نظم

نظم : تم بھی ماری جاوگی

ازقلم : فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان

فتنۂ ارتداد میں مبتلا ہوتی اور غیروں کے ساتھ شادی رچاتی ملت کی بیٹیوں کے لیے درد بھرا پیغام،،،

پہلے چاہت ، پھر نگاہوں سے اُتاری جاؤگی
آبرو بھی جائے گی اور تم بھی ماری جاؤگی

تم پھروگی دَر بَدَر ، رسوائ اور ذلت کے ساتھ
بیٹیو ! جب چھوڑ کر نسبت ہماری جاؤگی

یہ تو اک سازش ہے، ورنہ تم نہیں اُن کو قبول
کل وہی نفرت کریں گے، آج پیاری جاؤگی

جس گھڑی دل بھر گیا ، کوٹھے پہ بیچیں گے تمہیں
داغ لے کر ہوگی واپس اور کنواری جاؤگی

جس کے دَم پر گھر سے نکلی، کل وہ جب دے گا فریب
سوچ لو کس سمت پھر تم پاوں بھاری جاؤ گی

عزت و عظمت گنوا کر منہ دکھاؤ گی کسے
کرتے کرتے دنیا سے تم آہ و زاری جاؤ گی

اترے گا تھوڑے دنوں میں ہی جوانی کا نشہ
ظلم کی آغوش میں جب باری باری جاؤگی

کوئ مذہب دے نہ پائے گا تمہیں ایسا حِصار
چھوڑ کر اسلام کی جب پاسداری جاؤگی

ہے شریعت ہی تمہاری پاسباں اے بیٹیو !
دامن اسلام میں ہی تم سنواری جاؤگی

پیاری بہنو ! عفت و شرم و حیا اپناؤ تو
دیکھنا پھر نورِ حق سے تم نکھاری جاؤگی

تمکو کچھ شکوہ تھا ، تو اپنوں سے کردیتیں بیاں
اِتنے پر ، کیا دوسروں کی تم ” اَٹاری” جاؤگی

آہ دوزخ کو خریدا ، تم نے ایماں بیچ کر
آہ اب روز جزا ، تم بن کے ناری جاؤگی

روتی ہے چشمِ فریدی ، دیکھ کر انجامِ بد
گر نہ سنبھلوگی تو لینے صرف خواری جاؤگی

اَٹاری .. بالاخانہ ، چَھت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے