علما و مشائخ

آفاقی دین کا آفاقی مبلغ

تحریر : جاوید اقبال علیمی

بر صغیر ہند وپاک کے جن خانوادوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ،ان میں ایک خانوادہ علیمیہ بھی ہے ۔یوں تو مبلغ اسلام علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کے والد ماجد حضرت مولانا عبد الحکیم جوش علیہ الرحمہ اور آپ کے سارے بھائیوں نے اپنے آپ کو تبلیغ دین اور اصلاح مسلیمین کے لیے وقف کر رکھا تھا اور انھوں نے اپنے منصب و استطاعت کے مطابق تبلیغی فریضہ انجام دیا بلکہ آپ کے بڑے بھائ علامہ احمد مختار میرٹھی علیہ الرحمہ کی دینی و اصلاحی خدمات کا سلسلہ تو افریقی ممالک تک پھیلا ہوا ہے ۔اسی طرح آپ کے دوسرے بھائ مولانا نذیر احمد صدیقی میرٹھی ایک دانشور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحب بصیرت سیاست داں اور دین اسلام کے مخلص مبلغ بھی تھے ،آپ کی سیاسی بصیرت کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی جناح اکثر ان سے مشورے لیتے تھے ،آپ ہی کے دست اقدس پر محمد علی جناح کی اہلیہ پارسی مذہب سے توبہ کر کے مشرف بہ اسلام ہوئ تھیں ۔اس خاندان کے تمام افراد کی خدمات اپنے آپ میں انفرادی اہمیت رکھتی ہیں لیکن اللہ پاک نے مبلغ اسلام علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ سے جو دینی کام لیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے ۔آپ کی دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں صرف ایشیا تک محدود نہ تھیں بلکہ یوروپ وافریقہ کی بنجر زمینوں کو بھی آپ نے سیراب کیا ، ہند و پاک کے بہت سے علماۓ کرام یا تنظیمات یوروپ و افریقہ کی جن سر سبز وشاداب زمینوں سے آج آسودگی حاصل کر رہے ہیں وہ دراصل مبلغ اسلام علامہ عبدالعلیم صدیقی علیہ الرحمہ کی ہی کی ہموار کردہ ہیں ۔

ولادت،تعلیم و تربیت ۔

مبلغ اسلام علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ ١٥رمضان المبارک ١٣١٠ہجری مطابق ٣/اپریل ١٨٩٢عیسوی کو میرٹھ میں پیدا ہوۓ ۔آپ سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔بارہ کے تھے کہ والد ماجد کی شفقت و تربیت سے محروم ہوگئے ۔آپ "بالاے سرش زہوشمندی "کے مصداق تھے ۔چنانچہ انتقال سے پہلے والد ماجد نے اپنے پسر ارجمند کی پیشانی میں حکمت ودانائ اور کرامت وبزرگی کے چمکتے آثار اور روشن انوار دیکھ کر آپ کی والدہ سے فرمایا تھا کہ:”اس کی مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک عزت وتکریم ہوگی ۔اللہ تعالی اس کو مبلغ اسلام بناے گا”۔والد بزرگوار کی پیش گوئ سچ ثابت ہوئ اور اللہ تعالی نے نسل صدیقی کے اس فرد فرید کو وہ عزت و شہرت اور مقبولیت عطا کی کہ کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔

مبلغ اسلام علیہ الرحمہ نے ناظرہ قرآن اپنے والد سے پڑھا ،عربی وفارسی تعلیم کا آغاز بھی انہی کے پاس کیا ۔جب تک والد بقید حیات رہے انہی کے پاس پڑھتے رہے اور ان کے وصال کے بعد آپ کے بڑے بھائ حضرت مولانا احمد مختار صدیقی نے آپ کی تعلیمی سر پرستی فرمائ ،اعلی تعلیم کے لیے میرٹھ کے مدرسہ قیومیہ میں داخل کرایا ،وہیں سے آپ نے درس نظامی کی تکمیل فرماکر اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی سے اجازت حدیث حاصل کی ۔
دینی علوم کی تحصیل کے آپ عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوۓ چنانچہ ڈویزنل کالج میرٹھ سے ١٩١٧میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔مبلغ اسلام جانتے کہ جدید سائنسی علوم ،ریاضی،طبعیات اور جدید فلسفہ سے استفادہ کرنے کے لیے انگریزی جاننا ضروری ہے اس لیے آپ نے اس پر خوب توجہ کرکے عبور حاصل کیا۔

حسن ظاہری ۔

مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم صدیقی علیہ الرحمہ کو اللہ جل وعلا نے حسن ظاہری و باطنی دونوں سے نوازا تھا ۔ڈاکٹر غلام یحی انجم نے آپ کےحسن ظاہری کا نقشہ یوں کھنیچا ہے :” کشادہ پیشانی ،گورا رنگ،سرگول اور باوقار،بڑی بڑی روشن آنکھیں،ستواں ناک،چوڑا سینہ،تراشیدہ ہونٹ،گھنی دارڑھی،دندان مبارک چھوٹے چھوٹے انار کے دانوں کی طرح باہم مربوط ،درمیان میں بارک شگاف ۔جب تبسم فرماتے تو تو دانتوں کا حسن دوبالا ہوجاتا”۔

زبان دانی اور خطابت ۔

عالمی سطح پر تبلیغ دین کا فریضہ انجام دینے کے لیے دنیا کی مشہور زبانوں پر عبور اور ان میں اپنا مافی الضمیر ادا کرنے کا ملکہ ہونا ناگزیر ہے ورنہ تو تبلیغ و ترسیل کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔مبلغ اسلام کی شخصیت اس حیثیت سے اپنے تمام معاصرین میں ممتاز نظرآتی ہے ،آپ کو انگریزی ،عربی ،فارسی ،اردو،فرانسیسی،جاپانی ،چینی،ملائ اور سواحلی زبانوں پر کمال کی قدرت تھی ۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے ہندوستان سے دور دراز ان ملکوں میں بھی اسلام کی دعوت عام کی جن کے باشندے اسلام سے بالکل نابلد تھے ۔
مبلغ اسلام کو تقریر و خطابت سے بچپن سے دلچسپی تھی ،میرٹھ کی جامع مسجد میں نوسال کی عمر میں بہترین تقریر آپ کے جوہر خطابت کی پیشن گوئ کرچکی تھی، فلسفیانہ استدال آپ کی خطابت کا نمایاں وصف تھا ،اللہ پاک نے آواز میں ایسی کشش اور نغمگی عطا کی تھی کہ پورے مجمع پر سحر طاری ہوجاتا تھا۔

دعوتی اسفار اور کانامے۔

ایک مبلغ کے اندر جذبہ ایثاروقربانی کا ہوناضروری ہے ۔مبلغ اسلام کا یہ جذبہ ایثار و قربانی ہی تھا کہ آپ نے اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اسلام کی نشرو اشاعت اور ملت اسلامیہ کی خیر خواہی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
آپ نے اپنے ذاتی خرچ پر ہند و بیرون ہند کے ان غیر مسلموں میں دعوت تبلیغ کا کام کیا جو اسلام سے بالکل ناواقف تھے ،آپ کے دست حق پرست پر ستر ہزار سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا،آپ کی داعیانہ کاوشوں کے نتیجے میں جو مشہور شخصیات دائرہ اسلام داخل ہویں ،ان میں بورینو کی شہزادی ،ماریشش جنوبی افریقہ کے فرانسیسی گورنر مراوت کی ،ٹرینٹی ڈاڈ کی ایک مشہور خاتون وزیراور ڈاکٹر صادق جارج اینٹو نوف جیسے معروف و مشہور امریکن سائنسداں کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔
آپ نے دعوت تبلیغ کی خاطر دنیا کے جن خطوں کا دورہ کیا اور اپنی تبلیغی سرگرمیوں سے وہاں کے غیر مسلموں کے دلوں میں نور ایمان کی شمع روشن کی،ان میں مندرجہ ذیل ممالک قابل ذکر ہیں ۔برما،کولمبو،حجازمقدس،سیام،چین،مڈغاسکر،سیلون،سنگاپور،ملیشیا،انڈونیشیا،تھائ لینڈ،نائجیریا،انڈوچائنا،جاپان،ماریشش،جنوبی افریقہ ومشرقی افریقہ،عراق،اردن،فلسطین،گیانا،شام،مصر،بریطانیہ،فرانس،اٹلی،برٹش،سرینام،ٹرینٹی ڈاڈ،امریکہ،کنیڈا،فلپائن،ٹویا گو،ری یونین وغیرہ۔
مبلغ اسلام کی دعوتی وتبلیغی مساعی سے متاثر ہوکر جن لوگوں نے دعوت اسلام قبول کی ،آپ نے ان تک دینی تعلیمات پہنچانے اور اسلامی احکام سیکھنے سکھانے کے لیے مساجد ،مدارس ،کتب خانے اور اشاعتی ادارے وغیرہ مراکز قائم کرنے کے علاوہ رسائل و میگزین بھی جاری کیے جن میں کچھ درج ذیل ہیں۔
١ سلطان مسجد سنگاپور
٢ مسجد ٹوکیو جاپان
٣ مسجد حنفیہ کولمبو
٤ دارالعلوم جورکا
٥ مسجد وکتب خانہ نائجیریا
٦ عربی یونیورسٹی ملایا
٧ غفوریہ عربی اسکول مہریگاما ،کولمبو
٨ ڈربن ساؤتھ افریقہ سے مسلم ڈائجسٹ کی اشاعت
٩ اسٹار آف اسلام ،کولمبو کی اشاعت
١٠ ٹرینٹی ڈاڈ سے مسلم اینیول کی اشاعت
١١ سنگاپور سے انگریزی زبان میں "ریئل اسلام "کی اشاعت
١٢ سنگا پور سے ١٩٣٦ءمیں ماہنامہ "دی جینوین اسلام "کی اشاعت۔
١٣ مشرقی یوپی کے ضلع بستی کی مشہور دینی درسگاہ "دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی”کی بنیاد بھی آپ ہی کے ایما وخواہش کے احترام میں آپ کے مرید صادق الحاج سیٹھ شمس الحق علیمی کے ذریعے پڑی ۔جب مدینہ منورہ میں آپ کو اس کی اطلاع ہوئ تو بے پناہ خوشی کا اظہار فرماتے ہوے اپنی دعاؤں سے نوازا ،گنبد خضری کی چھاؤں میں مبلغ اسلام کی مانگی ہوئ دعاؤں کی بدولت آج اس درسگاہ کا شمار ہند کی بڑی درسگاہوں میں ہوتا ہے۔

مناظرے و مباحثے۔

مبلغ اسلام علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں بہت سے بدمذھبوں اور غیر مسلموں سے مناظرے و مباحثےبھی کیے جن میں مغربی مفکر وعیسائ مبلغ اور انگریزی زبان کے انٹرنیشنل ادیب جارج برناڈشا کے ساتھ "اسلام اور عیسائیت "کے موضوع پر جنوبی افریقہ کے شہر ممباسہ میں ہونے مباحثہ بڑا مشہور اوردلچسپ ہے ،گھنٹوں گفت وشنید ہوئ،آپ نے بڑے خوبصورت اور فلسفیانہ انداز میں گفتگو فرماتے ہوۓ برناڈشا کو اسلام کی طرف مائل کیا ،برناڈشا پر آپ کی گفتگو کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے آخر میں کہا:”آپ کی گفتگو اتنی دلچسپ اور معلوماتی ہے کہ میں سالوں آپ کے ساتھ رہنا پسند کروں گا مگر بدقسمتی سے میری روانگی کا وقت آن پہنچا ہے "۔

تصنیفات و تالیفات۔

مبلغ اسلام علیہ الرحمہ کی دعوتی و تبلغی مصروفیات کو دیکھتے ہوے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ آپ نے تصنیف وتالیف کے میدان کا رخ کیا ہوگا لیکن اس کو کرامت ہی کہیے کہ مسلسل اسفار اور کثرت کار کے باوجود عربی ،انگریزی اور اردو میں دو درجن سےزائد کتابیں آپ سے یادگار ہیں،جن میں سے کچھ یہ ہیں ۔
عربی تصانیف
١ المراة القادیانیة
٢ ضرائب الحج

انگریزی تصانیف۔
١ اسلام کے اصول
٢ تبلیغ اسلام کے اصول
٣ مسلمانوں کی سائنسی ایجادات
٤ اسلام کی ابتدائ تعلیمات
٥ اسلام میں عورتوں کے حقوق
٦ حقیقی مسرت کی تلاش
٧ اشتراکیت کا مقابلہ کیسے کیا جاۓ ؟
٩ اسلام اشتراکیت کے چیلنج کا جواب دیتا ہے
١٠ مناظرہ مولانا صدیقی اور جارج برناڈشا
١١ تاریخ تدوین فقہ اسلامی
١٢ آئینہ
١٣ علم کا گمشدہ راستہ
١٤ آفاقی مذھب
١٥ سفر مکہ

اردو تصانیف
١ ذکر حبیب اول
٢ ذکر حبیب دوم
٣ بہار شباب
٤ انسانی مسائل کا حل
٥ احکام رمضان
٦ لطائف المعارف
٧ کمیونزم اور اسلام

محدث بریلوی سے عقیدت۔

مبلغ اسلام علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی سے شرف تلمذ ہونے کے ساتھ اجازت و خلافت بھی حاصل تھی،اور بھی بہت سے عظیم بزرگوں سے آپ کو اجازت و خلافت حاصل تھی ،آپ کو سبھی سے عقیدت و محبت تھی لیکن محدث بریلوی سے آپ کا لگاؤ والہانہ تھا جس کااندازہ سترہ اشعار پر مشتمل اس طویل منقبت سے ہوتا ہے جو آپ نے حرمین طیبین سے واپسی پر خود بارگاہ رضا میں حاضر ہو کر پیش کی ۔اس کے کچھ اشعارملاحظہ فرمایں ؛

تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو
قسیم جام عرفاں اے شہ احمد رضا تم ہو

عرب میں جا کےان آنکھوں نے دیکھا جس کی صولت کو
عجم کے واسطے لاریب وہ قبلہ نما ہو

علیم خستہ اک ادنی گدا ہے آستانے کا
کرم فرمانے والے حال پر اس کے شہا تم ہو

اعلی حضرت علیہ الرحمہ بھی آپ کی بہت تکریم فرماتے تھے اور دونوں کے درمیان قلبی محبت ومودت تھی ۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ اپنے اس خلیفہ خاص کے متعلق فرماتے ہیں :

عبد علیم کے علم کو سن کر
جھل کی بہل بھگاتے یہ ہیں

وفات۔

مبلغ اسلام اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے خلیفہ خاص تھے ،اپنے شیخ کی طرح آپ پر بھی عشق کارنگ غالب تھا ،٣٥مرتبہ حج کی سعادت پائ ،دیار مصطفی ﷺمیں حاضری ہوئ لیکن عشق کو اصرار تھا کہ مدفن مدینے میں بنے ،اپنی تقریروں ، تحریروں اور نعتوں میں مرنے کی آرزو کا اظہار کیا کرتے تھے،آپ ہی کا شعر ہر جو ہمیشہ آپ کے ورد لب رہتا:

علیم خستہ جاں تنگ آگیا ہے درد ہجراں سے
الہی کب وہ دن آۓ کہ مہمان محمد ہو ﷺ

طلب صادق ہو تو کیا نہیں ملتا ،آپ کی پوری ہوئ اور ٢٣ذی الحجہ ١٣٧٣ھ مطابق٢٤اگست١٩٥٤ء کو شب دو شنبہ آفاقی دین کے اس آفاقی مبلغ نے٦٣سال کی عمر پار مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا۔خلیفہ اعلی حضرت علامہ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ نے نماز جنازہ پڑھائ اور جنة البقیع میں ام المؤ منین سیدتنا عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اللہ تعالی عنھا کے قدموں میں مدفون ہوۓ اور یوں علامہ اقبال کا یہ "ماہ کامل "ہمیشہ کے لیے روپوش ہوگیا ۔؏
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

آپ کے بعد آپ کے خاندان میں سے جن لوگوں نے عالمی سطح پر دعوت دین کا کام کیا ان میں آپ کے داماد حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمان انصاری بانی ورلڈ اسلامک مشن ،آپ کے صاحبزاے علامہ شاہ احمد نورانی اور آپ کی صاحبزادی ڈاکٹر فریدہ عیلھم الرحمہ کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔

اللہ پاک ان بابرکت ہستیوں پر اپنی رحمت نازل فرماے اور ان کے صدقے ہم سے بھی دین و سنیت کا کام لے ۔

نوٹ ۔اس مضمون کو تیار کرنے میں”مبلغ اسلام نمبر”اور ڈاکٹر غلام یحی انجم صاحب کی کتاب "خانوادہ علیمیہ "سے بطور خاص مدد لی گئ ہے۔

           

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے