سیاست و حالات حاضرہ

سیاست اورسنی مسلمان

تحریر : صادق مصباحی

                                     

پوربی بھارت کے صوبہ آسام میں مولانا بدر الدین اجمل قاسمی نے اپنی سیاسی زمین، کافی مضبوط کرلی ہے۔ ( بقول اُن کے: اگر صوبائی الیکشن میں، کانگریس نے انھیں کچھ اور سیٹیں دی ہوتیں تو شاید آسام کے نتائج بھی کچھ اور ہوتے! )
جمیعۃ العلما اور جمیعت علماے ہند سے منسلک قاسمی وندوی صاحبان، زمانہء دراز سے سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔
مدنی برادران ( مولانا محمود مدنی، مولانا ارشد مدنی) کی سیاسی پکڑ ، جگ ظاہر ہے۔
کیرلا میں مسلم لیگ اور تلنگانہ میں اسد الدین اویسی صاحب بھی بہت حد تک کام یاب ہیں۔
مگر ان سب کے درمیان، جب سُنی بریلوی قیادت پر نظر ڈالیے تو بہت مایوسی ہوتی ہے!
ہمارے علما نے آزادی کے بعد سے ہی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھ کر اس سے دوری بنائے رکھنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اور سیاست کو گندگی سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے سختی کے ساتھ اجتناب کیا۔
حقیر کی معلومات کی حد تک، سید خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ اور مولانا عبید اللہ اعظمی کے علاوہ کوئی نامور سُنی عالم، ممبر آف پارلیمنٹ نہ بن سکا۔ اور یہ بھی ایوان بالا کے ممبر ہوا کرتے تھے، جنھیں پارٹیاں منتخب کرتی ہیں، یہ عوامی طور پر جیت کر پارلیمنٹ نہیں پہنچتے تھے۔
حیرت ہوتی ہے کہ بھارت میں سُنی مسلمانوں کے 80% ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ مگر سیاست میں ہم بلکل زیرو نظر آتے ہیں ! آخر ایسا کیوں؟؟؟

کچھ لوگوں کا کہنا کہ مسلمانوں کو اپنی تعلیمی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے۔
میں بھی مانتا ہوں کہ تعلیم کے بغیر، کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں ۔ مگر تعلیم ہی سب کچھ نہیں ۔ بہت سے کم تعلیم یافتہ بھی اچھے سیاست دان ثابت ہوئے ہیں۔
بھارت کے وزیر اعظم، اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کی تعلیمی حالت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔ اور ان کے علاوہ سیکڑوں ممبران پارلیمنٹ / ایم ایل اے ایسے مل جائیں گے، جن کی تعلیمی لیاقت بہت اچھی نہیں ہے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی قوم کے ہیرو بنے ہوئے ہیں اور اچھے سیاست داں ثابت ہو رہے ہیں ۔
اگر ایسا ہے تو ہمارے لوگ کیوں سیاست نہیں کر سکتے!؟
بھارت واسی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کسی پولیس اسٹیشن میں ایک معمولی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی سیاسی سورس، یا کورٹ کے دخل کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب اپنے نہیں ملتے تو مجبوراً غیروں کی سفارش لینی پڑتی ہے۔ اگر یہ فیلڈ بلکل خالی نہ ہوتی تو ہم پر اتنے ظلم وجبر کے پہاڑ بھی نہیں توڑے جاتے۔
تو کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم اس مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھیں! غور وفکر کریں، عوام کی ذہن سازی کریں، اور اپنے لوگوں کو پرموٹ کریں!؟
ہم کب تلک سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے رہیں گے؟!
ہمارے جلسوں کے پوسٹر پر کب تک یہ لکھا جاتا رہے گا کہ
” جلسے کو سیاست حاضرہ سے کوئی سروکار نہ ہوگا!؟
ہم کب تک غیروں کے در کی خاک چھانتے رہیں گے اور در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے! ؟
ہم کب تک سیکولر پارٹیوں کے جھنڈے اٹھاتے اور بینر ڈھوتے رہیں گے اور ان کے لیے دریاں بچھاتے رہیں گے!؟
اگر یادو، ایس سی، ایس ٹی، کشواہا، راجبھر، برہمن اپنی سیاسی پارٹی بنا سکتے ہیں، تو ہم کیوں نہیں؟
یا ہم ، ان سیکولر پارٹیوں سے حصے داری کی شرط کے ساتھ الحاق کیوں نہیں کرسکتے!؟‏
ہم کب تک مسلم امیدواروں، یا پارٹیوں کو فلانے کی بی ٹیم کہہ کر اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے رہیں گے اور دوسروں کو کمک پہنچاتے رہیں گے!؟
ضرورت ہے سخت محنت کی، سیاسی سوجھ بوجھ کی، اور ہمت مرادانہ کی!
ورنہ ہم عرس وقوالی، چادر گاگر، تعویذ گنڈے ، پیری مریدی تک ہی محدود ہو کر رہ جائیں گے ، اور آئندہ نسلیں ہم پر لعنت ،ملامت کریں گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے