سیرت و شخصیات

حضور اشرف الفقہاء کی زندگی کے منتخب درخشاں گوشے

اسمِ گرامی: مجیب اشرف، سلسلہ :قادریہ رضوی اور القابات و خطابات:اشرف الفقھاء، اشرف العلماء، شارحِ کلامِ اعلی حضرت، خطیب الہند اور مفتی اعظم مہاراشٹر ہے۔
پیدائش: آپ کی ولادت باسعادت آپ کے وطن مالوف "مدینۃ العلماء”، محلہ کریم الدین پور، قصبہ و پوسٹ گھوسی، ضلع اعظم گڑھ(یو پی) کے ایک تقوی شعار گھرانے میں مورخہ 2 رمضان المبارک 1356ھ/6 نومبر 1937ء سنیچر کے روز بوقت صبح ہوئی۔

تعمیری کارنامے:

(۱)۔دارالعلوم امجدیہ کا قیام
آپ کے اندر قوم وملت کی فوز وفلاح کی سچی تڑپ اورتعمیری لگن موجِ زن تھی۔ جب آپ نے بعض وجوہات کے سبب جامعہ عربیہ اسلامیہ سے علاحدگی اختیار کر لی تو اسی جذ بہ کے پیش نظر ۱۹۲۶ ء میں ناگ پور کی سرزمین پر حضور مفتي اعظم علامہ شاہ مصطفی رضا نوری بریلوی اور حضور بر بان ملت علامہ بر بان الحق جبل پوری علیہم الرحمۃ والرضوان کی سر پرستی میں’’ دارالعلوم امجد یہ‘ کاسنگ بنیادرکھااور انتہائی محنت اور جاں فشانی سے اس ادارہ کو پروان چڑھایا۔تعمیری کام کی تعمیل کے بعد آپ اسی دارالعلوم میں درس وتدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔واضح رہے کہ تبلیغی اسفار اور زیادتی کار کے سبب آپ کا تدریسی سلسلہ مستقل جاری نہ رہ سکا تھا۔
(۲)۔امجدی مسجد کا قیام
ناگ پور کے محلہ شانتی نگر میں آپ نے ۱۹۸۵ ء میں’’امجدی مسجد‘‘ کی بنیا درکھی جواب ناگ پور کی خوب صورت اور بڑی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔
(۳)۔دار العلوم انوار رضا نوساری کا قیام
نوساری ، گجرات (جہاں سنیت کا نام لینے والے کو مجرم گردانا جاتا تھاوہاں )آپ نے ۱۹۸۸ء میں’’دارالعلوم انوار رضا‘‘ کی بنیادرکھی جور یاست گجرات کی ایک اچھی اور معیاری درسگاہ ہے ۔جس کی خدمات سے پورا علاقہ استفادہ کر رہاہے۔

آپ کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے

۱۔جامعہ نوریہ، بالاگھاٹ، مدھیہ پردیش * دارالعلوم رضائے مصطفی، را نچور، کرناٹک
۲۔جامعہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ، بنگور، کرنا ٹک
۳۔ دارالعلوم غوث اعظم ، پور بندر، گجرات
۴۔جامعہ اہلسنت صادق العلوم، ناسک،مہاراشٹر
۵۔دارالعلوم غوث اعظم ناسک، مہاراشٹر
۶۔دارالعلوم حنفیہ غوشیہ،شیر پور، مہاراشٹر
۷۔ مدرسۃ البنات الصالحات، ناسک ،مہاراشٹر
۸۔ دارالعلوم انوارمصطفی ،سدی پیٹھہ، آندھرا پردیش۔

تدریسی خدمات:

۱۹۵۷ء میں آپ نے تعلیم و تربیت سے فراغت پائی اس دوران وسطی ہندوستان کی مشہور و معروف اور قدیم اسلامی درس گاہ جامعہ عربی اسلامی ناگ پورکوایک لائق و فائق نائب شیخ الحدیث کی ضرورت پیش آئی۔ چناں چہ حضرت فقیہ ہندمفتی عبدالرشید فتح پوری علیہ الرحمہ نے حضور مفتی اعظم قدس سرہ اور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کو خط روانہ فرمایا کہ جامعہ کے لیے ایک قابل اور محنتی نائب شیخ الحد یث روانہ فرمائیں ۔دونوں بزرگوں کی نظر حضرت مفتی صاحب قبلہ پر پڑی اور اسی طرح یہ جواں سال، کم عمر عالم نبیل اور فاضل جلیل ناگ پور کےلیے روانہ کردیا گیا۔
حضرت مفتی عبد الرشید فتح پور علیہ الرحمۃ نے آپ کی کم عمری کی بنا پر آپ کو بجاے جامعہ میں رکھنے کے جامعہ عربیہ اسلامیہ کی شاخ”کامٹی“ میں منصبِ صدارت پر مقرر فرمایا۔دو سال خدمات انجام دینے کے بعد ۱۹۶۰ء میں استعفی دےدیا اور مفتی اعظم ہند کی اجازت سے ناگ پور کی کچی میمن مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دینے پر مامور ہوگئے۔ابھی چند ماہ بھی نہ ہوئے تھے کہ مفتی عبدالرشید علیہ الرحمۃ نے اپنے مدرسے: جامعہ عربیہ اسلامیہ،ناگ پور سیٹی میں نائب شیخ الحدیث کے منصب پر متمکن فرمایا۔

قلمی خدمات:

آپ فصیح اللسان خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایۂ ناز ادیب اور بلند پایہ انشاء پرداز بھی تھے ۔ ۔آپ کی تصانیف حسب ذیل ہیں؛

۱۔ تحسین العیادة۔
۲۔ حضور مفتی اعظم پیکرِ استقامت و کرامت ۔
۳۔خطبات کولمبو
۴ارشادالمرشد
۵۔مسائلِ سجدہ ٔ سہو
۶۔ المرويات الرضویہ فی الاحادیث النبوی
۷۔ تنویرالعین
۸۔تابش انوارمفتی اعظم
۹۔تنویرالتوقیرتر جمہ الصلاۃعلی البشیر النذیر۔

تبلیغی دورے:

موصوفِ گرامی تعلیم سے فراغت پانے کے بعد سے تادم تحریر دین وسنیت خصوصاً مسلکِ اعلی ٰحضرت امام احمد رضا کی ترویج واشاعت اور تحفظ و بقا کے لیے مسلسل دینی وعلمی اور تبلیغی واشاعتی اسفار کرتے رہتے تھے اور تشنگانِ علوم ِدینیہ وروحانیہ کی سیرابی کا سامان مہیا کرتے رہتے تھے ۔نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونِ ملک کی جانب بھی آپ کے تبلیغی اسفارجاری رہتے تھے۔

اندرون ملک اسفار:

کرناٹک، آندھرا پردیش، گجرات، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان،اڑیسہ،اور تامل ناڈو جیسی ریاستوں کے سیکڑوں اضلاع ،شہروں اور چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں آپ کے تبلیغی وروحانی دورے ہوتے رہتے تھے۔

بیرون ملک کے اسفار:

حجاز مقدس، کویت، مصر، عراق، نیپال، سری لنکا، پاکستان، برطانیه دی ، ساوتھ افریقہ اور بسوئبو وغیرہ ممالک کے مختلف علاقوں میں بھی تبلیغی و روحانی اسفار انجام دیا۔

مناظروں میں شرکت:

آپ میں جہاں بہت ساری خوبیاں موجود تھیں وہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ آپ ایک اچھے کامیاب اور حاضر جواب مناظر تھے۔ باطل عقائد و نظریات کا قلع قمع کرنے کے لیے گستاخان رسول اللہﷺ کے ساتھ آپ کے بہت سارے مناظرے ہوئے ہیں جن میں بفضلہ تعالی و بکرم رسولہ الاعلیٰﷺ آپ کو کامیابی و کامرانی ملی اور دشمنان دین وسنیت کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑا۔
جھریا،دھنباد(بہار)میں دیو بندیوں سے ہوئےمناظرے میں آپ نے شرکت فرمائی۔ بنارس کے بجر ڈیہا علاقے میں غیر مقلدوں سے ہوئے حق وباطل کے مناظرے میں آپ شریک رہے۔ ناگ پور میں ارشاد دیو بندی اور طاہر گیاوی سے مناظرہ ہوا۔ کٹیہار، بہار میں مفتی مطیع الرحمن رضوی اور طاہر گیاوی کے درمیان ہوئے مناظرے میں آپ شریک رہے۔ نیز اٹارسی ،مدھیہ پردیش میں مفتی مطیع الرحمن رضوی اور دیو بندی مناظر نذرمحمد کے درمیان ہوئےمناظرے کی صدارت آپ نے فرمائی۔

کافروں کا آپ کے ہاتھوں پر قبولِ اسلام :

آپ کے دستِ مبارک پرتاحینِ حیات ۷۸ کافروں نے اسلام قبول کیا اور ہزاروں افراد باطل عقائد ونظریات سے تائب ہوئے۔

جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا اجرا:

حضرت مفتی مجیب اشرف صاحب نے ۱۹۶۵ ء میں ناگ پور اور ۱۹۷۸ ء میں سورت میں جلوس عیدمیلادالنبی ﷺ کا اجرا فرمایا جو کہ تادم تحریر ہر سال محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کے پُر بہار مبارک دمسعودموقع پر نہایت تزک واحتشام سے نکلتا ہے ۔

ایک علمی عہد کاخاتمہ :

۶ اگست ۲۰۲۰ء بمطابق ۱۵ ذی الحجہ۱۴۴۱ھ بروزِ جمعرات بوقتِ صبح،۸۵ برس کی عمر میں خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند ،اشرف الفقہا مفتی محمد مجیب اشرف رحمۃ اللہ علیہ کا وصال پُر ملال ہوگیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ازقلم: جاوید اختر رضوی مصباحی، ہوڑہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے