غزالی دوراں علامہ کاظمی کی عبارت کی تشریح

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : طارق انور مصباحی

غزالی دوراں حضرت علامہ سعید احمد کاظمی (1986-1913)کی ایک عبارت سے بعض لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہورہے ہیں،حالاں کہ اسی مقام پر تفصیل مر قوم ہے۔

آپ نے رقم فرمایا کہ اہل سنت وجماعت ہر دیوبندی وندوی وغیرہ کی تکفیر نہیں کرتے،بلکہ ہم صرف اس کی تکفیر کرتے ہیں جوالتزام کفر کرلے۔یہ بات بالکل صحیح ہے۔

واضح رہے کہ کافر کلامی کے کفریہ عقائد اور اس پر عائدشدہ حکم کفر کا یقینی علم ہونے کے بعد بھی اس کو مومن ماننا التزام کفر ہے۔کافر کلامی کو مومن ماننا کفر التزامی ہے۔

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں متکلمین کے مذہب پر ہیں۔ اس سبب سے ان کے متبعین نے بھی باب تکفیر میں متکلمین کا مذہب اختیار کیا ہے۔

متکلمین صرف التزام کفر کے وقت مجرم کوکافر قراد یتے ہیں،جب کہ بہت سے فقہائے کرام لزوم کفر کی صورت میں بھی مجرم کوکافر قرار دیتے ہیں۔

ماضی قریب میں ندویت کے نام سے ایک نیا مذہب جنم لیا ہے۔اہل ندوہ کسی کی تکفیر ہی نہیں کرتے۔خواہ لزوم کفر کی صورت ہو،یا التزام کفرکی۔یہ ایک باطل مذہب ہے۔

عہدحاضرکافرقہ بجنوریہ دیوبندی نظریات کا مقلد وپیروکارہے۔یہ لوگ قادیانی کو بڑے شوق سے کافر کہتے ہیں، کیوں کہ دیوبندیوں نے اسے کافر کہا ہے،لیکن مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کی تکفیر نہیں کرتے،کیوں کہ دیوبندیوں نے عناصر اربعہ کی تکفیرنہیں کی ہے۔ فرقہ بجنوریہ باب تکفیر میں دیوبندیوں کے مذہب پرہے۔

علامہ کاظمی قدس سرہ العزیزکی عبارت کا بعض حصہ نقل کرکے لوگوں کو غلط فہمی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ فرقہ بجنوریہ اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح اہل سنت وجماعت کے لوگ دیوبندیوں کو مسلمان تسلیم کرلیں،تاکہ دیوبندیوں کے ساتھ میل جول کی راہ ہموار ہوسکے۔

حضرت علامہ کا ظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے اپنی کتاب میں ”الحق المبین“میں بہت سے سوالوں کے جوابات رقم فرمائے ہیں۔بعض مقام سے چند جملے نقل کرکے غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ”الحق المبین“کے ضروری اقتباسات درج ذیل ہے۔

(1)حضرت علامہ سیدشاہ احمد سعیدکاظمی قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:

”ہمارا مسلک ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جوشخص بھی کلمہ کفر بول کر اپنے قول یافعل سے التزام کفر کرے گا تو ہم اس کی تکفیر میں تأمل نہیں کریں گے،خواہ وہ دیوبندی ہویابریلوی،لیگی ہویا کانگریسی،نیچری ہویاندوی۔اس بارے میں اپنے پرائے کا امتیاز کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک لیگی نے کلمہ کفر بولا تو ساری لیگ کافر ہوگئی،یا ایک ندوی نے التزام کفر کیا تو معاذ اللہ سارے ندوی مرتد ہوگئے۔

ہم تو بعض دیوبندیوں کی عبارات کفریہ کی بنیاد پر ہرساکن دیوبند کوبھی کافر نہیں کہتے، چہ جائے کہ تمام لیگی اور سارے ندوی کافر ہوں۔ہم اور ہمارے اکابر نے بارہا اعلان کیا کہ ہم کسی دیوبند یا لکھنو والے کوکافر نہیں کہتے۔

ہمارے نزدیک صرف وہی لوگ کافر ہیں جنہوں نے معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ومحبوبان ایزدی کی شان میں صریح گستاخیاں کیں،اور باوجود تنبیہ شدید کے انہوں نے اپنی گستاخیوں سے توبہ نہیں کی،نیز وہ لوگ جوان کی گستاخیوں پر مطلع ہوکر اوران کے صریح مفہوم کو جان کر ان گستاخیوں کوحق سمجھتے ہیں،اور گستاخیاں کرنے والوں کومومن،اہل حق،اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے ہیں،اوربس۔

ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعی اسلام کی تکفیر نہیں کی۔ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے، اگر ان کوٹٹولا جائے تووہ بہت قلیل اور محدود افراد ہیں۔ان کے علاوہ نہ کوئی دیوبندکا رہنے والا کافر ہے،نہ بریلی کا،نہ لیگی،نہ ندوی۔ہم سب مسلمانوں کومسلمان سمجھتے ہیں“۔
(الحق المبین:ص 26-25-نعمان اکیڈمی خانیوال)

توضیح:منقولہ بالا عبارت میں صرف دوقسم کے لوگوں کی نشان دہی کی گئی ہے کہ ہم صرف دو قسم کے لوگوں کی تکفیرکرتے ہیں۔ایک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا التزام کیا،دوسرے وہ لوگ جوالتزام کفر کرنے والوں کے کفریہ عقائد سے آگاہ ہوکر بھی ان کومومن جانتے ہیں۔ جب کہ بجنوری محققین دونوں قسم کے لوگوں کی تکفیر کلامی سے احتراز کرتے ہیں۔ التزام کفر کرنے والے اشخاص اربعہ کے حق میں بھی محض لزوم کفر کے قائل ہیں۔

کفر کلامی کی تاویل کفر ہے۔ جولو گ مسلک دیوبندکے اشخاص اربعہ کے کفریات کلامیہ کی تاویل کرتے ہیں،اور ان کو مومن مانتے ہیں،وہ یقینا کافرکلامی ہیں۔ معذور صرف وہ لوگ ہیں جوبالکل نا آشنا ہیں،جن کو حقائق کا کچھ علم نہیں۔عناصراربعہ کے کفریہ عقائد اور ان پرعائد کردہ حکم کفر کا جس کو علم ہے،وہ معذور نہیں۔ان لوگوں پر شرعی حکم وارد ہوگا۔

قلیل ومحدود کا مفہوم:

علامہ کاظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے فرمایا کہ ایسے لوگ قلیل اور محدود ہیں۔ اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی کہ صرف چند لوگ پر حکم وارد ہوگا، باقی لوگوں پر وارد نہیں ہوگا۔

اب بجنوری لوگ یہی بتادیں کہ وہ چند لوگ کون ہیں جن پرحکم کفر عائد ہوگا۔جب حضرت علامہ کاظمی قدس سرہ العزیز نے صراحت فرمادی کہ ہم دوقسم کے لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں۔ ایک قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے التزام کفر کیا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جوالتزام کفر کرنے والوں کے کفریہ عقائد اوران پر عائدشدہ حکم کفرسے واقف ہوکر بھی ان کومومن مانتے ہیں تو اس اصول سے واضح ہوگیا کہ کس کی تکفیرکرنی ہے اور کس کی نہیں کرنی ہے۔

التزام کفر کرنے والوں کی تعدادلامحالہ بہت کم ہے،لیکن دوسری قسم کے لوگوں کی تعداد محدود نہیں ہے،بلکہ بہت سے دیوبندی عوام بھی اشخاص اربعہ کے کفریہ عقائداوران پرواردشدہ حکم کفر سے واقف وآشنا ہیں۔بے شمار لوگوں کویقینی اطلاع بھی ہے۔کم ازکم اکثردیوبندی مولویوں کو یقینی اطلاع ضرورہے۔ ایسی صورت میں علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی عبارت کا مفہوم کیا ہے۔یہاں پرقلیل ومحدود کامعنی کیا ہے۔

درحقیقت قلیل ومحدود کالفظ فریق مقابل کی نسبت سے استعمال کیا گیا ہے۔ فریق مقابل یعنی اہل سنت وجماعت کثیرالتعداد اور بے شمار ہیں۔

لوگ برصغیر میں دیوبندیوں کی تعداد دیکھ کرسمجھتے ہیں کہ یہ لوگ بہت زیادہ ہیں،حالاں کہ ایسا نہیں۔اہل سنت وجماعت ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں اور چار بڑے طبقات،حنفی ومالکی،شافعی وحنبلی میں منقسم ہیں۔ جب کہ دیابنہ صرف برصغیر میں ہیں۔ دیگر ممالک میں دیوبندی مذہب کے ماننے والے لوگ موجود نہیں،اسی لیے دیابنہ بیرون ممالک میں خود کواہل سنت کہتے ہیں۔

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاقادری(1272-1340) رقمطرازہیں:

”اس دلیل اعنی سواد اعظم کی طرف ہدایت اللہ ورسول جل وعلیٰ و صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال رحمت ہے۔ہر شخص کہاں قادرتھا کہ عقیدہ کتاب وسنت سے ثابت کرے۔عقل توخود ہی سمعیات میں کافی نہیں،ناچار عوام کوعقائدمیں تقلید کرنی ہوتی، لہٰذا یہ واضح روشن دلیل عطا فرمائی کہ سواد اعظم مسلمین جس عقیدہ پر ہو،وہ حق ہے، اس کی پہچان کچھ دشوار نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وقت میں تو کوئی بدمذہب تھا ہی نہیں اور بعد کو اگرچہ پیدا ہوئے، مگر دنیا بھر کے سب بد مذہب ملا کر کبھی اہل سنت کی گنتی کو نہیں پہنچ سکے“۔
(فتاوی رضویہ جلد یازدہم:ص56-57-رضا اکیڈمی ممبئی)

توضیح:جب تمام بدمذہب فرقے مل کربھی اہل سنت وجماعت کی تعداد کونہیں پہنچ سکے تو صرف دیوبندی فرقہ کے لوگ اہل سنت کے برابر یا ان سے زائد کیسے ہوسکتے ہیں؟

ایسی صورت میں ہر بدمذہب فرقہ، اہل سنت وجماعت کے بالمقابل قلیل اور محدود ہوگا۔

برصغیر میں بھی ہماری کثرت ہے،گرچہ باہمی تنازع کے سبب ہم مختلف خانوں میں منقسم ہیں اور ہماری کثرت تعداد محسوس نہیں ہوتی۔اسی افراتفری کا فائدہ فرقہ بجنوریہ اور فرقہ منہاجیہ کو مل رہا ہے۔وہ بے لگام ہوکرندویت کے فروغ میں مشغول ہیں۔ ان شا ء اللہ تعالیٰ ہم ندویت کے فروغ پر بھی بند باندھیں گے، اورباہمی اتحاد کی بھی کوشش کریں گے۔

(2)حضرت علامہ کاظمی قدس سرہ نے رقم فرمایا:”کفر واسلام میں امتیاز کرنا ضروریات دین میں سے ہے۔آپ کسی کافر کوعمر بھر کافر نہ کہیں،مگر جب ان کاکفر سامنے آجائے تو بربنائے کفر اسے کافر نہ ماننا خود کفر میں مبتلا ہونا ہے“۔(الحق المبین:ص50-نعمان اکیڈمی خانیوال)

توضیح:منقولہ بالاعبارت سے واضح ہوگیا کہ منہاجی وبجنوری محققین میں سے جن کو اشخاص اربعہ کے کفریہ عقائد یقینی علم ہے،اوران پر نافذکردہ حکم کفر سے بھی وہ یقینی طورپر مطلع ہیں، وہ اشخاص اربعہ کوکافرنہ مانیں تو یقینا ان پر حکم کفر عائد ہوگا۔
کفرکلامی کی تاویل بھی کفر ہے۔بجنوری محققین اسی بلا میں مبتلا ہیں۔خود بھی مبتلائے ضلالت ہوئے،اور دوسروں کی ضلالت وگمرہی کا سبب بھی بن گئے۔

جن کی تقدیر میں کفر وضلالت ہے،ہماری تحریر سے ضرور ان کو اذیت محسوس ہوگی، لیکن ہم تو دین مصطفوی کے احکام کی توضیحات رقم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جسے ان تحریروں کے ذریعہ ہدایت عطا فرمانا چاہے،یہ تحریریں انہیں حضرات کے لیے رقم کی جارہی ہیں۔

(3)حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃوالرضوان نے تحریرفرمایا:”احکام شرع ہمیشہ ظاہر پر مرتب ہوتے ہیں،اس لیے جب کسی شخص نے معاذاللہ اعلانیہ التزام کفر کرلیا تو وہ حکم شرعی کی روسے قطعا کافر ہے، تاوقتے کہ توبہ نہ کرے۔ اگر کوئی مسلمان ایسے شخص کوکافر نہیں سمجھتا توکفر واسلام میں امتیاز نہیں کرتا،اور ظاہر ہے کہ کفر واسلام کو معاذاللہ یکساں سمجھنا کفر قطعی ہے،لہٰذا کافر کوکافر نہ ماننے والا یقینا کافر ہے۔

اور اگر بفرض محال ہم یہ تسلیم کرلیں کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے والوں کو کافر نہ کہنا چاہئے،اس لیے کہ شاید انہوں نے توبہ کرلی ہو، اورخاتمہ بالخیر ہوگیا ہوگیا ہوتو اسی دلیل سے مرزائیوں کوکافر کہنے سے بھی ہمیں زبان روکنی پڑے گی،کیوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین سب کے حق میں یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ شاید ان کا خاتمہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان پر مقدر فرمادیا ہوتو ہم انہیں کس طرح کافر کہیں،لیکن ظاہر ہے کہ مرزائیوں کے بارے میں یہ احتمال کار آمد نہیں توگستاخان نبوت کے حق میں کیوں کر مفید ہوسکتا ہے“۔(الحق المبین:ص 51-نعمان اکیڈمی خانیوال)

توضیح:جو حال دیوبندیوں کا ہے,اسی طریقے پر فرقہ بجنوریہ ہے۔فرقہ دیوبندیہ اور فرقہ بجنوریہ قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں,لیکن اشخاص اربعہ کے کفر کی تاویل کرتے ہیں۔

(4)حضرت علامہ کاظمی قدس سرہ العزیزنے تحریر فرمایا:”بعض لوگوں کودیکھا گیا ہے کہ وہ توہین آمیز عبارات پر تو سخت نفرت کا اظہار کرتے ہیں، اوربسا اوقات مجبور ہوکر اقرار کر لیتے ہیں کہ واقعی ان عبارات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے،لیکن جب ان عبارات کے قائلین کا سوال سامنے آتا ہے تو ساکت اور متأمل ہوجاتے ہیں، اور اپنی استادی شاگردی،پیری مریدی یارشتہ داری ودیگر تعلقات دنیوی خصوصاً کاروباری وتجارتی نفع ونقصان کے پیش نظر ان کوچھوڑنا،ان کے کفر کا اقرار کرنا ہرگز گوارا نہیں کرتے“۔
(الحق المبین:ص 51-نعمان اکیڈمی خانیوال)

(5)حضرت علامہ کاظمی نے رقم فرمایا:”اس بحث میں ہمارے مخالفین (علمائے دیوبند)کا ایک آخری سہارا یہ ہے کہ بہت سے اکابر علمائے کرام ومشائخ عظام نے علمائے دیوبند کی تکفیر نہیں کی،جیسے سند المحدثین حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ اورقبلہ عالم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ۔اسی طرح بعض دیگر اکابر امت کی کوئی تحریر ثبوت تکفیر میں پیش نہیں کی جاسکتی۔
اس کے متعلق گزار ش ہے کہ تکفیر نہ کرنے والے حضرات میں بعض حضرات تووہ ہیں جن کے زمانے میں علمائے دیوبند کی عبارات کفریہ (جن میں التزام کفر متیقن ہو)موجود ہی نہ تھیں،جیسے مولانا ارشاد حسین صاحب رام پوری رحمۃ اللہ علیہ۔ایسی صورت میں تکفیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اوربعض وہ حضرات ہیں جن کے زمانے میں اگرچہ وہ عبارات شائع ہوچکی تھیں،مگر ان کی نظر سے نہیں گزریں،اس لیے انہوں نے تکفیر نہیں فرمائی۔
ہمارے مخالفین میں سے آج تک کوئی شخص ا س امر کا ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ فلاں مسلم بین الفریقین بزرگ کے سامنے علمائے دیوبند کی عبارات متنازعہ فیہا پیش کی گئیں اور انہوں نے ان کوصحیح قرار دیا،یا تکفیر سے سکوت فرمایا۔علاوہ ازیں یہ کہ جن اکابر امت مسلم بین الفریقین کی عدم تکفیر کواپنی برأت کی دلیل قراردیا جا سکتا ہے،ممکن ہے کہ انہوں نے تکفیر فرمائی ہو، اورمنقول نہ ہوئی ہو،کیوں کہ یہ ضروری نہیں کہ کسی کی کہی ہوئی ہربات منقول ہو جائے، لہٰذاتکفیر کے باوجود عدم نقل کے احتمال نے اس آخری سہارے کوبھی ختم کردیا:وللہ الحمد“۔(الحق المبین:ص50-نعمان اکیڈمی خانیوال)

توضیح:بجنوری محققین بھی سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ فلاں عالم اہل سنت وفلاں شیخ طریقت نے عناصر اربعہ کی تکفیر نہیں کی۔حضرت علامہ کاظمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس سوال کا جواب بھی رقم فرمادیاہے۔

بعض احباب نے بجنوری محققین کی ٹیم کو ”انجمن تحفظ عناصر اربعہ“کا لقب بھی دیا ہے۔یہ عہد حاضر کا زبردست فتنہ ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

غدار مکار بزدل مفادی مطلبی شیعہ ہی قاتلانِ حسین ہیں (ثبوت و حوالہ جات شیعہ کتب سے)

تحریر: عنایت اللہ حصیر، پاک سوال:شیعہ کو قاتلین امام حسین کہنے والے ارسطو ذھن لوگوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔