صحابہ کرام

حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ : عظمت و رفعت

ازقلم۔محمداشفاق عالم نوری فیضی

عزیزان ملت اسلامیہ! الحمدللہ مذہب اسلام میں چند نفوس قدسیہ ایسے بھی ہیں جنہیں بارگاہِ خداوندی اور دربار مصطفی میں خصوصی مقام حاصل ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام عظمت ورفعت والے ہیں، مگر ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک الگ ہی فضیلت واہمیت اور مقام حاصل ہے انکی زندگی کے چند پہلوؤں کو ذکر کیا جاتا ہے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش مکتہ المکرمہ میں واقعہ فیل سےتیرہ سال بعد قبیلہ بنوعدی میں خطاب بن نفیل کے گھر ہوئی۔آپ صحابی رسول اور مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد ہیں۔آپ کا شمار عشرہ مبشرہ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت ملی،ان میں ہوتا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے خسر بھی ہیں۔حضرت سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک ہیں۔آپ کا لقب فاروق اعظم۔کنیت
ابو حفص ہے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ان پاک ہستیوں میں سے ہیں کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو اس وقت قبول کیا جبکہ اس کو قبول کرنا ھزاروں مصیبتوں اور تکلیفوں کو دعوت دینا تھا۔ اس وقت اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا جب اسلام بڑی بے کسی کی حالت میں تھا۔ اللہ تعالی کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جیسے مخلص،جانباز
،پاک بازبندوں پر ناز ہے بلکہ ساری انسانیت کو فخر ہے جنہوں نے حق کو محض حق کے لئے قبول کیا اس کو فروغ دینے اور کمال اور مرتبہ تک پہنچانے کے لیے اپنے وطن چھوڑے ،اپنے خونی رشتے توڑے اور اپنے سر کٹائے۔ قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی ایسے بندوں سے راضی ہو گیا ہے۔

حضرت فاروق اعظم بزبان مصطفیٰ ﷺ :
جن کواللہ تعالی کے محبوب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کریم سے دامن دعا پھیلا کر مانگا تھا جس کو مشرف بہ اسلام ہونے سے کفر کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی تھی۔ باطل کے صنم کدوں میں کہرام مچ گیا تھا اسلام کی بے بسی کا دور ختم ہوگیا اور اس کی شوکت و سطوت کے عہد کا آغاز ہوا تھا ۔جو اپنے مرشد کریم کی نگاہ لطف و کرم کا تارا تھا۔ جسے آغوش نبوت نے بڑے اہتمام اور ناز سے پالا تھا اس کی زبان سے حق گویا تھا ۔ جس کے دل روشن پر انوار الہی کا پیہم نزول ہوا کرتا تھا جس کا سینہ علوم محمد یہ سے معمور تھا۔ جس کا نام نامی آج بھی عدل و انصاف ، دیانت و امانت ، گوئی و بے باکی، جرأت واستقامت کا عنوان بن کر چمک رہا ہے ۔جس کے درے کی ہیبت سے باطل ہر وقت لرزہ براندام رہتا تھا۔جس کے پیوند لگے لباس کے رعب سے شہانے عالم پر کپکپی طاری رہتی تھی۔جس گلی سے گزرتا تھا وہاں سے ابلیس بھاگ جاتا تھا۔جس کی وسیع و عریض سلطنت میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا ۔ جس کا یہ اعلان تھا کہ اگر دجلہ کے کنارے پر کوئی کتا بھی بھوکا مر ےگا تو عمر سے اسکی باز پرس ہوگی ۔جس کی رعایا رات کو آرام کرتی تھی اور خود راتوں کو جاگ جاگ کر پہرا دیا کرتے تھے ۔جس کی درویشی اور کارکردگی نے انسانوں کو عزت نفس اورخود داری کا درس دیا تھا۔ حق گوئی و بےباکی جس کی سرشت تھی وہ خود بھی حق گو تھے اور دوسروں کی حق گوئی سے خوش ہوا کرتے تھے ۔جبھی تو ڈاکٹر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
اے نخیل دشت تو بلند تر
بر نخیزد از تو فاروق دگر

فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ حضور ﷺ کی نظر میں:
حضورِ اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب اللہ تعالی کی توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو مکہ کے مشرکین نے ایک طوفان برپا کر دیا وہی زبانیں جو پہلے مدح کے پھول نچھاور کیا کرتی تھیں اب وہ طعن و تشنیع کے تیر برسانے لگے وہ نگاہیں جو فرط عقیدت سے راہوں میں بچھی جاتی تھی ان سے غیظ وغضب کے شعلے لپکنے لگے ۔ صلہ رحمی،قرابت داری کے سارے رشتے ٹوٹ گۓ۔جور وجفا اور ظلم و ستم کے ایک کربناک دور کا آغاز ہوگیا۔مٹھی بھر مسلمان جو نعمت ایمان سے مالا مال ہوئے تھے وہ اھل مکہ کی اجتماعی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ ہر شخص اپنے اپنے گھر میں عبادت کیا کرتا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر دارارقم میں تشریف فرما ہوتے اور جانثار غلام وہیں شرف دیدار سے مشرف ہوتے ۔اگر چہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے سب مخلص تھے ۔ اور اپنے محبوب کے ادنی اشارہ پر فرعونیوں سے ٹکرا جانے کے لیے تیار تھے لیکن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخلص ساتھیوں کو بلا وجہ اور قبل از وقت غیر ضروری آزمائش میں مبتلا کرنامناسب خیال نہ فرماتے تھے اور روز بروز کفار ومشرکین کی زیادتیاں بڑھتی ہی جاتی تھی ۔

حضور اکرم ﷺکی دعا حضرت عمر فاروق کے حق میں:

  1. حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں۔
    "یعنی جب کبھی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عمر بن خطاب یا ابو جہل کو دیکھتے تو اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ۔اے اللہ ان دونوں میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اس سے اپنے دین کو قوت عطا فرما ۔”(طبقات ابن سعد )
  2. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی ۔” اے اللہ ! اسلام کو عمر سے عزت عطا فرما”۔(مستدرک)
  3. اے اللہ عمر بن خطاب سے اپنے دین کی مدد فرما۔”
    (مستدرک)
    اللہ نے اپنے محبوب کے دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول فرمایا اور اسے دارارقم پرلا کھڑا کیا جہاں اللہ کا حبیب
    اپنے غلاموں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔عرض کی گئی یا رسول اللہ دروازے پر عمر کھڑا ہے اور گلے میں ننگی تلوار حمائل کئے ہوئے ہیں تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا دامن دعا بارگاہِ خداوندی میں پھیلا دیا اور عرض کی۔ ” الہی یہ عمر دروازے پر کھڑا ہے ، میرے مالک عمر کو مشرف بااسلام کر اور اس کے مسلمان ہونے سے اپنے دین کو عزت بخش۔”(ابن سعد)
    ادھر زبان مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ جملہ نکلا اور اللہ تعالی نے عمر کے دل کو نور ایمان سے منور کردیا۔عمر بلا اختیار پکار اٹھے ۔ "اَشۡهَدُ اَنَّكَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ ” اے اپنے خون کے پیاسوں کے لیے ہدایت کی دعا مانگنے والے (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں)۔ مرشد برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر کو اپنے پاس بٹھایا۔ اپنا دست فیض بخش تین مرتبہ ان کے سینے پر پھیرا اور دعا کی۔
    اَللّٰهُمَّ اخۡرُجۡ مَا فِیۡ صَدۡرِهٖ مِنۡ غِلٍّ وَاَبۡدِلۡهُ اِیمَا نًا یَقُوۡلُ ذٰلِكَ ثَلَاثَاً ۔ ” الہی اس کے سینے میں غل وغش ہے اس کو نکال دے اور اسکے بدلے اس کو نور ایمان سے پر کردے ۔آپ نے یہ جملہ تین بار دہرایا۔”
    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنی قسمت پر جتنا ناز کریں کم ہے یہ سعادت ان کے بغیر اور کسی کو نصیب نہ ہوئی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےدامن دعا پھیلا پھیلا کر اپنے رب سے ان کے لیے سوال کیا۔ اور اس لئے اس کو اپنے رب سے مانگا کہ اس کے اسلام لانے سے دین کو عزت و قوت نصیب ہو۔پھر اپنے پاس بٹھا کر ان کے سینے پر بار بار ہاتھ پھیرا اس کو ہر غل وغش سے اور ہر نوع کی قدورت سے پاک صاف کر دیااور اسکے پہلو میں ایمان کی شمع فروزاں کردی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام لانے سے تمام صحابہ نے فرط مسرت اور جوش و خروش سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کۓ جن سے وادی بطح گونج اٹھی۔ آج صرف نبی رحمت ہی خوش نہ تھے صرف صحابہ ہی مسرورنہ تھے بلکہ عالم بالا سے بھی تہنیت کے پیغام آرہے تھے ۔

تعمیل حکم :
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ نے مصر فتح کیا تو ایک دن کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے:اے والی مصر! دریائے نیل ہر سال ایک کنواری اور نوجوان لڑکی کا خون لے کر چلتا ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ یہ سارا واقعہ خلیفہ وقت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھ کر بھیجا۔ جب یہ رقعہ آپ کو موصول ہوا تو آپ نے فورا ایک حکم نامہ دریائے نیل کی طرف لکھا،جس کا مضمون یہ تھا : ( اے دریا! ) اگر تو خود بخود چلتا ہے تو مت چل اگر تجھے اللہ تعالی جاری فرماتا ہے تو میں اللہ واحد اور قہارسے استدعا کرتا ہوں کہ تجھے جاری کر دے۔”گورنر مصر نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا فورا پانی جاری ہوگیا اور معمول سے سولہ گز اونچا پانی چڑھ گیا جو آج تک جاری ہے ۔( تاریخ الخلفاء )

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ پیدل اور غلام سواری پر:
سیدنا فاروق اعظم کو بحروبر کی حکمرانی ملی مگر آج یہ عالم تھا کہ مجسمہ حق و صداقت، علم بردار عدالت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ وہ عظیم شخصیت ہیں جو سنت رسول کا مظہر، عدل و انصاف کے پیکر جنہیں نگاہ مصطفوی نے منتخب فرماکر بارگاہ خداوندی میں دست دعا دراز کیۓ جنکی شمشیر فاروقی سے اسلام کو سربلندی ہوئی ،جن کی کوششوں سے دنیا کے ظلمت کدوں میں اسلام کی شمع روشن ہوئی،مگر قربان جاؤں جب بیت المقدس فتح ہوتا ہے تو آپ فاتحانہ شان سے وہاں داخل ہوتے ہیں،معززین شہر آپ کے استقبال کیلئے آتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ پچیس لاکھ مربع میل کافرمانروا خود تو پیدل چلا آرہا ہے اور غلام سواری پر ہے،اس لیے کہ اب غلام کی باری تھی،لوگ آپ کی اس انصاف پسندی پرعش عش کر اٹھے ۔امیر المومنین نے فرمایا یہ تعلیم ہمارے آقا کی دی ہوئی ہے ۔اس نظارے نے ان لوگوں کے دل کی دنیا ہی بدل ڈالی ۔

حضور اقدس ﷺ کی محبت میں سیدنا فاروق اعظم کابےمثال فیصلہ:
ایک مرتبہ ایک یہودی اور منافق کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ وہ فیصلہ کروانے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہمارا لین دین پر جھگڑا ہو گیا ہے آپ ہمارا فیصلہ فرما دیں۔ چنانچہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فریقین کے بیان سننے کے بعد یہودی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔باہر جاکر منافق کہنے لگا مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں میں تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تسلیم کرونگا۔ یہودی کہنے لگا کہ کوئی شخص بڑی عدالت کے فیصلے کے بعد چھوٹی عدالت میں نہیں جایا کرتا۔جب تمہارے نبی نے فیصلہ فرما دیا ہے تواب فاروق اعظم کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر منافق اپنی بات پر بضد رہا۔چنانچہ یہودی اس منافق کے ساتھ حضرت فاروق اعظم کے پاس چلا گیا اور ان کو فیصلہ کرنے کو کہا۔ یہودی نے کہا اے فاروق اعظم!یہ فیصلہ پہلے عدالت رسول میں ہوچکا ہے، مگر اس منافق نےتسلیم نہیں کیا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بات سنی تو فرمانے لگے،ٹھہرو میں ابھی فیصلہ کرتا ہوں۔ پس فاروق اعظم گھر میں داخل ہوئے اور تلوار پکڑی پھر منافق کی گردن پر یہ کہتے ہوئے چلادی۔ "جو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ نہیں مانتا عمر ان کے لئے یہ فیصلہ کرتا ہے۔”(تفسیر خازن)

حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت:
ایک دن آپ نماز فجرکی امامت فرما رہے تھے،پیچھے صحابہ کرام کی صفیں لگی ہوئی تھیں حالت نماز میں ہی ابو لولو شخص خنجر بکف ہوکرآگے بڑھا اور آپ پر وار کردیا آپ غش کھاکر زمین پر گرگۓ۔اسی زخم کا تاب نہ لاکر یکم محرم الحرام 24ھجری بروز اتوار آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔( اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیۡهِ رَاجِعُوۡن )آپکی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی پھر وصیت کے مطابق آپ کا جنازہ اٹھایاگیا اورحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس پہنچ کر دفن کرنے کی دوبارہ اجازت طلب کی گئی روضہ رسول میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اورسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پہلو میں
حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر مبارک بنائی گئی۔اور اس طرح سے عدل و انصاف کا آفتاب ہمیشہ کے لیے دنیا سے غروب ہوگیا قیامت تک جو بھی مسلمان ‌روضہ رسول پر حاضر خدمت ہوگا وہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما پر سلام بھیجے بغیر آگے نہ بڑھ سکےگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے