غزل

غزل: اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

خیال آرائی: ناطق مصباحی

جب ترے دل میں احترام نہیں
اس کی محفل میں تراکام نہیں

مسکرا کر ہی ظلم ڈھاتے ہو
ظالموں میں تمہارانام نہیں

مست کرتے ہواپنی نظروں سے
اپنے ساقی کاکویءجام نہیں

صبح نو ہےمسرتوں کے نام
اب بہاروں کی کوئی شام نہیں

اچھے اچھوں میں بہت اچھےہو
جبکہ اچھوں میں ترانام نہیں

اپنے قاتل کو سزاکیوں دیتا
اس کے جذبہ میں انتقام نہیں

تیری مرضی سے چل نہیں سکتا
وہ ترےباپ کاغلام نہیں

کون اصلاح کرے گا ناطقؔ
آج جب حالی و خیام نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے