تحقیق و ترجمہ تنقید و تبصرہ مذہبی مضامین

شب معراج کے موقع پر بیان کی جانی والی دو مشہور روایات کا تحقیقی جائزہ

تحریر :خلیل احمد فیضانی، جودھپور راجستھان

خیر الرسل علیہ الصلوہ والتسلیم کا فرمان ذیشان ہےکہ ,,خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم یعنی سب قرون سے بہتر میرا قرن ہے پھر اس کے بعد وہ جو اس سے ملا ہو پھر وہ جو اس سے ملا ہوا ہو –
یہ تینوں قرون مشہود بھا بالخیر دیانت و عدالت ,طہارت و پاکیزگی ,خدا ترسی و خداشناسی میں اپنی مثال آپ تھے کیوں کہ ان پاکیزہ ادوار میں ملکوتی صفات نفوس کا ایک جھگمٹا تھا ,کہکشاؤں کی ایک بارات تھی جو ہرآن و ہرلمحہ تسبیح مولا و یاد شہنشاہ ہر دوسرا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں ہی مستغرق رہتی تھی احقاق حق و ابطال باطل ان کی زندگانی کا وطیرہ تھا , دودھ کا دودھ و پانی کا پانی کردینا ان کی سرشت میں داخل تھا اس لیےدین اسلام کی فصیل پر جب بھی کؤی خارجی یا داخلی دشمن حملہ آور ہوتا تو یہ عزیمت المرتبت ہستیاں اس کی بکھیاں اڈھیر کر رکھ دیتیں –
اسلام کو نقصان گو کہ خارجی دشمنوں سے بھی پہونچا لیکن ان سے بھی زیادہ داخلی دشمنوں سے پہونچا کیوں کہ ان کا کفر عیاں تھا لیکن یہ سیاہ بخت اندرونی جراثیم اندرون خانہ ہی دبک کر دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کو حتی الامکان مسخ کرنے کی سعی لاحاصل کرتے,اور اپنے اس ناپاک مشن کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے بعض نے نصف قرآن ہی کا انکار کردیا ,بعض سیاہ رو احادیث کے منکر ہوگٔے بعض کم ظرفوں نے اپنی دکان چمکانے کے لیے بعض احادیث و روایات ایسی گھڑلیں کہ جن سے اسلام کا مقدس چہرہ مجروح ہوتا ہو اور اغیار کو طعن و تجریح کا شوشہ ہاتھ آتا ہو لیکن سینکڑوں رحمتیں ہوں ان پاکیزہ ہستیوں پر کہ جنہوں نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے ان گؤیوں کا پردہ فاش کیا اور ان کے کیدو فریب کی اینٹ سے اینٹ بجادی اس کے اشباہ و نظائر پر تو مستقل کتابیں تصنیف کی ہؤی ہیں مگر یہاں مشتے از خروارے دو روایات حاضر خدمت ہیں جن میں سے ایک موضوع و من گھڑ ت اور ایک درست و صحیح تاکہ آپ قارئین کو بھی معلوم کہ صحیح اور غیر صحیح روایات کی مقبولیت کا تحقیقی معیار کیا ہونا چاہیے –
(۱)یہ روایت زبان زد عام ہے کہ شب معراج کو جب آقا علیہ الصلوہ والسلام عرش اعظم پر پہونچے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنے نعلین پاک اتارنے چاہے کہ آواز آئ:
اے حبیب !نعلین کے ساتھ تشریف لائیں تاکہ عرش کو زینت و عزت حاصل ہوسکے
یہ روایت گو کہ صوفیاےکرام کے نزدیک ثابت ہے لیکن محققین کے نزدیک اس کی کوئی اصل نہیں ہے
اس روایت کے متعلق علامہ مفتی محمد اسماعیل نورانی فرماتے ہیں :بعض صوفیاے کرام کے نزدیک یہ روایت ثابت اور درست ہے -چناں چہ قرآن کریم کی آیت کریمہ ,,انی انا ربک فاخلع نعلیک,,کے تحت تفسیر کرتے ہوۓ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ نے روح البیان جلد ,۷,میں باضابطہ اس روایت کو تحریر فرمایا ہے لیکن علماۓ محققین اور محدثین نے اس روایت کو بالکل بے اصل اور باطل قراردیا ہے چناں چہ علامہ یوسف نبہانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :کہ امام قزوینی سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عرش پر نعلین لے کر تشریف لے جانے اور اللہ تبارک و تعالی کے اس فرمان ,,اے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آپ نے ان (نعلین )کے ذریعے عرش کو شرف بخشنا ہے ,,کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا اس کی کؤی اصل ہے یا نہیں ? تو آپ نے جواب دیا کہ جہاں تک حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عرش پر نعلین لے کر تشریف لے جانے کا تعلق ہےتو یہ غلط اور غیر ثابت ہے –
بعض محدثین نے امام قزوینی کے اس جواب کی بارے میں لکھا کہ یہی درست ہے (انوار الفتاوی , صفحہ : ۱۹۰)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ مذکورہ روایت کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ یہ محض جھوٹ اور موضوع ہے (احکام شریعت ,حصہ: دوم ,صفحہ:۱۶۰)
نیز آپ کے ملفوظات میں ہے کہ یہ روایت محض باطل و موضوع ہے (الملفوظ )
صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ :
یہ مشہور ہے کہ شب معراج حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نعلین مبارک پہنے عرش پر گئے اور واعظین اس کے متعلق ایک روایت بھی بیان کرتے ہیں , اس کا ثبوت نہیں اور یہ بھی ثابت نہیں کہ برہنہ پا تھے لہذا اس کے متعلق سکوت کرنا مناسب ہے (بہار شریعت ,حصہ :۱۶,صفحہ:۶۴۵)
علامہ مفتی شریف الحق صاحب امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ :
نعلین مقدس پہنے ہوۓ عرش پر جانا جھوٹ اور موضوع ہے جیسا کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ,احکام شریعت,حصہ دوم میں تحریر فرمایا ہے (فتاوی شارح بخاری ,جلد:۱,صفحہ :۳۰۶)
ایک مرتبہ آپ سے سوال ہوا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اپ نے اسے موضوع لکھا ہے حالاں کہ علامہ ارشد القادری و دیگر علماء نے اسے تقریر میں بیان کیا ہے اس کے علاوہ یہ کتابوں میں موجود بھی ہے –
آپ نے جوابا فرمایا کہ :اس روایت کے جھوٹ اور موضوع ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ کسی حدیث کی معتبر کتاب میں یہ روایت مذکور نہیں جو صاحب یہ بیان کرتے ہیں کہ نعلین پاک پہنے عرش پر گئے ان سے پوچھیے کہ کہاں لکھا ہے واللہ تعالی اعلم علامہ ارشد القادری مد ظلہ العالی نے یہ کبھی بیان نہیں کیا ہوگا واللہ تعالی اعلم –
(فتاوی شارح بخاری ,ج:۱,ص:۱۰۷)

(۲) اور ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ شب معراج کو جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عرش اعظم پر تشریف لے جانے لگے تو غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ کی روح مبارک حاضر خدمت ہؤی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر اپنے قدمان مبارک رکھے اور عرش اعظم پر تشریف لے گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ:بیٹا!میرے یہ قدم تمہاری گردن پر ہیں اور تمہارے قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہوں گے یہ واقعہ مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے اس لیے ممکن ہو کہ کؤی اور روایت اس روایت سے الفاظ میں متفاوت ہو تاہم متقارب المفہوم ضرور ہوگی
سیدی اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے اس روایت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے مختلف مطالب کو اجاگر کرتے اخیر میں فرمایا کہ :بالجملہ روح مقدس کا شب معراج کو حاضر ہونا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا حضرت غوثیت کی گردن مبارک پر قدم اکرم رکھ کر براق یا عرش پر جلوہ فرما ہونا ,اور سرکار ابد قرار سے فرزند ارجمند کو اس خدمت کے صلہ میں یہ انعام عطا ہونا (کہ تمہارا قدم ولیوں کی گردنوں پر ہوگا )ان میں کؤی امر نہ عقلا اور شرعا مہجور اور کلمات مشائخ میں مسطور و ماثور ,کتب حدیث میں ذکر معدوم ,نہ کہ عدم مذکور ,نہ روایات مشائخ اس طرح سند ظاہری میں محصور اور قدرت قادر وسیع و موفور اور قدر قادری کی بلندی مشہور پھر رد و انکار کیا مقتضاۓ ادب و شعور (فتاوی رضویہ ,جلد :۲۸,صفحہ :۴۱۱,۴۱۲)

مفتی جلال الدین امجدی رضی اللہ تعالی عنہ لکھتے ہیں کہ :
فتاوی افریقہ میں ہے تفریح الخاطر میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم شب معراج حضور غوث رضی اللہ تعالی عنہ کے دوش مبارک پر پاۓ انور رکھ کر براق پر تشریف فرما ہؤۓ اور بعض کے کلام میں ہے کہ عرش بر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے تشریف لے جاتے وقت ایسا ہوا واللہ تعالی اعلم (فتاوی فیض الرسول ,جلد:۱,صفحہ:۱۵۳)
شارح بخاری سے ایک سوال ہوا کہ شب معراج حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ نے پاۓ اقدس حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اپنے کندھے کا سہارا دیا جب کہ وہ موجود نہیں تھے تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا کہ یہاں مراح مراد روح مبارک ہے -واللہ تعالی اعلم (فتاوی شارح بخاری ,ج:۱,ص:۳۱۲)آپ نے روایت کا مطلقا انکار نہ فرمایا بلکہ اس کو روح پر محمول فرمایا اور حقیقت بھی یہی ہے –

علامہ مفتی عبد المنان اعظمی رضی اللہ تعالی لکھتے ہیں :
تفریح الخاطر وغیرہ میں اس وسن کی روایتوں کب ذکر ہے اور عقل شرعی میں اس کا استبعاد بھی نہیں کہ حضور غوث پاک کی روح مبارک اس وقت آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہؤی اور کؤی خدمت بجا لأی -اس روایت کی سند ہمارے سامنے نہیں کہ اس کی کؤی تنقید کریں واللہ تعالی اعلم (فتاوی بحر العلوم ,جلد:۶,صفحہ:۱۷۸)