہ عاشق بدرالدجی تم ہو

سخن سازی مسلم غالب و خسرو کی ہے لیکن
نمایاں حیثیت جس کی ہے وہ احمد رضا تم ہو

تمہارے وار سے اب تک کوئی بھی بچ نہیں پایا
براے دشمن سرکار تیغ مرتضی تم ہو

غزل کے شہر میں جس کا کوئی مسکن نہیں ملتا
مرا اذعان جازم ہے کہ وہ احمد رضا تم ہو

ہوے ہیں اور بھی اہل سخن دنیاے اردو میں
مگر بخشا تجمل نعت کو جس نے شہا تم ہو

لگاکر پہلے غوطہ عشق و الفت کے سمندر میں
ہے جس نے کی رقم شان حبیب کبریا تم ہو

تصدق سے ملی جس کے ہمیں بھی علم کی طلعت
اے علم و فضل کے حامل وہ دربے بہا تم ہو

جو برگشتہ ہیں راہ حق سے ان کی رہنمائی کو
چراغ حق نماہو اور قندیل ھدی تم ہو

ہے صدانداز مستانہ نظامی شیفتہ جس پر
بریلی کے رضا، اے خوگر صدق و صفا تم ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے