تحریر : مفتی منظور ضیائی
لاکراہ فی الدین : ابتدا اسلامی تاریخ کے اس واقعہ سے ہجرت کے بعد جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں مہاجرین کے علاوہ غریب مسلمان تھے جو انصار کہلائے اور یہودی قبائل تھے، ان میں بنو نضیر اور بنو قینقاع بطور خاص قابل ذکر ہیں ہوا یہ کہ ایک انصار ابو حصین کے دو بچے یہودیوں کی تحویل میں رہ گیے تھے مکہ مکرمہ واپسی کے وقت جب اس انصاری نے طاقت کے زور پر یہودیوں سے اپنے بچے چھیننے کی کوشش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمادیا اور کہا کہ سب کو اپنی مرضی کے مطابق اپنا دین اور مذہب اختیار کرنے کی آزادی ہے قرآن کی آیت لااکراہ فی الدین کی شان نزول مفسرین کی اکثریت کے مطابق یہی واقعہ ہے
زیر نظر مضمون کی شان نزول یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں تبدیلی مذہب کو لے کر شور اور ہنگامہ برپا ہے۔ نام نہاد لوجہاد تبدیلی مذہب اور گھٹیا قسم کی سیاست نے مل کر پورے ملک کا ماحول مکدر کررکھا ہے کوئی الزام لگا رہا ہے کہ مسلمان لڑکے جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا اور ورغلا کر لالچ اور دھمکی کے ذریعے مسلمان بنا رہے ہیں۔
تو دوسری طرف یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کے بل بوتے ہندوستان میں ہندووں کو مسلمان بنانے کی سازش رچی جارہی ہے تاکہ ہندوستان میں مسلمان اکثریت میں آجائے اور ہندو اقلیت بن کر رہ جائے۔ ابھی تک معاملہ صرف ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان تھا اب مسلمانوں اور سکھوں میں بھی منافرت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں جزوی طور پر انہیں کامیابی بھی مل گئی ہے۔ دراصل یہ سب کچھ الیکشن کے موقع پر سیاسی ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہئیے ۔ مسلمان خواہ مخواہ برادران وطن کے غصے اور نفرت کے شکار ہورہے ہیں کچھ لوگ مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں گرفتار بھی کیے گیے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہورہی ہے اور اس کے ذریعے مسلمانوں میں خوف اور ہیجان کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
چند باتیں اسلامی ہندوستانی اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں عرض کرنے کی کوشش کرونگا۔ جہاں تک اسلام کا معاملہ ہے زور زبردستی دھونس دھمکی اور لالچ کے ذریعے قبول اسلام کا تصور پوری اسلامی تاریخ میں کبھی نہیں رہا ہے ہندوستان میں ایک ہزار سال سے زائد مسلم حکمرانی کے باوجود مسلمان اقلیت میں اور ہندو بھائی اکثریت میں ہیں اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور عروج میں بھی غیر مسلموں کو زبردستی مسلم بنانے کی کوشش نہیں کی آج جو مسلمان ہمیں نظر آتے ہیں ان میں اکثریت ان مسلمانوں کی ہے جن کے آباء و اجداد نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر مذہب اسلام کو قبول کیا تھا جہاں تک قانونی نقطہ نظر کی بات ہے ہندوستان کا آئین اپنے ہر شہری کو اپنی مرضی کا مذب قبول کرنے اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ دنیا کے تمام مہذب اور جمہوری ملکوں میں بھی فرد کی یہ آزادی تسلیم کی گئی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مذہب اختیار کرے۔
ہندوستان سمیت پوری دنیا میں کثیر تعداد میں لوگ اسلام قبول کررہے ہیں کچھ لوگ ذاتی مطالعے کے نتیجے میں اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو ان کی دنیاوی اور اخروی فلاح کا ضامن ہے کچھ لوگ مبلغین اسلام کی تبلیغ سے متاثرہوکر اپنے ضمیر کی گواہی پر اسلام قبول کررہے ہیں۔ دھونس دھمکی اور لالچ کا الزام اس لیے بے اثر ہوجاتا ہے کیونکہ ان معاشروں میں بھی لوگ تیزی کے ساتھ اسلام قبول کررہے ہیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں مغلوب اور مقہور ہیں اور دشمنوں کے نشانے پر ہیں۔
آخری بات دھونس دھمکی ڈر اور لالچ کے نتیجے میں اسلام قبول کرنا نہ ہمارے نزدیک درست ہے نہ اسلام کے نزدیک نہ ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے جہاں یہ ثابت ہوجائے کہ کسی کو غیر قانونی اور غیر اسلامی طریقے سے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تو ہم ایسے کسی بھی عمل سے اپنی برات کا اعلان کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں ایسے مقام پر قانون اپنا کام کرے گا اور ایسے لوگوں کو کیفرکردار تک پہنچائے گا۔ ہمیں اپنی اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور نہ ہی اپنی صفوں میں ایسے فرضی اور نقلی مسلمانوں کی ضرورت ہے لیکن اپنے مذہب ہی تبلیغ و اشاعت ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے اور آئینی اور قانونی حق بھی جس سے ہم دستبردار نہیں ہوسکتے۔ اگر کوئی شخص اسلام قبول کرنا چاہتا ہے اس کو سرکاری مشنری کے ذریعے روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ بھی قابل مذمت ہے اور فرد کی آزادی کو سلب کرنے کے مترادف ہے ہم مبلغین اسلام اور عام مسلمانوں کو بھی یہ تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے کردار اور عمل کے ذریعے اسلام کا روشن پہلو دنیا کے سامنے پیش کریں اسلام تو وہ مذہب ہے جو مسلمانوں کی تمام تر برائیوں اخلاقی خرابیوں اور بے اعتدالیوں کے باجود دلوں کو مسخر کررہا ہے۔ لوجہاد اور تبدیلی مذہب کی آڑ میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش جس قدر جلد ممکن ہو بند ہوجانا چاہیے اور اس کے لیے بلا تفریق تمام صحیح الفکر افراد کو آگے آنا چاہیے۔