بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک جوہرِ نایاب تھے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : حسین قریشی

نہایت ہی غربت کے باوجود اپنے خوابوں کی بلند منزل کو حاصل کرنے والے , اپنی قابلیت و صلاحیت ، تحقیقات و تخلیقات کے جوہروں سے بھارت کو ایٹمی پاور دینے والے، اور بھارت کے سب سے اعلیٰ و برتر عہدے تک رسائی کرنے والے عالمی شہرت یافتہ  ایک مثالی شخصیت کے مالک  "ڈاکٹرعبدالکلام” تھے۔

بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا تعلق تمل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ انکی پیدائش پندرہ اکتوبر 1931کو رامیشورم میں ہوئی تھی۔ انکا گھرانہ غربت میں زندگی بسر کرتا تھا۔ انکے والد مچھیروں کو ناؤ کرایے پر دیا کرتے تھے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کی ساتھ ہی وہ اخبار تقسیم کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ‘خلائی سائنس’ میں گریجویشن کیا۔ گریجویشن کے بعد  ڈاکٹرعبدالکلام نے دفاعی تحقیقاتی ادارے میں شمولیت اختیار کی۔ جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبد الکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1974میں بھارت کا پہلا میزائل تخلیق کرکے پوری دنیا میں بھارت کو بلند مقام دیا۔ اسی خدمت کے باعث ا انہیں ” میزائل مین” کے نام سے یاد کیا جاتا رہیگا۔ انکی خدمات صرف سائنس و ٹیکنالوجی شعبہ تک ہی محدود نہیں رہی۔ بلکہ انھونے تعلیمی میدان میں اور سیاست میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ انہونے نو جوانوں کو بلند خواب دیکھنے کی ترغیب بھی دی اور انہیں پورا کرنے کی تدابیر بھی پیش کی۔ ابتدائ سے وہ تعلیمی اہمیت و افادیت سمجھاتے رہے۔ یونیورسٹیز ، کالجوں اور اسکولوں کے طالب علموں کی ہمیشہ موثر و عمدہ طرز پر رہنمائی کرتے رہے۔  وہ نوجوانوں کو آگے بڑھکر اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنے کی مثبت ترغیب دیتے رہتے۔  انکی پوری زندگی ایک عمدہ ، موثر اور قابلِ تقلید گزری ہے۔ انکے تجربات سے پوری دنیا استفادہ حاصل کر رہی ہے۔ انہونے اپنی مکمل زندگی کے تجربات، مشاہدات، خیالات اور تخلیقات و تحقیقات کو قلمبند کیا۔ تاکہ رہتی دنیا تک سبھی انکی تعلیمات سے مستفید ہو سکے۔ انکی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتب سرِ فہرست ہیں۔
(The Wings Of Fire Urdu Translate)    پرواز     
(The Vision For The New Millennium)    انڈیا 2020
(My Journey)            میرا سفر     
                                         (Unleashing The Power Within India)     اگنیٹڈ مائنڈر     
 
ڈاکٹر عبدالکلام کی یہ کتب علم کا خزانہ ہیں۔ جسکا ترجمہ نہ صرف بھارتی زبانوں میں بلکہ غیر ملکی زبانوں میں بھی کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر عبد الکلام کے اقوال بالخصوص نوجوانوں کے لیے متاثر کن ہے۔

جس میں ایک جوش و خروش کا مادہ ہوتا ہے۔ جس پر عمل پیرا کرتے ہوئے۔ ہم اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ انکے چنداقوال پیش ہے۔
اپنے مقاصد میں کامیابی کے لئے آپ کو ثابت قدم رہنا ہوگا۔
جب تک آپ اپنی مقرر کردہ جگہ تک نہ پہنچیں لڑائی ترک نہ کریں۔ یعنی ، آپ منفرد ہیں۔ زندگی میں ایک مقصد حاصل کریں ، مستقل طور پر علم حاصل کریں ، سخت محنت کریں ، اور عظیم زندگی کے حصول کے لئے پُرعزم رہیں۔
اگر تم سورج کی طرح چمکنا چاہتے ہو تو، پہلے اسکی طرح جلو۔
جب تک ہندوستان دنیا کے سامنے کھڑا نہیں ہوتا ، کوئی بھی ہماری عزت نہیں کرے گا۔  اس دنیا میں خوف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔  صرف طاقت ہی طاقت کو عزت دیتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام کی گوناگوں کارنامے، مقبولیت اور انکی تخلیقات و تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بھارت کا گیارواں صدر جمہوریہ 26 جولائی 2002 – 24 جولائی 2007
منتخب کیا گیاتھا۔ انہیں اس الیکشن میں  89 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس سے انکی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا۔  اس موقع پر انہوں نے کہا تھا،کہ صدرِ جمہوریہ عہدے کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔  ایک بار صدر منتخب ہونے کے بعد ، وہ سیاست سے بالاتر ہیں۔ صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے ملک کے پیسے کو فضول خرچ نہیں کیا۔ ایک منظم و منصوبہ بند طریقے سے استعمال کیا۔ ڈاکٹر عبدالکلام کی بے لوث خدمت، محنت لگن ، جستجو اور انکی تحقیقات و تخلیقات پر حکومتِ ہند نے انہیں پدم بھوشن اعزاز 1981 میں نوازا گیا۔ اسکے بعد سن 1986میں ایک اور اوم پرکاش پھانس ایوارڈ سے عزت بخشی گئی۔ انکی کارناموں کو سراہنے کے پدم وبھوشن سائنس و انجینئرنگ اعزاز 1990میں دیا گیا۔ اور بالآخر ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارت کی حکومت نے  سن 1997 بھارت کا سب سے بلند اعزاز بھارت رتن سے سرفراز کیا گیا۔ وہ تا عمر ملک کی ترقی کی خاطر جد و جہد میں مصروف رہے۔  اور اپنے زرین دماغ و روشن خیالات سے ملک کے مستقبل کو تابناک کرتے رہے۔
ڈاکٹرعبد الکلام 83 برس کی عمر میں، 27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب دو۔      اپنے قیمتی، انمول روشن خیالات سے مجلس کو آراستہ و پیراستہ کر رہے تھے کہ انہیں اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گر پڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ علاج کے داران وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ بھارت نے اپنا بے مثال و نایاب جوہر کھو دیا۔ جس کی نظیر ملنا نہایت ہی مشکل ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام ہمیشہ اپنے افعال ، کردار، تحقیقات اور شخصیت بناء پر ہمیشہ پوری دنیا میں یاد کئےجاتے رہیں گے ۔
                                                             

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول بھی کالے پڑ گئے

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی مکرمی! یہ بات سب کو معلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔